مون گارڈن کے رہا ئشیو ں کو عارضی مہلت مل گئی

598

کراچی(اسٹاف رپورٹر)گلستان جوہر میں ریلوے کی زمین پر قائم غیر قانونی عمارت مون گارڈن کے مکینوں کو مہلت مل گئی ہے، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے عمارت کو رہائشیوں سے فوری خالی نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کارروائی کیلئے رینجرز اور پولیس سے مدد لی جائے گی، جس میں ایک مہینہ بھی لگ سکتا ہے،

ایس بی سی اے گلشن ٹاؤن نے مون گارڈن (پلاٹ سروے نمبر این سی 309۔ سابقہ نمبر 210) کے مکینوں کو 4 فروری کو ایک نوٹس جاری کیا تھا، جس کے تحت انہیں 7 یوم کے اندر عمارت خالی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی،

ایس بی سی اے گلشن ٹاؤن ون کے ڈپٹی ڈائریکٹر ندیم ارباب کا نوٹس میں مؤقف تھا کہ یہ اقدام سپریم کورٹ کی ہدایت کے تحت اٹھایا جارہا ہے، پراجیکٹ کے مالک، فلیٹ مالکان اور کرایہ دار 10 فروری تک بلڈنگ خالی کردیں، حکم کی تعمیل نہ کرنے والوں کیخلاف کسی بھی مزید اطلاع کے بغیر سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979ء کے تحت کارروائی کی جائے گی،

مون گارڈن کے مکینوں کو دی گئی مہلت ختم ہونے کے باوجود ایس بی سی اے 11 فروری کو مکینوں کے انخلاء کے بعد عمارت کو سیل نہیں کرے گی۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ندیم ارباب نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فی الحال انتظامیہ مون گارڈن مکینوں کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لے گی،

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کاغذی کارروائی مکمل کررہے ہیں اور منصوبے کی ہر دستاویز کا جائزہ لیں گے، مون گارڈن کے حوالے سے ایس بی سی اے گلشن اقبال ون کے ڈائریکٹر سرفراز احمد سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے، جس کے بعد منصوبے کی تمام دستاویزات کے دوبارہ جائزے کا فیصلہ کیا گیا ہے،

ندیم ارباب کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے مون گارڈن خالی کرانے کے آپریشن کیلئے پاکستان رینجرز اور پولیس سے بھی مدد لے گی، اس کیلئے ڈائریکٹر ایس بی سی اے گلشن اقبال ٹاؤن ون سرفراز احمد ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو خط لکھیں گے،

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مون گارڈن کے مکینوں کو دیا گیا انخلاء کا نوٹس حتمی نہیں ہے، انہیں ایک ماہ کے اندر اگلا نوٹس جاری کیا جائے گا، اس حوالے سے کارروائی میں کم از کم ایک مہینہ لگ سکتا ہے۔