’’یوم شرم‘‘ منانے کی ضرورت

281

5 فروری کو ’’یوم کشمیر‘‘ منایا گیا۔ ملک بھر کے اندر دینی اور سیاسی جماعتوں نے مظلوم کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بڑے بڑے جلسے، جلوس اور مظاہرے کیے۔ وزیراعظم مودی کے پتلے جلائے گئے، ہاتھوں کی زنجیریں بنائی گئیں، بینرز اور پلے کارڈ اُٹھائے گئے، نعرے اور تقریریں کی گئیں، ہر مقرر نے بھارتی قیادت پر تابڑ توڑ حملے کیے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مذمتی قرار دادیں پاس کی گئیں۔ وزیراعظم عمران خان کا بیان آیا کہ میرا ایمان ہے کہ مودی کے 5 اگست کے اقدام سے کشمیر آزاد ہوگا۔ چیف نے کہا کہ امن اور کشمیر کو بھارت کے ہاتھوں نقصان سے بچانے کے لیے صبر کررہے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
مرد مجاہد مرحوم و مغفور قاضی حسین احمد نے ملتان میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارتی مظالم کا ذِکر کرتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہڑتال کی اپیل کی تھی جو بعدازاں 5 فروری کو ہر سال اہل پاکستان کی جانب سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ’’اظہار یکجہتی‘‘ کی ایک مستقل روایت بن چکی ہے، تاہم 1990ء سے 2020ء تک 30 برس سے ہر سال ہم ’’یوم کشمیر‘‘ بڑے جوش و خروش سے مناتے آرہے ہیں مگر اس دوران مقبوضہ کشمیر کا ایک انچ بھی آزاد کرانے میں نہ صرف ناکام رہے بلکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مزید جارحیت کرتے ہوئے بھارتی آئین کی دفعہ 370 ہی ختم کرنے کا اعلان کردیا جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی اور یوں مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے دیا گیا۔
تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت پورا کشمیر ہی پاکستان کا حصہ تھا کیوں کہ یہ مسلم اکثریتی علاقہ تھا مگر بھارت نے فوج کشی کے ذریعے کشمیر کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا جو ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ کہلایا۔ ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کو بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو خود ہی اقوام متحدہ لے گئے، اقوام متحدہ نے اپنے قراردادوں میں پاکستان اور بھارت کی قیادت کو پابند کیا کہ وہ کشمیر میں رائے شماری کے ذریعے معلوم کریں کہ کشمیری بھارت یا پاکستان میں سے کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی بات کی تاہم بھارتی قیادت جو ان قراردادوں کو تسلیم کرچکی تھی مسلسل انکار کرتی رہی ہے۔ 70 برس سے کشمیری عوام کو استصواب رائے کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ 9 لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ وادی کو گھیرے ہوئے ہے، اغوا، لاپتا، آبروریزی اور قتل سمیت مقبوضہ وادی کے مظلوم کشمیری مسلمانوں کو ہر طرح کے ظلم و درندگی کا سامنا ہے، صرف گزشتہ 20 سال کے دوران بھارت نے ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں کو شہید کردیا ہے۔ 10 ہزار مسلم خواتین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ جب کہ سیکڑوں مسلمان بچے اور بچیاں لاپتا ہیں۔ پیلٹ گنوں کے ذریعے معصوم بچوں کو بینائی سے محروم کیا جارہا ہے۔ مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو اور کریک ڈائون جاری ہے جس کو 6 ماہ گزرنے کو ہیں مگر اِس دوران ’’پاکستانی قیادت‘‘ بیانات کے گولے داغنے کے سوا کچھ نہ کرسکی۔
وزیراعظم اِس قدر ناکام اور خوفزدہ ہیں کہ وہ اب تک ’’مسئلہ کشمیر‘‘ پر مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم ’’او آئی سی‘‘ کا سربراہ اجلاس تک نہ بلوا سکے، ہر روز جنگ کے خلاف لیکچر دیتے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ اگر بھارت کے ساتھ جنگ نہیں ہوگی تو پھر کشمیر کیسے آزاد ہوگا؟۔ جنگ اور جہاد دونوں سے وزیراعظم عمران خان نہ صرف انکار کرتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو ’’جہاد کشمیر‘‘ کرے گا وہ پاکستان اور کشمیریوں کا دشمن ہوگا۔ یعنی بالفاظ دیگر مودی سرکار کے ناجائز قبضے کو مضبوط کرنے کے لیے اِس سے بہتر بات اور کیا ہوسکتی ہے؟۔ جب کہ سپہ سالار بھی یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں کہتے ہیں کہ امن اور کشمیریوں کو بھارت کے ہاتھوں نقصان سے بچانے کے لیے صبر کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب تک امن اور کشمیریوں کی بھارت کے ہاتھوں سے کوئی فائدہ پہنچ چکا کہ مزید نقصان سے بچنے کے لیے صبر کیا جارہاہے۔ کیا موجودہ بدامنی اور نقصان سے بڑھ کر مزید کوئی نقصان بھی ہوسکتا ہے؟ ’’کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا‘‘۔ کا مطلب کیا ہوا، کیا اخلاقی اور سیاسی امداد کو ساتھ دینا کہا جائے گا جب کہ 9 لاکھ فوج مقبوضہ وادی پر قبضہ اور کریک ڈائون جاری رکھے ہوئے ہو؟ آخری گولی تک لڑنے کی بات تو ٹھیک ہے مگر کشمیری پوچھتے ہیں کہ پہلی گولی کب چلے گی، ویسے بھی یہ حقیقت کسی کو معلوم نہیں کہ ’’فوجی قبضے‘‘ کو فوجی طاقت ہی سے چھڑوایا جاسکتا ہے کیوں کہ اگر کشمیر قراردادوں اور ریلیوں سے آزاد ہونا ہوتا تو کب کا آزاد ہوچکا ہوتا۔
اِسی طرح سے ’’دینی قیادت‘‘ نے بھی قوم کو مایوس کیا۔ کنٹرول لائن عبور کرنے کی کوئی ڈیڈ لائن نہ دے سکے یہاں تک کہ اسلام آباد میں موجود بھارتی سفارتخانے کا محض اُس وقت تک بھی گھیرائو نہ کیا جاسکا کہ جب تک مقبوضہ وادی سے بھارت کرفیو ختم نہیں کردیتا۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے کوئی ایک قدم بھی ایسا نہ اُٹھایا جاسکا جس سے بھارت دو قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوجاتا۔ عالمی برادری سے اپیلیں کرنے اور ان کا ضمیر جگانے والی ’’پاکستانی قیادت‘‘ کا اپنا ضمیر کس حد تک جاگا ہے اور انہوں نے اپنے حصے کا فرض کہاں تک ادا کیا ہے یہ بھی ایک سوال ہے جس کا کہیں سے کوئی جواب نہیں مل رہا۔
’’مقبوضہ کشمیر‘‘ کی ہر گلی، دیہات اور شہر کربلا بن چکا ہے مگر کوئی رسم شبیری نبھانے کے لیے تیار نہیں، پاکستانی حکمرانوں اور رہنمائوں کی سیاسی اور اخلاقی امداد کشمیریوں کے ہاتھ پائوں باندھ کر انہیں بھارتی فوجیوں کی سنگینوں کے سامنے ڈال دینے کے مترادف ہے۔ ’’شہہ رگ‘‘ (کشمیر) کو نظر انداز کرکے بقیہ جسم (پاکستان) کا دفاع کرنے کا نظریہ اپنے اندر بہت سے خطرات لیے ہوئے ہے جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر پراکسی وار، ایجنسیوں کے کردار یا ٹریک ٹو ڈپلومیسی سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے پوری قومی قیادت (حکمران، جنرل، اپوزیشن) کو یکسو ہو کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کرنا ہوگا تاہم اگر پاکستان کی قومی قیادت محض بغلیں جھانکتی رہی جیسا کہ اب تک ہوتا رہا ہے تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ جس طرح سے آج مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ قرار دے دیا گیا ہے اس طرح سے اُن علیحدگی پسندوں اور شریر عناصر کو بھی اپنے ناپاک عزائم کو آگے بڑھانے کا موقع مل جائے گا جو کسی ’’بیرونی ایجنڈے‘‘ پر میڈیا کے صفحوں پر رینگتے پھر رہے ہیں۔
بہرحال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر محض نعروں، مظاہروں، ریلیوں اور قراردادوں کے ذریعے مناتے رہنے کو مستقل روایت سمجھ لینا کوئی کامیابی نہیں بلکہ سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ کیا ہوگیا ہے کہ بے پناہ جدوجہد اور ناقابل فراموش قربانیوں کے باوجود 72 برس ہوگئے ہم اب تک مقبوضہ کشمیر کو آزاد کیوں نہیں کراسکے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کو اپنا ’’اٹوٹ انگ‘‘ کہتا تھا اور اُس نے یہ کر دکھایا، مگر ہم اپنی ’’شہہ رگ‘‘ کی حفاظت کرنے میں ناکام رہے۔ اس طرح کی صورت حال ہماری ناکام خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ دینی جماعتیں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ہاتھوں کی زنجیریں بنانے، اپوزیشن تصویریں بنوانے اور حکمران ثالثی کے لیے ہاتھ پھیلانے کو سمجھ رہے ہیں کہ شاید اس طرح سے انہوں نے اپنا قرض اور فرض ادا کردیا، حالاں کہ یہ سب کچھ ناکافی ہے، کشمیر کی بیٹی ابھی ننگے سر اور بھارتی فوجیوں کے حراستی کیمپ میں ہے، معصوم کشمیری بچے کی آنکھوں سے خون بہہ رہا ہے، بوڑھا سید علی گیلانی بار بار نظر اُٹھا کر پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ لہٰذا بہر حال میں ’’کنٹرول لائن‘‘ کو عبور کرنا ہوگا اور اگر ہم ایسا کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر قوم یہ کہنے میں حق بجانب ہوگی کہ ہماری ’’قومی قیادت‘‘ کو آئندہ برس 5 فروری کو ’’یوم کشمیر‘‘ منانے کے بجائے ’’یوم شرم‘‘ منانا چاہیے کہ ہم بھی کوئی آزاد قوم اور ایٹمی طاقت ہیں جو اتنی جرأت اور غیرت کا مظاہرہ بھی نہیں کرسکتے کہ جتنی مقبوضہ وادی کے مظلوم کشمیری عورتیں اور بچے کررہے ہیں۔ گیدڑ کی سوسالہ زندگی جینے کے شوق نے ہمارے سائے کو بلی کی شکل میں تبدیل کردیا ہے۔ خدا ہم پر رحم کرے اور ہمیں کچھ شرم آئے کہ جب تک ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ آزاد نہیں ہوجاتا تب تک کم از کم ’’یوم شرم‘‘ تو مناتے رہیں۔