جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

532

مفتی شکیل منصور القاسمی، صدر مفتی سورینام جنوبی امریکا، سلطنتِ عثمانیہ کے زوال کے اسباب میں لکھتے ہیں کہ: ’’سلطنت ِ عثمانیہ باہمی اختلافات، غیر ملکی قرضوں کے غیر معمولی بوجھ، مالی بد عنوانیوں، بے اعتدالیوں کے رواج، درباری غلام گردشوں اور سازشوں کی وجہ سے اندرونی طور پر کھوکھلی اور مالی طور پر خستہ حال ہو چکی تھی۔ صہیونیوں کا وفد سلطان عبدالحمید کے پاس ایک دو نہیں بلکہ مختلف بہانوں سے مختلف اوقات میں تین بار آیا اور فلسطین میں آباد ہونے، تعلیمی ادارے کھولنے اور آخری ملاقات میں دو گنی چوگنی قیمت کے عوض فلسطین کی اراضی خریدنے یا سارا ملکی قرضہ اتارنے کے لیے کھربوں کی رقم کی پیش کش کی لیکن سلطان عبدالحمید جرات، حمیت، غیرت اسلامی اور دور اندیشی کے سبب ان کے یہودی آباد کاری جیسے مکروہ عالمی صہیونی عزائم سے واقف تھے اس لیے انہوں نے اس کی اجازت نہ دی، جس کی وجہ سے ان کے زمانے میں یہودی ایجنڈے کی تکمیل نہ ہو سکی جس کی بعد سے ان کی خلافت کے خلاف سیاسی تحریک کی آبیاری کی جانے لگی اور عوام کو خلافت کے خلاف اکسانے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ صہیونیوں نے مختلف عرب گروپوں میں عصبیت ابھارنے کے لیے نجد پر صدیوں سے حکمرانی کرنے والے آلِ سعود اور ترکوں کی طرف سے متعین کردہ مکہ کا والی حسین بن علی (شریفِ مکہ) کو سلاطینِ عثمانیہ سے علیحدگی اور بغاوت پر اکسایا، شریفِ مکہ کو ترکوں سے بغاوت کرنے اور اس کی افواج کو حجاز سے نکال باہر کرنے کے عوض حجاز کے امیر المومنین بنائے جانے کا خواب دکھلایا جبکہ آل سعود کو نجد کے علاوہ دیگر علاقوں پر حکومت کا لالچ دیا گیا۔ شریفِ مکہ نے 1817 میں خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کردی۔ جب دونوں گروپوں کی بغاوت سے عرب دنیا خلافت عثمانیہ کے دائرے سے باہر ہوگئی تو اب برطانیہ نے 1924 میں سعود کے بیٹے عبدالعزیز کو نجد کے ساتھ حجاز کا علاقہ دیدیا اور سعودی حکومت قائم ہو گئی۔ ساتھ ہی ساتھ شریفِ مکہ کے ایک بیٹے کو عراق اور دوسرے کو اردن پر متمکن کر دیا‘‘۔
آگے چل کر مفتی شکیل منصور القاسمی، صدر مفتی سورینام جنوبی امریکا، لکھتے ہیں کہ: ’’خلافت عثمانیہ کے ڈوبتے سورج کے تحفظ کے لیے علمائے دیوبند نے ہندوستان میں بے مثال سعی کی۔ اس کے لیے ہندوستان میں تحریک چلائی گئی۔ نجدیوں کی حکومت کی تائید سلفیوں کی طرف سے ہوئی جبکہ احمد رضا خان بریلوی نے خلافت عثمانیہ کے خلاف شریفِ مکہ کے فتوے پر دستخط و تائید کی‘‘۔
اوپر لگھے گئے تاریخی حوالے کو اگر سامنے رکھا جائے اور اس کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ پرکھا جائے تو یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ صہیونی سازش ایک تواتر کے ساتھ جاری ہے اور اپنے مقاصد کی جانب مسلسل آگے کی جانب رواں دواں ہے۔ آج سے تقریباً 100 سال پہلے اور اس وقت کے حالات میں کوئی بہت زیادہ فرق نہیں۔ خاص طور سے پاکستان کے حالات تو ویسے ہی ہیں جیسے آج سے ایک صدی قبل پوری مسلم امہ کے تھے۔ آج پاکستان نہ صرف قرضوں، فرقوں اور اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہے بلکہ یہودیوں کے ڈالروں کی پیش کشوں کی زلفِ گراہ گیر میں بری طرح الجھا ہوا بھی نظر آتا ہے۔ ایک جانب تو ملک چلانے کے لیے اسے عالمی مالیاتی اداروں سے قرض پر قرض لینا پڑ رہا ہے تو دوسری جانب نہ صرف بیرونی سازشیں پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے درپے ہیں بلکہ اندرونی عصبیتیں اور فرقہ واریت پاکستان کے لیے ایک عفریت کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔ ان سب حالات کا فائدہ اسرائیل سمیٹنا چاہتا ہے اور پاکستان کو تمام تر مالی مشکلات سے باہر نکالنے کا لالچ دے کر بالکل اسی طرح پاکستان کو تباہ برباد کر دینا چاہتا ہے جیسے ماضی میں مسلمانوں کی تین براعظموں پر پھیلی ہوئی سلطنت کو پارہ پارہ کر کے رکھ دیا گیا تھا۔
پاکستان کا ایک ایک بچہ اس بات سے واقف ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ بیوی نے طلاق ہوجانے کے باوجود حکومت پاکستان کو اس بات کی پیش کش کی ہے کہ وہ پاکستان کے نہ صرف سارے قرضے اتار سکتی ہیں بلکہ وہ پاکستان کو خوشحالی کی جانب لیجانے کے لیے مزید بہت کچھ بھی کر سکتی ہیں۔ یہ بات تو نہایت سامنے کی ہے کہ تنہا سابقہ و طلاق یافتہ عورت خود تو اتنی امیر نہیں ہوگی کہ وہ پورا پاکستان ہی خرید سکتی ہو، اس کی پشت پر پورا اسرائیل ہی ہوگا تبھی اس نے ایسی پیش کش کی ہوگی۔ جیسا کہ مفتی صاحب نے اپنی تحقیق میں لکھا ہے کہ اس وقت بھی یہودیوں کی جانب سے اس وقت کے سلطان عبدالحمید کو اسی قسم کی پیش کش کی گئی تھی اور آج بھی ٹھیک اسی انداز میں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی نظر آ رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اب تک جتنے بھی حکمران پاکستان پر مسلط ہوئے یا کیے گئے ان میں جاہ و حشمت اور مال و دولت کی محبت کوٹ کی کوٹ کے بھری ہوئی تھی اسی لیے وہ بساط بھر خود بھی اپنے آپ کو بیچتے رہے اور پاکستان کا سودا کرنے کی کوششیں بھی کرتے رہے لیکن پاکستان کو بالکل بیچ دینے کی جرات اس لیے نہ کر سکے کہ یہاں کے عوام کی اکثریت اس قسم کے کسی بھی سودے کاری کے خلاف جان تو دے سکتی ہے مگر پاکستان کی ایک انچ زمین کو فروخت ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔ موجودہ حکومت کا بھروسا تو نہیں کہ وہ کیا کر گزرے لیکن اسے اس بات کا خوب اچھی طرح ادراک ہے کہ اگر اس نے کسی بھی قسم کے لالچ میں آکر کوئی غلط فیصلہ کر لیا تو ممکن ہے انجام بہت خراب ہو۔ یہ سب باتیں پاکستان کے حق میں بے شک بہت مثبت ہی سہی لیکن ماضی کی سلطنتِ اسلامیہ کی طرح یہودیوں اور عالمی سازشیں اس بات میں ضرور کامیاب ہیں کہ انہوں نے اندرونی طور پر اپنے ’’مددگار‘‘ ضرور تلاش کر لیے ہیں جو پاکستان کے لیے ایک نہایت خطرے کی بات ہے۔ اندرونی اختلافات اتنے زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آنے لگے ہیں کہ ان پر پردہ ڈالنا اب ممکن نہیں رہا ہے۔ علاقائی، لسانی اور صوبائی عصبیتوں سے کہیں خطرناک صورت حال ملک میں کرپشن مافیا کی ہے جو نہ صرف ملک کو معاشی اعتبار سے کھوکھلا کیے دے رہی ہے بلکہ یہ سب مافیائیں اب اس نہج تک آن پہنچی ہیں کہ وہ کسی بھی وقت ملک کی معیشت ہی کا نہیں، پورے پاکستان کا پہیہ جام کر سکتی ہیں۔ اگر حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ وہی صورت حال ہے جو آج سے 100 برس پہلے سلطنتِ اسلامیہ کو در پیش تھی۔
پاکستان نے بے شک اب تک یہودی پیشکش کو کسی بھی سطح پر قبول نہیں کیا ہے لیکن پاکستان کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ اندرونی طور پر پاکستان کافی حد تک تقسیم کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کی سرحدیں تو کافی عرصے سے غیر محفوظ تھیں، اندرونی طور پر بھی امن و امان کی صورت حال غیر یقینی کا شکار ہے۔ ارباب اختیار اور مسند اقتدار پر براجمان افراد بھی تقسیم کا شکار نظر آتے ہیں اور وہ حکومت جو کچھ عرصہ پہلے تمام اداروں کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر کھڑی دکھائی دیتی تھی، اس حد تک کھنچاؤ اور تناؤ کا شکار نظر آتی ہے کہ خود اس کی اپنی صفوں میں بھی اضطراب و انتشار صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ مثال کے طور پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا یہ بیان کہ ملک میں مہنگائی سے میں بھی اتنا ہی پریشان ہوں جتنا عام آدمی پریشان ہے، 2 سال میں 22لاکھ لوگوں کا بے روزگار ہونا تشویشناک ہے۔ آٹا بحران پر گورننس کا مسئلہ رہا ہے، ذمے داروں کی چھٹی ہونی چاہیے۔ بے شک یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے لیکن کیا ایسا کچھ اچانک سامنے آیا ہے۔ ملک میں مہنگائی، معیشت کی بدحالی اور خراب حکمرانی پر ملک کے صدر کو بہت پہلے گہری نظر رکھنی چاہیے تھی۔ برے وقت میں اپنی حکومت کے خلاف بولنا نہ صرف شکست خوردگی کی علامت ہے بلکہ بندر کی بلا تویلے کے سرڈال دینے والی بات لگتی ہے۔ اس بیان سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ارادی یا غیر ارادی طور سے ہم اسی قسم کی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں جس قسم کی سازشوں کا شکار سلطان عبدالحمید ہوئے تھے یعنی یا تو امداد کی پیشکش کو قبول کرو یا پھر پاکستان کو غیر مستحکم کروانے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق صوبے میں اراضی کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل لائز کرنے کے بجائے پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے اصلاحات کے نام پر لینڈ ریونیو ڈپارٹمنٹس میں دوبارہ پٹواری نظام متعارف کروانے کا آغاز کردیا ہے۔ اس ضمن میں پنجاب لینڈ ریونیو اتھارٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے میڈیا کو بتایا کہ پنجاب بورڈ آف ریونیو نے ضلعی کمشنرز کو ہر ضلع میں ریونیو کے 2 حلقے مختص کرنے کا کہا ہے جسے قانون گوئی کہا جاتا ہے اور اسے تحصیل دار اور پٹواری کنٹرول کریں گے۔
ان تمام تجزیوں کی روشنی میں یہ بات کہنا کہ ایک صدی قبل سلطنت اسلامیہ کو جس صورت حال کا سامنا تھا، کم و بیش اسی قسم کے حالات بالعموم پوری ملت اسلامیہ اور بالخصوص پاکستان کو در پیش ہیں۔ ان حالات کی روشنی میں یہ بات بہت ضروری ہے کہ تمام پاکستان کو ’’ایک‘‘ ہونا پڑے گا۔ پاکستان کو ایک رکھنے والی فی الحال ایک ہی ’’طاقت‘‘ ہے لیکن ان سے جان کی امان پانے کی درخواست کرتے ہوئے اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ زمین پر تو بے شک بزور شمشیر حکومت قائم کی جا سکتی ہے مگر دل طاقت سے نہیں، محبت سے ہی مسخر ہوا کرتے ہیں۔ بات بہت چھوٹی سی ہے لیکن اس کی حقیقت زمین و آسمان کی وسعتوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ سمجھ لیں تو بیڑا پار ورنہ (ہزاربار خدانخواستہ) معاملہ آر پار۔