تاج حیدر کا چیف الیکشن کمشنر کو خط، انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگی کی نشاندہی

332

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے مرکزی الیکشن سیل کے انچارج تاج حیدر نے چیف الیکشن کمشنر کو خط تحریر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ضلع لاڑکانہ کی انتخابی فہرستوں خاص طور پر این اے 200، پی ایس 10 اور پی ایس 11 میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں،

تاج حیدر کا کہنا ہے کہ ہمارے ووٹرز نے ڈسپلے سینٹرز میں لگائی گئی انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیاں پائی ہیں، تقریباً 30 فیصد ووٹرز کو ان کے اصل مردم شماری بلاکس (ان کی رہائش کے بلاکس) میں شامل نہیں کیا گیا، مذکورہ ووٹرز کو دیگر غیر متعلقہ بلاکس میں منتقل کردیا گیا ہے،

اْن کا کہنا ہے کہ اس طرح کی بے ضابطگیاں پورے ضلع لاڑکانہ میں پائی گئی ہیں، تاہم مذکورہ حلقوں میں بہت زیادہ ہیں،

تاج حیدر کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر ہمیں نہیں معلوم کہ ایسا کیوں کیا گیا ہے، لیکن یہ کسی خاص مقصد کے بغیر نہیں کیا جاسکتا، مذکورہ بے ضابطگیوں کا ایک واضح نتیجہ یہ ہوگا کہ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہوجائے گی،

پی پی پی رہنما نے کہا ہے کہ الیکشن کمشنر بھی اس بات سے اتفاق کریں گے کہ بڑے پیمانے پر غلط انتخابی فہرستوں کی تیاری قبل از انتخابات دھاندلی کے مترادف ہے،

تاج حیدر نے کہا ہے کہ این اے 200 کی نمائندگی پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کرتے ہیں، اگر پی پی پی چیئرمین کے حلقے میں اس طرح کی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں تو سندھ کے دیگر حلقوں کی صورتحال اندازہ لگانا مشکل نہیں،

خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ لاکھوں ووٹرز کے لیے یہ دیکھنا ممکن نہیں کہ ان کا ووٹ ان کی رہائش گاہ کے مردم شماری بلاک میں درج ہے یا نہیں،

تاج حیدر نے سوال کیا ہے کہ انتخابی عمل کو ایک بار پھر مشتبہ اور متنازعہ بنانے کے لیے ایسا کیوں کیا گیا؟ پیپلز پارٹی کے پاس مذکورہ انتخابی فہرستوں کو مسترد کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں،

پی پی رہنما نے مطالبہ کیا ہے کہ نادرا کی ڈور ٹو ڈور چیکنگ کا طریقہ کار اختیار کرکے نئی اور درست انتخابی فہرستیں بنائی جائیں۔ ایسی درست فہرستیں تیار کی جائیں جن میں رائے دہندگان کی موجودہ رہائش گاہ کا پتہ موجود ہو،

انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی فہرستوں کی جانچ پڑتال کے لیے مقررہ وقت کی حد میں اضافہ کیا جائے تاکہ درست فہرستوں دوبارہ بنائی جاسکیں۔