سودی نظام کی موجودگی میں پاکستان ترقی نہیں کرسکتا ،سراج الحق

234
لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق انڈس یونیورسٹی کراچیمیں منعقدہ سیمینار سے خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ سودی نظام کی موجودگی میں پاکستان ترقی نہیں کرسکتا ،کراچی سے چترال تک ترقی کا پہیہ رُک گیا ،موجودہ حکومت نے کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا ،حکومت کی جانب سے تقریروں کے علاوہ کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آرہے ، حکومت نے قومی اداروں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ، ان میں سے ایک اسٹیل مل بھی ہے ، آئی ایم ایف ہمارے قومی اثاثے بھی ہم سے چھیننا چاہتا ہے ،ملک کا ترقیاتی بجٹ 700ارب روپے ہے، حکومت اسے بھی خسارے کی نذر کرنا چاہتی ہے گزشتہ 18ماہ میں 300 سے زاید چھوٹے بڑے کارخانے بند ہوگئے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے نجی یونیورسٹی میں ’’کرنٹ افیئر ‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن ، یونیورسٹی کے وائس چانسلر خالد امین ، سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں اسلامی نظام کونافذ نہیں کیا جا رہا ، سوا 2کروڑ سے زاید بچے تعلیم سے محروم ہیں ، حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق مزید 40لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے آگئے ہیں ، غربت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ، حکومت غربت ختم کرنے اور قرضے نہ لینے کے نعرے لگا کر اقتدار میں آتی ہے مگر جب جاتی ہے تو قرضوں کے انبار لگاکر اور غربت ، مہنگائی اور بے روزگاری میں کئی گنا اضافہ کرکے جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنا کر ہی ملکی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے، ملک میں رائج استحصالی معاشی اور طبقاتی تعلیمی نظام کی وجہ سے عوام کے اندر سخت مایوسی اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ آج ملک و قوم کو معیشت سمیت مختلف بحرانوں کا سامنا ہے،تعلیم ،صحت اور معیشت کے شعبے ناکامی کی تصویر بنے ہوئے ہیں،لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم کے باوجود بے روزگاری کی وجہ سے پریشان ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت 300ارب روپے کا منی بجٹ لانے کا پروگرام بنا رہی ہے ، ہر طبقہ معیشت سے متاثر ہوتا ہے ، چاروں طرف مایوسی ہے ، اخبارات میںمایوس کن خبریں ہیں ۔عوام کو اس مایوسی سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں اسلام کا منصفانہ اور عادلانہ نظام نافذ کیا جائے۔سراج الحق نے کہا کہ سودی نظام کی موجودگی میں پاکستان ترقی نہیں کرسکتا ، اگر ہم سود کے بجائے زکوٰۃ کی صحیح طرح ادائیگی کریں تو پاکستان دوسروں کو قرض دینے والا ملک بن جائے گا ،قرضوں او ر سود کی معیشت سے تائب ہوکر اسلام کے زکوٰۃپر مبنی نظام معیشت کو اختیار کیا جائے اور خود انحصاری کا باعزت راستہ اختیار کیا جائے۔ مستقبل کا معاشی نظام سود سے پاک ہوگا اور اسلامی معاشی نظام ہی انسانیت کی بھلائی ہے ، سود لینا اللہ اور اس کے رسولؐسے جنگ ہے ، لیکن حکومت کہتی ہے سود کے بغیر ملک کیسے چلے گا ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیراعظم اپنے پیاروں کی پشت پناہی نہ کرتے تو آج آٹے چینی کا بحران نہ ہوتا۔ کمر توڑ مہنگائی میں حکومت کی طرف سے 15 ارب روپے کی سبسڈی کا ا علان قوم کے ساتھ مذاق ہے۔ حکومت کے بڑے بڑے دعوے سونامی میں بہہ گئے ہیں ۔ عوام کی مشکلات میں 100 گنا اضافہ ہوچکاہے ۔ حکومت نے آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لیے عوام پر ٹیکسوں کا کوہ ہمالیہ لاد دیاہے ۔ حکمران بے حس اور عوام بے بس ہوچکے ہیں ۔