مدارس اسلام کے قلعے اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں ،ذکراللہ مجاہد

235
امیرجماعت اسلامی لاہور ذکراللہ مجاہد اور سیکرٹری جنرل جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان حافظ شمیر شاہدتقریب سے خطاب کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی لاہور ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد نے کہاہے کہ مدارس اسلام کے قلعے اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں ۔ مدارس دین کی فیکٹریاں ہیں جس کے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ ادارے امریکا اور اسلام دشمن استعاری قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ حکومت دینی مدارس کی مشکلات اور ان کے مسائل کو حل کرنے کیلیے ٹھوس اقدامات کرے ۔ تاکہ دینی مدارس کو درپیش چیلنجز اور مشکلات کا خاتمہ ہوسکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت طلبہ عربیہ منصورہ کے زیر اہتمام عظیم الشان مباحثہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان حافظ شمیرشاہد، مولانا قاری فضل اکبر، منتظم جمعیت طلبہ عربیہ لاہور شفقت اللہ منصوری سمیت دیگر قائدین موجود تھے۔ اس موقع پر امین عام جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان شمشیرشاہد نے تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بدعملی اور دین فراموشی ہی تباہی کی اصل وجہ ہے۔اسلام محض ایک روایتی مذہب نہیں ہے بلکہ ایک مکمل دین اور جامع نظام زندگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پوری اسلامی دنیا بشمول پاکستان مسلم معاشرہ اپنی اصل پہچان کھو چکا ہے۔ اب ہمارا واسطہ ایک ایسے مخلوط معاشر ے سے ہے جس میں اسلام اور جاہلیت ملی جلی دکھائی دیتی ہے اور ایسا کلچر وجود میں آتا جا رہا ہے جس نے تہذیب و اقدار کی ساری بنیادیں الٹ کر رکھ دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مادہ پرستی کے اس دور میں جمعیت طلبہ عربیہ کا قرآن و سنت کی دعوت اور باہمی اتحاد کے پیغام کو عام کرنا اور اسلام کے عملی نفاذ کے لیے جدو جہد قابل تعریف و تحسین ہے ۔انہوں نے مزیدکہا کہ ہمارے ملک میں غیر اسلامی قانون کا بننا اور نافذ ہونا معمول بن چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کو سدھارنے کے علماء کرام کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔