ملک بھر میں آج “یوم حیا” منایا جارہا ہے

328

کراچی: پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذہبی جماعتیں ویلنٹائن ڈے کو “یوم حیا”طور پر منارہے ہیں۔

دنیا بھر میں جہاں ایک طبقہ سرخ پھولوں کا تبادلہ کرےگا تو وہیں پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا بڑا طبقہ اس کو “یوم حیا ” کےطور پر منائے گا ، یوم حیا منانے کا مقصد محبت کے نام پر ہونے والی فحاشی و عریانی کے خلاف حجاب ، شرم و حیا اور اسلامی اقدار کو پروان چڑھایا جائے گا جس کیلئے مختلف تقریبات منعقد کی گئیں ہیں۔

ویلینٹائن ڈے اصلاً رومیوں کا تہوار ہےجس کی ابتداءتقریباً 1700سو سال قبل ہوئی تھی۔

دوسری طرف پاکستان میں جب ویلنٹائن ڈے کی روایت عروج پر تھی تو جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے اسے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیز میں یوم حیا کے طور پر منانا شروع کردیا ،یوم حیا منانے کی روایت چونکہ زیادہ پرانی نہیں لیکن پاکستان میں بہت اہمیت اختیار کرچکی ہے،جس  کا سہرا اسلامی جمعیت طلبہ کے سر ہے۔

پاکستان میں پہلی  مرتبہ “یوم حیا” منانے کا فیصلہ 9فروری 2009ءکو پنجاب یونیورسٹی میں کیا گیا ،ویلنٹائن کے مقابے میں اس روز   کو “یوم حیا ” کا نام اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پنجاب کے ناظم قیصر شریف نے دیا۔

اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ پنجاب  کے رہنماء قیصر شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں 14فروری 2009 کو جامعہ پنجاب میں ویلنٹائن کی بجائے “یوم حیا “منایا جائے گا ،اگلے سال  جب قیصر شریف جمعیت پنجاب کے ناظم بنے تو انہوں نے “یوم حیا” کو 14 فروری 2010 کے روز پورے صوبے میں جوش وخروش سے منانے کا فیصلہ کیا اور پھر 2011ءمیں پورے پاکستان میں ٰ” یوم حیا”منایا گیا۔

پاکستان میں “یوم حیا”کے بانی قیصر شریف ہیں جو اس وقت جماعت اسلامی پاکستان میں مرکزی ذمہ دار کی حیثیت اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔پاکستان میں 2012ءسے ویلنٹائن ڈے کے روز ہی “یوم حیا”منایا جاتا ہے،اب اس دن کو منانے میں تمام مذہبی اور دین اسلام سے محبت کرنے والے افراد شامل ہوچکے ہیں اب یہ ایک روایت بنتی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ یوم حیا منانے والوں کی بڑی کامیابی میں عدلیہ کا بھی کردار ہے ،گزشتہ سال اسلام آباد ہائی کورٹ نے سرکاری سطح پر ویلنٹائن ڈے منانے اور میڈیا پر اس کی تشہیر کرنے سے روک دیا ہے اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو بھی حکم دیا تھا کہ  وہ عوامی مقامات پر ویلنٹائن ڈے نہ منایا جانے دے۔

عدالت نے اپنے حکم میں وزارت اطلاعات اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے حکام سے کہا تھا کہ میڈیا کو ایسے پروگرام کی کوریج سے بھی روکا جائےاور جو کرے اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔