فضل الرحمن، خواجہ آصف پر غداری کے مقدمے کی بات حکومت چھوٹا پن ہے، بلاول

115

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ سنا ہے حکومت نے فضل الرحمان اور خواجہ آصف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، ایسے مقدمات کیے گئے تو یہ حکومت کا چھوٹا پن ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کو انٹرویو میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا کہ ’سنا ہے حکومت نے فضل الرحمان اور خواجہ آصف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے، سیاسی ورکرز اور سیاسی قیادت کے خلاف غداری کے مقدمے کس طرح بنا رہے ہیں؟ ایسے مقدمات کیے گئے تو یہ حکومت کا چھوٹا پن ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ کیا حکومت سیاسی قیادت کو غداری کی مد میں سیاسی انتقام کا نشانہ بنائے گی؟ کس بہانے اِن رہنماؤں کے خلاف غداری کے مقدمے بنائے جارہے ہیں؟ نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کیا ماحول چاہتی ہے یہاں احسان اللہ احسان اور راؤ انور آزاد گھوم رہے ہیں جبکہ سیاسی رہنماؤں کو پابند سلاسل رکھا گیا ہے، یہ غیر جمہوری سوچ اور ہتھکنڈے ہیں کہاں سے کہاں لے جائیں گے۔ یہ جو3شخص جنہوں نے چین کے معاملے میں ہاتھ دکھایا وہ تینوں حکومتی صفحوں میں ہیں۔ آج ایک ایسے وقت میں جب ایک دوست ملک کے صدر یہاں موجود ہیں میڈیا اور عوام کو حکومت فضل الرحمان کے بیان پر لگا رکھا ہے کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہاں 126دن کیا کیا۔ آج واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ آج بھوک اور گھٹن بڑھ رہی ہے ۔ جمہوریت آج جتنی قربانیاں اپوزیشن مانگے کی ہم دیں گے، لیکن پہلے طے کر لیا جائے کہ آرٹیکل6کیلیے جرم کیا ہونا چاہیے ۔ مولانا اسد الرحمان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف آرٹیکل6کے تحت کارروائی کاعندیہ دینے والے آئین اور قانون کے ساتھ غداری کر رہے ہیں، آرٹیکل6کی بات کرنے والے یاد رکھیں کہ اس آئین کو بنانے میں میرے جد امجد نے دستخط کیے۔ بلاول کی والدہ نے شہادت نوش کی۔ میاں نواز شریف کو گلے سے پکڑ کر جیل میں ڈالا،2 تہائی اکثریت والے کو نہیں مانا۔ ہمارے آبائواجداد نے 70سال سے اس ملک میں جمہوریت کیلیے جدوجہد کی ہے، میں حلف کہتا ہوں کہ ہم نے جائدادیں نہیں بنائیں، کوئی میری یا میرے والد کی ایک جائداد دکھا دے۔ آج آپ کے پارٹی کے وزیر پر قتل کا مقدمہ ہے۔ بتایا جائے اس کو کیوں گلے لگایا گیا، میں جمہوریت پسند قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص ہوں، ہم نے کبھی کیلیفورنیا اور دیگر شہروں کا ذکر نہیں کیا،ہم نے سازشیوں اور غداروں کو بے نقاب کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے، آپ نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا۔2018ء کے الیکشن داغدار کیے۔ نے ہم نے پہلے دن اس حکومت کو آئین و قانون مانا ہے نہ اب مان رہے ہیں۔ یہ وزیراعظم پہلے دن سے سلیکٹڈ ہے ہم یہ کہتے رہے ہیں اور کہتے رہیں گے۔ میں الحمد اللہ اپنے اسلاف کی خدمات پر فخر کر سکتا ہوں۔ میرے آبائو اجداد نے اس ملک کی خدمت کی، آرٹیکل ایوان میں لگنا چاہیے تھا، ریاستی اداروں کے خلاف یہ سلیکٹڈ وزیر جب وعدہ معاف گواہ بنا اس پر آرٹیکل 6لگنا چاہیے تھا۔ بجلی کے بل کس نے جلائے۔ پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملے کس نے کیے۔ کیوں نہ ان پر آرٹیکل6لگایا جائے، ہم آج بھی اپنی جانوں کا نذرانے دیکر اس ملک پر آنچ نہیں آنے دینگے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمان پر دھر نے کے حوالے سے مقدمہ قائم کرنے کی بات نہیں کی جا رہی۔ وزیراعظم کے بیان کا سیاق و سباق ہو گا۔ وزیر داخلہ آ کر وضاحت کریں گے۔ تاہم مولانا کے اس بیان کے حوالے سے بات ہو رہی ہے کہ ان سے کس نے یہ وعدہ کیا کہ وہ چلے جائیں حکومت گر جائے گی۔ مولانا کا یہ بیان حکومتی بیانات کی وجہ ہے۔ ہم تو عوام کے اعتماد کے ذریعے آتے ہیں۔ عوام سے وعدہ کر کے آتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کس سے وعدہ کرتے ہیں۔