محراب پور:مقامی صحافی عزیز میمن کو قتل کردیا گیا۔دھمکیاں مل رہی تھیں،پی پی حکومت پر انگلیاں اٹھنے لگیں

555
محراب پور:قتل کیے گئے مقامی صحافی عزیز میمن کی میت چارپائی پر رکھی ہے

محراب پور(نامہ نگار) محراب پور کے مقامی صحافی عزیز میمن کو قتل کردیا گیا مقامی صحافی کی نعش محراب پور کی گودو مائینر سے برآمد ہوئی جسے مقامی افراد نے نہر میں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی اور محراب پور پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر نعش کو نہر سے نکال کر ضروری کارروائی کیلیے اسپتال منتقل کر دیا مقتول صحافی کو کیمرہ مین اویس قریشی دوپہر میں گاؤں صوفائی سہتہ چھوڑ کر آیا تھا صحافی کو چینل لوگو کی تار کے ساتھ گلے میں باندھ کر قتل کیا گیا۔پولیس ذرائع نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ مقتول صحافی عزیز میمن کو گاؤں میں چھوڑ کر آنے والے کیمرہ مین اویس قریشی کو حراست میں لیکرتفتیش کی جارہی ہے واضح رہے کہ بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ کے دوران مقتول صحافی عزیز میمن کو شہرت ملی تھی مقتول صحافی عزیز میمن نے 200روپے پر آنے والی خواتین جیالوں کی اسٹوری کی تھی اور انکی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی اس ویڈیو کو مختلف چینلز نے آن آیئر بھی کیا تھا اور وزیراعظم عمران خان سمیت مخلتف سیاسی قائدین نے اس ویڈیو کا تذکرہ اپنی تقاریر میں بھی کیا تھا خبر کے بعد مقتول صحافی عزیز میمن کو پیپلز پارٹی اور پولیس کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں جسکا اظہار انہوں نے بارہا کیا تھا اور اسی سلسلے میں مقتول صحافی عزیز میمن نے ایس ایس پی طارق ولایت اور ایم این اے سید ابرار شاہ کیخلاف اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا تھا اور تحفظ کی اپیل کی تھی یاد رہے کہ اس سے قبل بھی گزشتہ سال پڈعیدن کے ایک صحافی علی شیر راجپر کو بیدردی سے قتل کیا تھا جسکا مقدمہ پڈعیدن ٹاؤن کے پی پی پی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سمیت دیگر افراد پر داخل ہوا تھا۔ محراب پور کے سینئر صحافی محمد طارق چودھری،جماعت اسلامی کے ایڈووکیٹ محمود اجن، ڈاکٹر خالد شفیق،نعیم کمبوہ،اور ایڈووکیٹ نعمان طارق،ایڈووکیٹ برہان عزیز نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا مقتول عزیز میمن کے سوگواران میں دو بیٹے، تین بیٹیاں،بیوہ اور 5 بھائی شامل ہیں۔اسلامک لائرز فورم کے صوبائی صدر سینئر ایڈووکیٹ سردار اکبر اجن اور امیر جماعت اسلامی ڈسٹرکٹ نوشہرو فیروز ایڈووکیٹ شبیر خانزادہ نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک ناک قرار دیا ہے ۔

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں صحافی عزیز میمن کی پراسرار ہلاکت سے ضلع فیروز میں خوف پھیل گیا ہے ساتھ پیپلز پارٹی کی حکمرانی پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں۔ ضلع میں پیپلز پارٹی کی مقامی رہنما ورکن سندھ اسمبلی شہناز انصاری کو دن دہاڑے فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر سندھی زبان کے صحافی عزیز میمن کی ہلاکت کے واقعے سے پولیس اور دیگر اداروں کی ” کارکردگی ” پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ ان دونوں یکے بعد دیگر ہونے والے واقعات سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے عام لوگوں کے ساتھ خاص کے تحفظ کے لیے بھی کوئی خصوصی انتظامات نہیں کرتی۔ نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن اسمبلی واقعی دلیر تھی تب ہی تو وہ حکومت کے تشکیل کردہ سندھ پبلک سیفٹی و پولیس کمپلینٹس کمیشن کی اپنی خواہش پر رکن بھی بن گئی تھیں۔ جس سے یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ عام افراد کا تحفظ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتی تھیں۔ 50 سالہ شہناز انصاری رکن سندھ اسمبلی ہونے کے باوجود بہت معصوم ذہن کی شخصیت تھیں تب ہی تو انہوں نے اپنے قتل سے تین دن پہلے ایس ایس پی اور ڈپٹی کمشنر کو اپنے اوپر حملے کے خدشات پر اپنے تحفظ کے لیے خط لکھا تھا۔ مگر پولیس نے ان کی حفاظت کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے۔نتیجے میں وہ قتل ہوگئیں۔ مقامی سندھی اخبار اور ٹی وی چینل سے منسلک صحافی عزیز نے بھی بعض سرکاری اور سیاسی عناصر کی جانب سے مبینہ طور پر دھمکیاں ملنے کے بعد اسلام اباد میں چند ماہ قبل اپنے ساتھی صحافیوں کو اگاہ کیا تھا کہ انہیں چند ماہ قبل ہونے والے ایک بڑی سیاسی جماعت کے مارچ کی رپورٹنگ کے بعد سے دھمکیاں ملنے لگیں ہیں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ان کے واقف کار دوست کا کہنا ہے کہ اس گفتگو کے بعد عزیز میمن کو مزید دھمکی آمیز فون موصول ہوئے تو وہ خوف کے عالم میں واپس اپنے گھر جانے کے بجائے اسلام آباد میں ہی قیام کرنے لگے اور پھر چند روز قبل ہی واپس نوشہروفیروز لوٹے تھے۔ اطلاعات کے مطابق صحافی کی لاش نہر کے قریب مکی ہے اور ان کے گلے کے قریب ایک تار بھی ملا ہے۔ اگرچہ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے ضلع نوشہروفیروز میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والے صحافی عزیز میمن کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے مگر عام تاثر یہ ہے کہ عزیز میمن کی ہلاکت کی وجہ واضح ہونا اور مقتولہ رکن اسمبلی کے قاتلوں کے کیفر کردار تک پہنچنا مشکل ہے۔ دونوں واقعات میں حکومت اور اس کے ماتحت اداروں کی غفلت و لاپرواہی سامنے نظر آنے کے باوجود کسی بھی زمے دار کے خلاف کارروائی کیا جانا بھی !آسان نہیں ہے۔ مگر کیا پولیس یہ بھی معلوم کرسکے گی کہ عزیز میمن سے کن عناصر کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہوکر کم ازکم تین ماہ تک اپنے گھر نوشہروفیروز واپس نہیں گئے تھے ؟۔ یہ سوال اس لیے کیا جارہا ہے یہاں” جس کی لاٹھی اس کی بھینس ” کے مصداق سب کچھ چل رہا ہے اور یہاں قانون صرف اندھا ہی نہیں اب گونگا ، بہرہ اور لنگڑا بھی ہوچکا ہے۔ ۔