فلسطین بھر میں احتجاج 2 شہید ،درجنوں زخمی

302
مغربی کنارا: بڑی تعداد میں مسلمان نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجداقصیٰ میں ہیں‘ اسرائیلی فوج نے اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کررکھی ہے‘ فلسطینی نوجوان دیوار فاصل پر احتجاج کررہے ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اسرائیل نواز امن منصوبے کے اعلان پر فلسطینی شدید غم وغصے میں ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس حوالے سے جمعہ کے روز مغربی کنارے میں صورت حال انتہائی کشیدہ رہی۔ طولکرم کے نواحی قصبے قفین میں مظاہرین اور اسرائیلی فوجکے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک فلسطینی نوجوان گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ 19 سالہ بدر نضال ہرشہ کو اسرائیلی فوج کی گولی لگی۔ اسے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جاں بر نہ ہوسکا۔ جمعہ کے روز دیگر شہروں اور قصبات میں بھی فلسطینیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے ممکنہ احتجاج کے باعث مقبوضہ بیت المقدس میں بھی سیکورٹی کے سخت ترین اقدامات کررکھے تھے، تاہم اس کے باوجود 25 ہزار فلسطینی مسجد اقصیٰ پہنچنے اور نمازِ جمعہ ادا کرنے میں کامیاب رہے۔ ادھرجنین میں ایک فلسطینی اسیر کا مکان مسمار کرنے کی کارروائی کے دوران احتجاج کرنے والے متاثرین پر اسرائیلی فوج نے گولیاں چلادیں، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہوگئے۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فوج نے قسام بریگیڈ کے شہید کمانڈر احمد جرار کے بھائی اسیر کارکن احمد قمبع کا مکان مسمار کرنے کا ظالمانہ سلسلہ شروع کیا، تو فلسطینیوں نے احتجاج شروع کردیا۔ مظاہرین نے صہیونی فوج سے مکان کی مسماری روکنے کا مطالبہ کیا، مگر قابض فوج نے نہتے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے بعد فلسطین ہی نہیں مختلف ممالک میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اس ضمن میں دنیا بھر کے کئی شہروں میں جمعہ کے روز احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا۔