کروناوائرس کے خوف نے سرجیکل ماسک کی قیمت بڑھادی،شہریوں کو مشکلات کا سامنا

866

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کرونا وائرس سامنے آنے کے بعد سرجیکل ماسک مہنگا ہوگیا ہے،ملک میں طلب بڑھنے کے پیش نظر ریگولیٹری اتھارٹی نے ماسک کی برآمد پر پابندی لگائی تو ہول سیل میڈیسن مارکیٹ میں 50 ماسک کا پیکٹ 200 روپے تک مہنگا کردیا گیا،

کرونا وائرس پاکستان میں نہیں آیا ہے لیکن کراچی کی ہول سیل میڈیسن مارکیٹ میں 50 ماسک کا پیکٹ 200 روپے مہنگاہوگیا، 80روپے میں ملنے والا پیکٹ اب 280روپے میں دستیاب ہے،

نائب چئیرمین ہول سیل میڈیسن مارکیٹ عامرملک نے بتایا کہ چین میں کرونا وائرس کی وجہ سے ماسک کی درآمد رْک گئی ہے،خام مال نہ ملنے سے ماسک کی قیمت بڑھی ہے، ماسک کی قیمتیں بڑھنے سے عام دکاندار بھی پریشان ہیں۔

دوسری جانب طبی ماہرین کا ماسک کے بارے میں کہنا ہے کہ عام ماسک وائرل بیماریوں سے بچانے کے لیے نہیں ہوتے اور یہ ناک اور گالوں پر بھی سختی سے نہیں بیٹھتے، ایک رپورٹ کے مطابق عام فیس ماسک کرونا وائرس سے بچاؤ کا ذریعہ نہیں بن سکتا ہے،

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عام سرجیکل ماسک اس لیے تیار ہوتے ہیں تاکہ ڈاکٹر کی ناک اور منہ کو آپریشن یا معائنے کے دوران مریض کے جسم سے خارج ہونے والے مواد سے محفوظ رکھا جا سکے،

مختلف ممالک میں لوگ اس طرح کے ماسک روزانہ کی بنیاد پر پہنے نظر آتے ہیں جس کا مقصد جراثیموں اور فضائی آلودگی سے بچنا ہوتا ہے لیکن عام سرجیکل ماسک وائرس سے بچاؤ میں کسی طور پر مددگار نہیں ہوتے ہیں،

عام ماسک وائرل بیماریوں سے بچانے کے لیے نہیں ہوتے اور یہ ناک اور گالوں پر سختی سے نہیں بیٹھتے جب کہ ان کا استعمال بھی صرف ضروری حالات میں ہی کرنا چاہیے،

کئی افراد سرجیکل ماسک فلو یا نزلہ زکام ہونے پر پہنتے ہیں تاکہ ان کی وجہ سے دیگر افراد اس کا شکار نہ ہو سکیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ بیمار ہیں تو بہتر یہی ہے کہ عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں اور گھر میں رہنے کو ترجیح دیں،

ماہرین کے مطابق کرونا وائرس سے بچاؤ کا سب سے بہترین طریقہ ہاتھوں کو صاف رکھنا، گندے ہاتھوں سے چہرے کو نہ چھونا، بیمار افراد کے قریب جانے سے اجتناب اور کسی بھی متاثرہ فرد کی زیر استعمال اشیا ء کو استعمال نہ کرنا ہے۔