کون سی کتاب پڑھی جائے

179

صدر مملکت عارف الرحمن علوی نے فرمایا کہ وہ ایوان صدر میں آنے کے بعد پینتیس کتب کا مطالعہ کرچکے ہیں اور رہنمائی کے لیے انہوں نے ان میں سے دس کتابوں کی ترجیحی فہرست بھی بتا دی ہے‘ بہت خوب‘ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلے صدر ہیں جنہوں نے باقاعدہ یہ بات تسلیم کی کہ ایوان صدر میں انہوں نے پینتیس کتابوں کا مطالعہ کیا ہے‘ صدر پاکستان ایک سیاسی کارکن بھی ہیں‘ تحریک انصاف کے صف اول کے رہنماء ہیں‘ دو بار قومی اسمبلی کے رکن رہے ہیں‘ ہمارے ہاں عمومی طور پر جب کوئی سیاسی کارکن یا سیاسی رہنماء جیل جائے تو خبر ملتی ہے کہ جیل میں انہوں نے کون سی کتاب کا مطالعہ کیا ہے اب صدر مملکت تو ایوان صدر میں ہیں‘ اسی لیے جیل اور ایوان صدر کا فرق انہی پر چھوڑ دیتے ہیں۔ تحریک انصاف جب اقتدار میں لائی گئی تو وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ ریاست مدینہ جیسا نظام یہاں لائیں گے۔ ریاست مدینہ میں نظام یہ تھا کہ پہلی مسجد جگہ کی قیمت ادا کرنے کے بعد تعمیر ہوئی‘ مسجد کی تعمیر کے لیے متعدد معزز صحابہ کرام آگے آئے کہ مسجد کے لیے اراضی تحفہ دینے کو تیار ہیں مگر آقائے دو جہاں کا حکم تھا کہ مسجد قیمت ادا کرنے کے بعد تعمیر ہوگی‘ ریاست مدینہ جیسی زندگی لانا اور اس جیسا نظام لانا اور اس کی پیروی کرنا بحیثیت مسلمان ہماری ذمے داری بھی ہے اور حکم بھی کہ یہی نظام عدل ہے۔ اس نظام میں انصاف ہے اور اسی نظام میں سود سے پاک معیشت ہے اور یہی نظام طاغوت کی غلامی سے نجات دلاتا ہے۔ ہمیں خوشی ہوتی کہ اگر صدر پاکستان کی جانب سے یہ اطلاع ملتی کہ وہ ریاست مدینہ قائم کرنے کے لیے قرآن اور حدیث کا مطالعہ کر رہے ہیں‘ یقینا وہ ہر روز قرآن حکیم کی تلاوت اور احادیث کی کتب کا مطالعہ کرتے ہوں گے کہ وہ فطری پر طور ایک نفیس انسان ہیں لیکن ہمیں خوشی ضرور ہوتی اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ کے قیام کے لیے وہ قرآن اور احادیث سے رہنمائی لے رہے ہیں اور عوام سے بھی اپیل کرتے کہ وہ انہی کا مطالعہ کرکے حکومت کی رہنمائی کریں تاکہ ریاست مدینہ کے قیام میں حکومت اور عوام دونوں ہی شامل ہوجائیں۔
جناب صدر ذی وقار! یہ بات یقینا آپ کے علم میں ہوگی کہ ملک میں قبضہ مافیا بہت سرگرم عمل ہے‘ جہاں خالی پلاٹ دیکھا‘ وہاں ایکسائز ڈیپارٹمنٹ سمیت بہت سے قبضہ مافیا کے لوگ آدھمکتے ہیں‘ ہمیں یقین ہے کہ ملک میں قبضہ مافیا کو کسی نہ کسی اہم شخصیت اور سرکاری اہل کار کی آشیر باد ہوتی ہے اس کے بغیر یہ کام ممکن ہی نہیں‘ ایل ڈی اے سے لے کر کے ڈی اے تک اور سی ڈی اے سے لے کر ایم ڈی اے تک قبضہ مافیا کی کہانی ہے اور دکھ یہ ہے کہ کوئی حکمران بھی متاثرین کی کہانی سننے کو تیار نہیں ہے ہاں ریاست مدینہ میں یہ بھی ہوتا تھا کہ ریاست نے کسی یہودی سے قرض نہیں لیا تھا‘ جب مسلمانوں کو پانی کی قلت ہوئی اور سیدنا عثمان غنیؓ نے کنواں خریدا اور مسلمانوں کے لیے وقف کردیا مگر یہاں کیا ہو رہا ہے؟ آٹے کی قلت پیدا ہوئی تو بہت سے ایسے نام سامنے آئے جو حکومت میں ہیں‘ چینی کی قلت میں ایک مافیا ملوث ہے یہ مافیا کون ہے؟ ہم کچھ نہیں کہتے‘ سرکار کے پاس سارے اختیارات ہیں پتا چلائے یہ مافیا کون ہے؟
ریاست مدینہ میں یہ تصور تک نہیں تھا کہ پروٹوکول کے لمبے لمبے قافلے ہوں‘ ایک رات یہ افواہ پھیل گئی کہ ریاست مدینہ پر دشمن حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہا ہے اور دشمن تقریباً شہر کے باہر تک آگیا ہے‘ ریاست مدینہ کے سربراہ آقائے دو جہاں‘ ان پر میں‘ میرے ماں باپ اور‘ میری اولاد قربان‘ تنہاء اٹھے اور پورے شہر کا چکر لگایا تسلی کی کہ کوئی خطرہ نہیں ہے واپس آکر لوگوں کو بتایا کہ سو جائیں‘ کوئی دشمن نہیں ہے‘ جی یہ ہیں ریاست مدینہ کی چند مثالیں۔
ہمارے ہاں ایک وزیر اعظم گزرے ہیں‘ تین بار وہ وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچے‘ جناب سعود ساحر نے ان سے پوچھا تھا کہ کون کسی کتاب ایوان وزیر اعظم میں پڑھی ہے جواب دیا‘ ’’تین بار وزیر اعظم بنا ہوا‘ کتابیں پڑھ کر آدمی وزیر اعظم نہیں بنتا‘‘۔ وزیر اعظم عمران خان کا پہلا مقدمہ تو یہ تھا کہ لوگ دراصل ٹیکس دیتے ہیں لیکن اس میں چوری ہوجاتی ہے، چوروں کا پیٹ اتنی چوری سے نہیں بھرتا اور یوں وہ چور قرض لیتے ہیں اور پھر وہ قرض میں بھی چوری کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے جلسوں میں للکارتے نظر آتے تھے کہ اصل مسئلہ وسائل کی عدم دستیابی نہیں بلکہ ان میں خورد بُرد ہے۔ وہ محیرالعقول اعداد و شمار بتاتے رہے اور ان کے پیروکار ان کی اس دھن کو ہی پکا راگ سمجھ کر اس پر سر دھنتے رہے، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اپوزیشن میں انسان کو کچھ بھی کہنے کی آزادی ہوتی ہے بھلے وہ کسی سرکاری افسر کو اپنے ہاتھ سے پھانسی لگانے کی بات ہو یا بجلی کے بل نذر آتش کرنے کی ترغیب۔ اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے کے بعد ابتدائی عرصہ تو عمران خان اسی جیٹ لیگ کا شکار رہے اور سابقہ حکومتوں کے لیے گئے قرض کی چھان بین کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیتے رہے گویا بیرونی و اندرونی قرضے براہ راست سابق حکمرانوں کے اکاوُنٹس میں ہی کریڈٹ ہوتے تھے۔