سانگھڑ سول اسپتال انتظامیہ نے میڈیا پر پابندی عائد کردی،صحافیوں کا احتجاج

69
سانگھڑ سول اسپتال میں میڈیا پرپابندی کا بینر لگا ہوا ہے ،صحافیوں نے انتظامیہ کے اس اقدام پر شدید احتجاج کیا ہے

سانگھڑ (نمائندہ جسارت) سانگھڑ سول اسپتال انتظامیہ نے میڈیا کوریج پر پابندی عائد کردی، اسپتال کے مختلف شعبہ جات میں بینرز آویزاں کیے گئے، جن پر واضح لکھا گیا ہے کوئی بھی صحافی یا شخص اسپتال کے اندر موبائل سے وڈیو یا تصاویر نہیں بناسکتا۔ اسپتال انتظامیہ اپنی نااہلی اور کرپشن چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے، ایسے عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ایسا عمل آزاد صحافت کا گلہ گھوٹنے کے مترادف ہے، صحافی برادری۔ سول اسپتال انتظامیہ نے میڈیا کوریج پر اسپتال کے مختلف شعبہ جات پر پیمرا رولز آرڈر کا حوالہ دیتے ہوئے میڈیا کوریج پر پابندی عائد کردی، بینرز میں پیمرا آرڈر 18 جون 2019ء کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹیفکیشن نمبر 13(89)/OPS/2018/1374 کے مطابق واضح الفاظ میں لکھا گیا ہے کہ کوئی بھی ٹی وی یا اخبار کا نمائندہ یا شخص اسپتال کے اندر موبائل سے وڈیو یا تصاویر نہیں بنا سکتا، خلاف ورزی کرنے والے کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسپتال انتظامیہ کی نئی منطق علاج معالجے کی شکایات ہیلتھ انتظامیہ کو اسٹامپ پیپر پر دی جائے، جھوٹی شکایات کرنے والوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ بینرز میں چھے ماہ سے دس سال تک کی سزائیں بھی لکھی گئی ہیں لیکن تجویز کردہ سزائیں اسپتال کے عملے اور سرکاری کاموں میں مداخلت کا مرتکب ہونے پر تعین کیا گیا ہے۔ ایسے بینرز اس وقت سامنے آئے جب ایک ہفتہ قبل میڈیا نے اسپتال انتظامیہ کی غفلت، کوتاہی کو سامنے لاتے ہوئے پیرو مل کی رہائشی لچھمی نامی خاتون کو فرش پر بچے کو جنم دیا، اس انسانیت سوز واقعہ کو ہائی لائٹ کیا گیا تو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سانگھڑ نے اس انسانیت سوز واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا، جس پر ایک انکوائری کمیٹی قائم کی گئی، جس سے اسپتال انتظامیہ میں بے چینی اور کھلبلی کی فضا قائم ہونے پر بینرز اور صحافتی امور پر پابندی لگادی گئی ہے۔ اس سلسلے میں سانگھڑ کے صحافیوں نے ردے عمل دیتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کے اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آئینہ ان کودکھایا تو برا مان گئے، اسپتال انتظامیہ اپنی کرپشن کو چھپانے کا سہارا لے رہی ہے۔ صحافی برادری نے اسپتال انتظامیہ کی جانب سے لگائے جانے والی پابندیوں کو آزاد صحافت کا گلہ گھوٹنے کے مترادف قرار دیا۔ اس سلسلے میں شہریوں میں بھی تشویش کی لہر پائی جارہی ہے۔ ڈیمو کریٹک الائنس کے صدر جبار جونیجو نے کہا کہ اسپتال ریفر سینٹر کا کردار ادا کررہا ہے، لوٹ مار کا بازار گرم ہے، شہریوں کو علاج معالجے کی سہولیات دستیاب نہیں مگر انتظامیہ ہٹ دھرمی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا آزاد صحافت پر یقین رکھتی ہے، مگر اسپتال انتظامیہ اپنا قبلہ درست کرنے، عوام کی خدمت کرنے کے بجائے اوچھتے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے، اس عمل کیخلاف جلد اے پی سی میٹنگ منعقد کر کے آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرتے ہوئے احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا 23 روز گزر چکے ہیں، غیر قانونی طور پر سول سرجن ڈاکٹر شگفتہ نسرین چارج چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، حکومت سندھ کے نوٹیفکیشن کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ اس سلسلے میں اسسٹنٹ ڈی ایچ او ڈاکٹر وشن کا مؤقف ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے کوئی بھی ہدایات نہیں دی گئیں، مجھے آویزاں کردہ بینرز کے بارے میں معلومات نہیں اگر بینرز آویزاں کیے گئے ہیں تو سول اسپتال ایڈمنسٹریشن کی پرسنل ہدایات ہوں گی۔ عوام نے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرہ پیچوہو معاملے کا نوٹس لیں اور شہریوں کو ادویات، ایمبولینس اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔