کوالالمپور کانفرنس کے بائیکاٹ کا ازالہ پاکستان میں کانفرنس بلا کر کیا جائے، لیاقت بلوچ

125
ملتان: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

ملتان (نمائندہ خصوصی)جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ کوالالمپور کانفرنس کے بائیکاٹ کا ازالہ کرتے ہوئے پاکستان میں کانفرنس بلائی جائے اور مسئلہ کشمیر پر عالمی دبائو کو بڑھا یا جائے۔ جمہوری تقاضوں کے مطابق موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں رہنے کا حق حاصل نہیں رہا ۔عوام کو خودنئی نسل کا مستقبل محفوظ کرنا ہوگا۔ مہنگائی ، بے روزگاری اور کرپشن کے خلاف 20فروری سے ملک گیر تحریک چلائی جائے گی ۔ انتظامی یونٹس چھوٹے کرنا وقت اور حالات کا تقاضا ہے ۔ ملی یکجہتی کونسل نے مدینے کی ریاست کے قیام کے حوالے سے سفارشات پر مبنی ورکنگ پروگرام تیار کرلیا ہے ۔ سیاست میں ریاست کی مینجمنٹ کی مداخلت بند ہونی چاہیے۔ آٹے اور چینی کا بحران پیدا کرنے والی مافیا حکومتی چھتری کے نیچے بیٹھی ہے۔کشمیر میں کرفیو کو195دن گزرگئے ہیں اس سلسلے میں حکومت پاکستان کی مجرمانہ غفلت سب کے سامنے ہے حکومت اور اپوزیشن کشمیر پر سوتیلا پن ختم کریں۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے ’’ دارالسلام ‘‘ دفتر جماعت اسلامی ملتان میں امیر جماعت اسلامی جنوبی پنجاب رائو محمد ظفر، امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی،خورشید خان کانجو،کنور محمد صدیق،رانا عمر دراز فاروقی،شیخ اسرار حسین کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ طیب اردوان نے پارلیمنٹ میں مجاہدانہ اور عالم اسلام سے گہری وابستگی کے ساتھ مسئلہ کشمیر و فلسطین پر جرأت مندانہ اظہار خیال کیا جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں ۔پاکستان نے کوالالمپور کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے نہ صرف کشمیریوں بلکہ پاکستان کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے جبکہ ترکی، ملائیشیا اور ایران کی لیڈر شپ نے ہمارا ساتھ دیا اور بائیکاٹ پر ناراضگی کا اظہاربھی نہیں کیا ۔ پاکستان اس نا مکمل کانفرنس کی میزبانی کرتے ہوئے اسلام آباد میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرے اور اس کانفرنس میں مسئلہ کشمیر پر بات کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی ،وفاق اور چاروں صوبے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور عوام کو بلدیاتی اداروں کے ذریعے ان کے حقوق دیے جائیں ۔ پنجاب میں جو بلدیاتی نظام دیا گیا ہے اس پر بہت سے لوگ عدالتوں میں پہنچ چکے ہیں ۔ عمران خان اپنی ضد چھوڑیں اور ایسا بلدیاتی نظام دیں جو با اختیار ہو جس میں شہروں، گلیوں، محلوں اور ووٹرز کو اہمیت دی جائے۔ بلدیاتی الیکشن کے سلسلے میں ہم حکومت پر عوامی دبائو بڑھا ئیں گے اگرہمیں حکومت کی نیت پر کھوٹ کا پختہ یقین ہوگیا تو بلدیاتی نظام کے سلسلے میں ہم بھی اعلیٰ عدالتوں کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی بحران بدترین شکل اختیار کرچکا ہے مہنگائی، بیروزگاری، اقربا پروری کی چکی میں عوام پس رہے ہیں غریب عوام کی طرح اب اپر مڈل کلاس کی حالت بھی ابتر ہوچکی ہے۔ زراعت معیشت کی مضبوط بنیاد ہے جس پر حکومت کی کوئی توجہ نہیں ہے ۔ عالمی مالیاتی اداروں کی رپورٹس ہیں کہ زراعت وتجارت کے فروغ سے ہی معیشت مستحکم ہوسکتی ہے ،عمران خان خود تسلیم کرچکے ہیں کہ ملک مہنگائی کی زد میں ہے ان حالات میں عوام کا لاوا کسی بھی وقت پھوٹ سکتا ہے ۔ صنعت کا پہیہ بھی صحیح طرح نہیں چل رہا عوام کی قوت خرید ختم ہوتی جارہی ہے، ان حالات کے پیش نظر مہنگائی، بیروزگاری ، رشوت ستانی اور کرپشن کیخلاف عوامی دبائو بڑھانے کے لیے جماعت اسلامی نے20فروری سے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سیاست میں ریاست کی مینجمنٹ کی مداخلت بند ہونی چاہیے کیونکہ موجودہ حکمت عملی ملک اور قومی وحدت کو منتشر کررہی ہے ۔ سرائیکی صوبے اور سیکرٹریٹ کے قیام کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ انتظامی یونٹس چھوٹے کرنا وقت اور حالات کا تقاضا ہے اگرحکومت اور ریاست ایک پیج پر ہوں تو انتظامی یونٹس چھوٹے کیے جاسکتے ہیں۔