ریلوے کے نصف سے زائد انجن بوسیدہ،شیڈول میں تاخیرکا باعث

194

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ادارے کو منافع بخش بنانے کیلیے انٹرنیشنل جوائنٹ وینچر معاہدے کرنے پر روز دیا ہے،پاکستان ریلوے نے ادارے کو خسارہ سے منافع بخش ادارہ بنانے کا ”ریلوے بزنس پلان“ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا جوکہ 121 صفحات پر مشمتل ہے،

رپورٹ کے مطابق بزنس پلان کے ذریعے ریلوے مالی طور پر پائیدار ادارہ بنایا جائے گا، جس میں مسافروں کو محفوظ، آرام دہ، سستا سفر فراہم کیا جائے گا۔ عمل درآمد کیلیے ریلوے کو تمام متعلقہ اداروں کی معاونت درکار ہوگی،

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریلوے کے 66 فریٹ لوکوموٹوز میں سے صرف 20 دستیاب ہوتے ہیں جبکہ ریلوے کی 63 فیصد سے زائد فریٹ ٹرینیں 45 سال سے بھی پرانی ہیں۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے ریل انجنوں کی مرمت کا کام متاثر ہوتا ہے، جبکہ ریلوے کے 50 فیصد پرانے انجن تبدیل کرنے کی ضرورت ہے،

سرکلر ریلوے سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے بحالی کیلئے وزیر ریلوے وزیراعلی سندھ سے ملے، جس میں وزیراعلی سندھ نے سرکلر ریلوے ٹریک سے تجاوزات فوری ہٹانے کی یقین دہانی کرائی۔ عدالتی حکم پر ریلوے نے متاثرین کی بحالی کیلئے سندھ حکومت سے رجوع کیاگیا ہے،

سرکلر ریلوے متاثرین کو نقد امداد یا تعمیر شدہ فلیٹس فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی۔ متاثرین کو پیشکش وزیراعلی سندھ کی کے سی آر بحالی کمیٹی نے کی ہے،

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ باوقار بحالی کیلئے حکومت کی مکمل سیاسی ومالی حمایت بھی درکار ہوگی جبکہ ریلوے کو خسارہ سے نکالنے کیلئے گورننس اور ریلوے بورڈ کی نگرانی ہونی چاہیے۔