غریب کا بچہ نالے میں ڈوب گیا

325

محمد مظفر الحق فاروقی
گزشتہ دنوں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر یہ اندوہناک خبر آئی کہ ایک غریب بچی اپنے گھر کے قریب کھیل رہی تھی کہ قریب گندے اور بدبو دار پانی کے نالے میں پھسل کر جاگری اور ڈوب کر مر گئی۔ ایک غریب کی معصوم بچی ڈوبنے سے پہلے معاشرے یا معاشرے کے بڑے اور امیر لوگوں کو ایک پیغام دے گئی۔ یہ واقعہ یا موت ایک اندوہناک اور انتہائی تکلیف دہ تھی جو گزشتہ دنوں پاپوش نگر کے قریب بستی میں پیش آیا۔ میڈیا نے اسے ایک خبر کے طور پر لیا اور پھر خاموشی چھا گئی۔ پھر یہ خبر آئی کہ اسی غریب بچی کی لاش سائٹ ایریا کے قریب کے نالے سے نکال لی گئی۔ محلہ کے کچھ لوگوں نے اس بچی کا جنازہ اپنے کاندھوں پر اُٹھا اور منوں مٹی تلے دفن کرکے گھر آگئے۔ اگر یہ بچی کسی وزیر کی بچی ہوتی، کسی سفیر کی بچی ہوتی، کسی امیر کی بچی ہوتی تو بہت سارے ٹاک شوز میں کئی دنوں تک انتظامیہ اور معاشرے کی لاپروائی غفلت اور بے رُخی کا ذِکر ہورہا ہوتا۔ اس اندوہناک واقعے پر خاموشی اُس وقت تک قائم رہے گی جب تک پھر کوئی غریب بچی یا بچہ اپنے گھر کے قریب کھیلتے ہوئے کسی گندے پانی کے بہتے گٹر میں گر کر مر نہیں جاتا۔ اس واقعے پر اور واقعے پر انسانی احساسات کو لکھنے سے پہلے میں تمہید کے طور پر اپنی ذاتی زندگی کا ایک چھوٹا سا واقعہ یا تجربہ لکھنا چاہوں گا۔ یہ بہت پہلے کی بات ہے جب میں ایک کالج کا طالب علم تھا۔ طلبہ یونین کی جانب سے ہم طلبہ کی ایک جماعت پکنک منانے کی غرض سے کینجھر جھیل کی طرف گئی۔ یہ ٹرین کا سفر تھا۔ ہم لوگ جنگ شاہی ریلوے اسٹیشن پر اُترے اور پیدل ہی جھیل کی طرف چل پڑے۔ حتیٰ کہ ایشیا کی سب سے بڑی جھیل تک جا پہنچے۔ میری آنکھوں کے سامنے بہت خوبصورت قدرتی منظر تھا جو میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔ حد نگاہ تک پھیلی ہوئی پرسکون جھیل جس کی خاموش لہروں کو ہزاروں کی تعداد میں اڑتی اور پانی پر اُترتی ہوئی مرغابیوں کی دل لبھانے والی آوازوں نے اور بھی جاذب نظر بنادیا تھا۔ یہ وہ خوبصورت مرغابیاں تھیں جو ہزاروں میل دور روس کے علاقے سائبیریا سے اُڑ کر ہماری مہمان بن کر ہماری جھیلوں کی طرف آتی ہیں کیوں کہ روسی علاقوں کی جھیلیں شدید سردی کی وجہ سے برف بن جاتی ہیں۔ یہاں بندوق لے جانے اور مرغابیوں کا شکار کرنے پر سخت پابندی ہوتی ہے۔ ہاں ائر گن لے جاسکتے ہیں۔ ایک لڑکا ائر گن لے آیا تھا۔ جس
میں کارتوس یا گولی کے بجائے چھوٹا سا چھرا ہوتا ہے۔ درخت پر ایک چھوٹی سی خوبصورت چڑیا بیٹھی تھی میں نے دوست کے ہاتھ سے بندوق لی اور چڑیا کا نشانہ لے کر چھرہ چلا دیا۔ چھرہ چڑیا کے پر یا بازو کو زخمی کرگیا۔ اب وہ مشکل سے اُڑ پاتی تھی۔ مجھے اپنے اِس کیے پر بہت افسوس ہوا۔ یہ سوچ کر کہ اب یہ چڑیا اُڑ نہیں پارہی ہے بھوکی پیاسی مرجائے گی۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی اور آئندہ کسی پرندے کو نہ مارنے کا عہد کیا۔ ہمارا دین اسلام شوق کی خاطر کسی بے گناہ جانور یا پرندے کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا۔ کھانے کے لیے شکار کی اجازت ہوتی ہے۔ اب آتے ہیں ایک دوسرے واقعے کی طرف جس کا تعلق براہِ راست اسی کالم سے ہے۔ کچھ لڑکے کینجھر جھیل میں نہانے لگے۔ مجھے جھیل وغیرہ میں نہانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ایک دوست کے بے حد اصرار پر میں جھیل کے کنارے نہانے کے لیے اُترا۔ میرا پیر پھسلا اور میں جھیل میں جاگرا اور ڈوبنے لگا۔ آج بھی مجھے یاد ہے کہ ڈوبنا کیسا ہوتا ہے اور ڈوب کر مرجانے والوں کی تکلیف کیسی ہوتی ہوگی۔ میں جھیل کی سطح سے کئی فٹ نیچے جا چکا تھا۔ انسان زندہ رہنے کے لیے ہر وقت سانس لیتا ہے اس عمل کو وہ روکنے پر قادر ہی نہیں ہے۔ پانی کے اندر جب میں سانس لیتا تو ہوا کے بجائے ناک میں پانی بھر جاتا۔ منہ کھولتا تو منہ پانی بھر جاتا، آنکھوں کے سامنے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا، سوائے پانی کے۔ سب سے بڑی اذیت یا تکلیف گھٹن کی تھی، میں نوجوان تھا جس میں توانائی تھی مگر میں پانی کی لہروں کی قوت کے سامنے بے بس تھا۔ چوٹ لگنے کی تکلیف اتنی نہیں ہوتی جتنی کہ سانس رُک جانے یا گھٹن کی ہوتی ہے۔ پانی میں ڈوب کر مرجانے والے سانس نہ لینے کی وجہ سے ہی مرتے ہوں گے۔ میں ایک تکلیف دہ اور اذیت ناک موت کا سامنا کررہا تھا کہ ایک دوست نے چھلانگ لگائی اور مجھے ڈوبنے سے بچالیا۔ جب میں کسی انسان کے ڈوب کر مرجانے کی خبر سنتا یا پڑھتا ہوں تو میں اس درد کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ پاتا جو ڈوب کر مرجانے والے کو ہوتا ہوگا۔ ڈوبنے والے کی موت کو اسلام شہادت کی موت قرار دیتا ہے چاہے یہ شہادت صغریٰ ہی کیوں نہ ہو۔
چند دنوں پہلے کی بات ہے پاپوش نگر کے علاقے کی ایک غریب لڑکی گھر کے قریب کھیلتے کھیلتے غلیظ اور گندے پانی کے ایک نالے میں ڈوب گئی۔ گندے پانی میں ہاتھ پیر مارتے اور معاشرے کے لوگوں سے زندگی کی بھیک مانگتے مانگتے کچھ دیر بعد ہی موت کو گلے لگا کر بہتی ہوئی دور نکل گئی اور دو دن بعد اس غریب بچی کی لاش سائٹ کے علاقے سے نکال لی گئی۔ ابھی میں نے اپنے ڈوبنے کی تکلیف کو بیان کیا۔ کینجھر جھیل کا پانی میٹھا اور صاف تھا جسے ہم پیتے ہیں مگر سوچیے یہ غریب لڑکی جس پانی میں ڈوب کر ہمیشہ کے لیے دنیا سے چلی گئی وہ پانی گندا اور غلیظ تھا۔ نالوں کے اس گندے پانی میں کیا کیا گندی شامل ہوتی ہوگی لکھا نہیں جاسکتا۔ سوچیے جب یہ غریب بچی گندے پانی کے نالے میں ڈوب رہی تھی تو سانس لیتے ہوئے اس کی ناک اور منہ میں گٹر کا پانی جارہا تھا، اس کی آنکھوں میں اور آنکھوں کے سامنے گٹر کا گندا اور بدبو دار پانی جارہا ہوگا۔ ایسی موت کا تصور نہ ہم کرسکتے ہیں نہ آپ اور نہ ہی ہمارے رہنما اور ارباب حل و عقد کرسکتے ہیں۔
کنیز فاطمہ نام کی یہ پانچ سال کی بچی گھر کے قریب کھیلتے ہوئے گندے اور گٹر کے پانی کے نالے میں ڈوب کر دنیا سے چلی گئی کیوں کہ اس کے گھر کے قریب کوئی ’’شہید بے نظیر پارک‘‘ نام کا کوئی پارک نہ تھا۔ وزیراعلیٰ صاحب جو پورے صوبے کے سربراہ ہیں جس میں کراچی بھی آتا ہے اور لیاری اور پاپوش نگر بھی آتا ہے۔جب قیامت کے دن آپ حساب کتاب کا سامنا کررہے ہوں گے تو یہ غریب بچی یا ایسے بہت سارے بچے جو گندے نالوں میں ڈوب کر مر گئے آپ کا گریبان ضرور پکڑیں گے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ شاید آپ سیّد بھی ہیں کیا آپ کو معلوم نہیں سیّدنا عمر فاروقؓ نے کیا فرمایا تھا، جس کا ذِکر آج کے حکمران اپنی تقریروں میں کرتے رہتے ہیں، کپڑوں پر 12-12 پیوند لگے ہوئے فاروق اعظم نے فرمایا تھا اگر دریائے فرات کی دوسری جانب ایک کتا بھوک اور پیاس سے مرجاتا ہے تو اس کی پوچھ عمرؓ سے ہوگی، اس کی موت کا حساب عمر سے لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ صاحب آپ صوبہ کے سربراہ ہیں، کنیز فاطمہ ایک انسان تھی، ایک انسان کی بچی تھی، اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایک غریب محلہ کی غریب بچی تھی، اس کے گھر کے قریب سے گزرنے والے گندے پانی کے نالے کے ساتھ کوئی حفاظتی دیوار آپ لوگوں نے نہیں بنائی تھی۔ سیدنا عمر فاروقؓ اپنے دور اقتدار میں ایک کتے کی موت کا حساب دینے کا ذمہ اپنے سر لیتے تھے اور آپ جن کی دولت 24 کروڑ روپے تک پہنچی ہے جو شاندار محل تھا، سی ایم ہائوس میں آرام اور آسائش کی زندگی گزارتا ہے جو ان شاندار گاڑیوں میں آتا جاتا ہے اور سفر کرتا ہے جو گرمیوں میں اندر سے سرد اور سردیوں میں اندر سے گرم ہوتی ہے جس کا پہیہ کسی سڑک کے گڑھے میں چلا جائے تو آپ کو جھٹکا نہ لگے۔ دوسری جانب وہ لوگ ہیں جن کی زندگی کی ایک جھلک میں نے آپ کے سامنے رکھی۔
وزیراعلیٰ صاحب آپ ہر وقت یا اکثر سوٹ اور ٹائی میں گھومتے رہتے ہیں، آپ کا تعلق پی پی پی سے ہے جو غریبوں اور عوام کی جماعت کہلاتی ہے۔ قیامت کے روز آپ کو حساب دینا ہوگا کہ ایک طرف آپ یا آپ جیسے حکمرانوں کی زندگی اور دوسری طرف کنیز فاطمہ نامی ایک غریب بچی کی زندگی اور اس کی موت تھی۔