سرکلر ریلوے پر قائم تجاوزات کیخلاف کارروائی‘ مکینوں کی مزاحمت‘ ایک گرفتار

407
کراچی: لانڈھی میں سرکلر ریلوے کی زمین پر قائم عمارت کو گرایا جارہا ہے

کراچی(اسٹاف رپورٹر)عدالت عظمیٰ کے احکامات کے بعد منگل سے کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) ٹریک کے اطراف تجاوزات کے خلاف کارروائی کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے، گلشن اقبال میں علاقہ مکینوں کی جانب سے عملے پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ گلشن اقبال میں گیلانی ریلوے اسٹیشن کے اطراف تجاوزات کے خلاف آپریشن کے لیے ریلوے انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنر ضلع شرقی پولیس کے ساتھ پہنچے تو علاقہ مکینوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔علاقہ مکینوں نے اس موقع پر شدید احتجاج کیا۔ان کا کہنا تھا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرکے جگہ خریدی ہے۔اس موقع پر غیر قانونی تعمیرات گرانے پر پہلی منزل کی رہائشی خواتین نے پولیس اہلکاروں اور مشینری پرپتھراؤ بھی کیا۔مکینوں کے پتھراؤ کے بعد خواتین پولیس اہلکاروں نے مزاحمت کرنے والی خواتین کو عمارت سے باہر نکال دیا۔پولیس کی جانب سے تجاوزات کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے والے ایک شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ۔اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر ریلوے لینڈ خالد خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی اراضی فروخت نہیں کرتی بلکہ ملازمین کو الاٹ کرتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ریلوے کی ایک درجن سے زاید ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں اور ہاؤسنگ سوسائٹی کو حکومت سندھ ڈیل کرتی ہے ریلوے نہیں۔انہوں نے بتایا کہ گیلانی ریلوے اسٹیشن کے قریب 81 ایکڑ زمین ریلوے کی ہے جس میں سے 35 ایکڑ زمین پر قبضہ ہوچکا ہے۔ایک سوال کے جواب میں خالد خان کا کہنا تھا کہ رہائشی عمارتوں کو خالی کرانے کی حکمت عملی سندھ حکومت بنائے گی، مجھے نہیں معلوم کہ ریلوے اراضی پر کون قبضہ کرتا ہے۔خیال رہے کہ گیلانی ریلوے اسٹیشن کے اطراف کی رہائشی عمارتوں کو خالی کرنے کے نوٹسز جاری کیے جاچکے ہیں،عدالت عظمیٰ نے گزشتہ دنوں سرکلر ریلوے کے روٹ سے تجاوزات ایک ہفتے میں ہٹانے کا حکم دیا تھا۔عدالت عظمیٰ کے حکم پر کراچی سرکلر ریلوے کی زمینوں پر قائم رہائشی مکانات گرائے جا ر ہے ہیں، جس پرانتظامیہ کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔