نقطہ نظر

153

بھیڑکے روپ میں بھیڑیا
انسانی تاریخ میں شرمناک باب تحریر کرنے پر کالے کوٹ پہنے بھیڑیوں کو عبرت ناک سزا دی جانی چاہیے، ان کا مقدمہ عوام کے سامنے پیش ہونا چاہیے، تاکہ آئندہ کسی بھی محکمے یا ادارے سے منسلک افراد ایسی گھنائونی حرکت کرنے کا تصور بھی نہ کرسکیں، ان پڑھے لکھے جہلا نے قوم کا سر شرم سے جھکا دیا۔ اپنے ہی ملک کے دل کے اسپتال پر حملے کا یہ واقعہ دنیا کی کسی گھٹیا سے گھٹیا قوم نے نہ کیا ہوگا۔ جب پاکستان کا بچہ بچہ بابائے قوم قائد اعظم کا یوم پیدائش منانے کی تیاریوں میں لگا ہوا تھا ان کے ہم پیشہ وکالت کے پیشے سے وابستہ افراد کی اسپتال میں توڑ پھوڑ مریضوں کی جان سے کھیلنا ڈاکٹروں اور دوسرے افراد پر تشدد جیسے گھنائونے اقدامات کر کے پوری قوم کے دل میں وکالت کے پیشے کے لیے شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔ وکیلوں کی وکلا گردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی وکلا اسی نوعیت کے اقدامات کئی بار کر چکے ہیں۔ افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ دل کے اسپتال میں گھس کرنہ صرف تیمارداروں بلکہ مریضوں کو بھی زدوکوب کیا گیا، ان کی انسانیت یہاں تک گر گئی کہ ایک مریضہ کا آکسیجن ماسک بھی کھینچ کر اتار دیا، جس کے باعث اس کا انتقال ہوگیا۔ یہ کس قسم کے انصاف کے علم بردار ہیں؟؟ اس سانحے کے ذمے دار تاحال کسی گرفت سے محفوظ ہیں ان کو بچانے کی درپردہ کوششیں ہورہی ہیں چیف جسٹس سے پوری قوم کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث تمام وکلا کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔ ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔
شہلا خضر، ناظم آباد