حافظ سعید کو 11 سال قید کی سزا سنادی گئی

380

لاہور: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نےجماعت الدعوۃ کےسربراہ حافظ سعید کو دو مقدمات میں مجموعی طور پر 11 برس قید کی سزا سنادی۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نےکالعدم جماعت الدعوۃ کےسربراہ حافظ سعید کو دو مقدمات میں 11 سال کی سزا سنائی ہے۔حافظ سعید کے علاوہ ان کی جماعت کے ایک اور رہنما ظفر اقبال کو بھی دو مقدمات میں 11 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

برطانوی ویب سائٹ بی بی سی کے مطابق حافظ سعید اور اُن کے ساتھی ظفر اقبال پر دہشت گردی کیلئے رقم جمع کرنے یعنی غیر قانونی فنڈنگ کرنے اور کالعدم تنظیم کےرکن ہونے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔

عدالتی حکم کا عکس

عدالت نے لاہور اور گوجرانوالہ میں درج مقدمات میں ملزمان کو الگ الگ ساڑھے 5 برس قید کی سزا سنائی ہے جبکہ ان پر 15 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

جج ارشد حسین بھٹہ نے حافظ سعید کو انسداد دہشت گردی کی دفعہ 11ایف 2 اور 11 این کے تحت سزا سنائی ہے۔ قانونی ماہرین کےتحت انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ الیون ایف ٹو دہشت گردی کیلئے مالی معاونت اور الیون این کسی کالعدم تنظیم کےرکن ہونے کے بارےمیں ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حکم دیا کہ دونوں سزاؤں پرعملدرآمد ایک ساتھ شروع ہوگا۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے خلاف قانونی داد رسی کیلئے مجرمان کے پاس اپیل کا حق ہے اور یہ اپیل متعلقہ ہائیکورٹ میں دائر کی جا سکتی ہےجس پر ہائیکورٹ کے ججوں پرمشتمل دو رکنی بنچ سماعت کرے گا۔

دوسری جانب حافظ محمد سعید اور ظفر اقبال اس وقت گرفتار ہیں اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ سعید اور پروفیسر عبدالرحمان مکی سمیت 5 اہم رہنماؤں کے خلاف مزید چار مقدمات پر بھی کارروائی شروع کردی ہے۔

حافظ سعید سمیت دیگر رہنماؤں پر غیر قانونی فنڈنگ کے الزام میں دسمبر 2019 میں فرد جرم عائد کی گئی تھی اور اس موقع پر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے اپنے خلاف الزامات کو بےبنیاد قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ الزام عالمی دباؤ کی وجہ سے لگایا گیا ہے۔

حافظ محمد سعید سمیت دیگر کے خلاف یہ مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کے محکمے نے درج کیا تھا جبکہ انھیں پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے 17 جولائی 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا۔