ہم نےملک کی بہتری کے لیے  سخت فیصلے کیے، عبدالحفیظ شیخ

171

اسلام آباد:مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ سابقہ حکومتوں نے  کی جانب سے سخت فیصلے نہیں کیے گئے لیکن ہم نے ملک کی بہتری کے لیے  یہ کام کیا، سخت بجٹ دیا اور سخت اہداف رکھے۔

تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو  ہم پر تنقید کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ہم آئی ایم ایف کے پاس خوشی سے نہیں  گئے بلکہ حالات نے مجبورکیا جبکہ سابقہ حکومتوں  کو اس بات کا خیال ہونا چاہیں کے وہ 2008اور2013  میں آئی ایم ایف کے پاس گئی تھیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر بہت قابل شخص ہیں جو ایمانداری سے آئی ایم ایف میں تعینات ہوئے جبکہ انہوں نے  پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی نوکری کو ٹھکرایا۔آئی ایم ایف سے مذاکرات میں رضا باقر اور انکی ٹیم کو آئی ایم ایف کا نمائندہ کہا گیا جس پر بے حد افسوس ہوا،ہمیں رضا باقر پہ فخر ہونا چاہیے۔

عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ اگر ہمیں ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تو ہمیں لوگوں پر خرچ کرنا ہوگا، یہ نہیں ہو سکتا کہ لوگ پسماندہ ہوں اور ملک ترقی یافتہ ہو، ہمیں اپنے  ٹیکس نظام کو مزید بہتر کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ   سابقہ حکومتوں نے  کی جانب سے 72 سال میں ایسے سخت فیصلے نہیں کیے گئے لیکن ہم نے یہ کام کیا، سخت بجٹ دیا اور سخت اہداف رکھے۔ہم  نے سویلین حکومت کے بجٹ میں 40 ارب روپے کی کمی کی جس پرآرمی چیف جنرل باجوہ نے حکومت کی حمایت کی جبکہ ایوان صدر اور وزیر اعظم آفس کے اخراجات کو کم کیا گیا۔