پاکستانی جرنیلوں کی امریکا پرستی

3990

پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کے بھائی شجاع نواز نے اپنی حالیہ تصنیف Battle for Pakistan میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے سابق صدر جارج بش نے سعودی عرب کے شاہ عبداللہ اور متحدہ عرب امارات کے شہزادے محمد زید سے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو 40 لاکھ ڈالر دلوائے۔ شجاع نواز امریکا کے ’’تھنک ٹینک‘‘ اٹلاٹس کونسل سے وابستہ ہیں۔ کتاب میں کیے گئے دعوے کے مطابق جنرل پرویز کو 40 لاکھ ڈالر ایک ’’ڈیل‘‘ کے تحت مہیا کرائے گئے۔ امریکا کی طرف سے ڈیل میں امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر کونڈا لیزا رائس اور امریکا و برطانیہ کے اعلیٰ اہلکار شامل تھے۔ پاکستان کی جانب سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل کیانی جنرل پرویز مشرف کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید اور جنرل ندیم تاج نے ’’ڈیل‘‘ میں حصہ لیا۔ شجاع جنجوعہ کے بقول ڈیل کا مقصد جنرل پرویز کو بیرون ملک آباد کرنا اور انہیں ان کے غیر آئینی اقدامات پر مواخذے سے بچانا تھا۔ زیر بحث ’’ڈیل‘‘ کیمپ ڈیوڈ میں طے پائی۔ جارج بش نے پرنس محمد بن زید سے کہا کہ ہمیں جنرل پرویز مشرف کے بیرون ملک جانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ چناں چہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے دو دو ملین ڈالر دبئی اور لندن میں جنرل پرویز کے بینک اکائونٹس میں جمع کرادیے تا کہ جنرل پرویز چاہیں تو لندن اور دبئی میں جائداد خرید سکیں۔ (دی نیوز کراچی 25جنوری 2020ء)
پاکستانی جرنیلوں کی امریکا پرستی اور امریکا کی جرنیل پرستی بدنام زمانہ ہے مگر جنرل پرویز مشرف نے امریکا پرستی کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ نائن الیون کے بعد جنرل پرویز نے ایک ٹیلی فون کال پر پورا پاکستان امریکا کے حوالے کرکے ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند کیا تھا۔ یہ ایک کھلا دھوکا تھا۔ اس لیے کہ جنرل پرویز مشرف کا اصل مسئلہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘ نہیں تھا بلکہ ’’سب سے پہلے امریکا‘‘ تھا۔ پاکستان کے ایک بے حیا جنرل اپنے مذہب، اپنی تہذیب، اپنی تاریخ، اپنی قوم اور مادر وطن کو بیچ کھایا تھا۔ ہم نے اس وقت انہی کالموں میں عرض کیا تھا کہ جنرل پرویز کا مسئلہ سب سے پہلے پاکستان ہوتا تو وہ امریکا کی مزاحمت کرتے لیکن چوں کہ ان کا مسئلہ سب سے پہلے پاکستان نہیں ہے بلکہ سب سے پہلے امریکا ہے اس لیے وہ سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کی آڑ میں سب سے پہلے پاکستان کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اس وقت یہ محض ایک تجزیہ تھا کہ شجاع نواز کو تصنیف کے مندرجات سے ’’ثابت‘‘ ہوگیا کہ جنرل پرویز اور اس وقت کی پوری فوجی قیادت نے پاکستان میں امریکا کی جنگ لڑی۔ ایسا نہ ہوتا تو امریکا کا صدر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں سے جنرل پرویز مشرف کو 40 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم نہ دلواتا۔ امریکا پاکستان کو ایک ڈالر بھی دیتا ہے تو اس کے ساتھ دس شرائط عاید کرتا ہے۔ چناں چہ اس نے جنرل پرویز مشرف کو 40 لاکھ ڈالر دلوائے تو جنرل پرویز مشرف نے امریکا کا کوئی بڑا کام کیا ہوگا۔ ورنہ امریکا کا صدر جنرل پرویز کے اکائونٹس کو ڈالروں سے کیوں بھرتا؟ یہ کتنی ہولناک بات ہے کہ جنرل پرویز نے امریکا کے ساتھ جو ’’ڈیل‘‘ کی اس میں وہ ’’تنہا‘‘ نہیں تھے بلکہ ان کی پوری فوجی ٹیم اس ڈیل کو ممکن بنانے کے لیے کام کررہی تھی۔ جنرل پرویز کے فوجی رفقا میں رَتی برابر قومی حمیت ہوتی تو وہ جنرل پرویز مشرف کی ڈیل کا حصہ بننے سے صاف انکار کردیتے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکا صرف پرویز مشرف کا ’’آقا‘‘ تھوڑی تھا وہ جنرل پرویز کے فوجی رفقا کا بھی ’’آقا‘‘ تھا۔ چناں چہ سب نے وہی کیا جو قومی حمیت، قومی غیرت اور قومی وقار کا تقاضا نہیں تھا۔ اقبال نے کہا ہے۔
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جنرل پرویز اور ان کے فوجی رفقا نے پاکستان میں امریکا کی جو جنگ لڑی اس میں 70 ہزار سے زیادہ پاکستانی شہید ہوئے اور قومی معیشت کو 120 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ یہ اتنا بڑا قومی نقصان ہے کہ جس کے ازالے کے لیے ہمیں کئی دہائیاں درکار ہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ اس ہولناک نقصان کا ذمے دار کون ہے؟ زیر بحث خبر کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس نقصان کے ذمے دار جنرل پرویز مشرف اور ان کے فوجی رفقا ہیں۔ اس لیے کہ انہی لوگوں نے پاکستان کی سرزمین پر امریکا کے مفادات کی جنگ لڑی۔ غور کیا جائے تو یہ حقیقت بھی راز نہیں رہتی کہ اگر جنرل پرویز نے واقعتاً پاکستان میں سب سے پہلے پاکستان کے تحت پاکستان ہی کی جنگ لڑی ہوتی تو وہ 40 ہزار ڈالر لینے سے صاف انکار کردیتے۔ وہ کہتے کہ میں کوئی امریکی ایجنٹ تھوڑی ہوں۔ میں نے کوئی امریکا کی جنگ تھوڑی لڑی ہے۔ چناں چہ میں جارج بش کے حکم پر دیے جانے والے 40 لاکھ ڈالرز کو لینے سے صاف انکار کرتا ہوں۔ مگر جنرل پرویز نے 40 لاکھ ڈالر لیے اور ثابت کیا کہ وہ امریکی ایجنٹ تھے اور انہوں نے پاکستان کی سرزمین پر امریکا کی جنگ لڑی۔
یہ بات کئی بار قومی ذرائع ابلاغ میں زیر بحث آچکی ہے کہ جنرل پرویز کو ملک سے باہر نکالنے میں جنرل راحیل شریف نے اہم کردار ادا کیا۔ ظاہر ہے کہ جنرل راحیل کو بھی یہ بات معلوم ہوگی کہ امریکا کے صدر نے جنرل پرویز کو ان کی ’’خدمات‘‘ کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں عرب حکمرانوں سے 40 لاکھ ڈالر دلوائے ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے ایک امریکی ایجنٹ کو ملک سے فرار ہونے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ خود جنرل راحیل شریف کی ’’حب الوطنی‘‘ کی کیا سطح ہے؟۔
یہ تو کل ہی کی بات ہے کہ پاکستان کی ایک خصوصی عدالت نے اکثریتی فیصلے کے تحت جنرل پرویز کو غداری کے الزام میں موت کی سزا سنائی۔ اس فیصلے نے پوری ریاست کو ہلا دیا۔ لگا آسمان ٹوٹ پڑا ہے۔ قیامت واقع ہوگئی ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ’’غصے اور غم‘‘ کی حالت میں دیکھا گیا۔ یہاں تک کہ ایک اعلیٰ عدالت سے خصوصی عدالت کے فیصلے پر خط تنسیخ پھروا دیا گیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے ہر شہری کا یہ خواب ہوسکتا ہے کہ وہ بھی امریکی ایجنٹ بنے۔ پاکستان میں امریکا کی جنگ لڑے اور پھر امریکا کے حکم پر 40 لاکھ ڈالر وصول کرے اور عدالتی فیصلوں تک سے ماورا ہوجائے۔ بدقسمتی سے صرف جنرل پرویز اور ان کے فوجی رفقا ہی امریکا پرست نہیں ہیں۔ یہ کہانی بہت پرانی ہے۔
جنرل ایوب نے مارشل لا تو 1958ء میں لگایا مگر امریکا کی چند برس پہلے سامنے آنے والی خفیہ دستاویزات سے یہ حقیقت عیاں ہوئی ہے کہ جنرل ایوب 1954ء سے امریکیوں کے رابطے میں تھے۔ وہ مراسلے پر مراسلے لکھ کر امریکیوں کو بتارہے تھے کہ پاکستانی سیاست دان بڑے نااہل ہیں اور وہ پاکستان کی بقا و سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ وہ امریکیوں سے کہہ رہے تھے کہ فوج سیاست دانوں کو ہرگز ملک کی بقا و سلامتی سے نہیں کھیلنے دے گی۔ سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان کے سیاسی حکمران نااہل تھے تو جنرل ایوب ان کی نااہلی کی کہانی امریکیوں کو کیوں سنا رہے تھے۔ وہ گھر کے مسئلے کو گھر کے اندر رکھتے۔ انہیں مارشل لا ہی لگانا تھا تو لگا دیتے۔ امریکیوں کو ’’اعتماد‘‘ میں لینے کی کیا ضرورت تھی؟۔ مگر چوں کہ جنرل ایوب کو پاکستانی جرنیلوں کی امریکا پرستی کا ’’بانی‘‘ بننا تھا اسی لیے وہ امریکیوں کے کان میں اس طرح کی کھسر پھسر کرتے رہے جیسے امریکی ان کے ’’تایا ابو‘‘ ہوں۔ جنرل ایوب کی امریکا پرستی اتنی بڑھی کہ وہ خود کو بھی امریکی غلام نظر آنے لگے۔ چناں چہ انہوں نے الطاف گوہر سے Freinds Not Masters لکھوا کر ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جنرل امریکا کے ’’دوست‘‘ ہیں ان کے ’’غلام‘‘ نہیں۔ جنرل ایوب اور امریکا کے دوست؟ آدمی اس بات پر ہنستے ہنستے شام کرسکتا ہے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1962ء کی چین بھارت جنگ کے دوران چین نے جنرل ایوب کو پیغام بھیجا کہ بھارت اپنی ساری عسکری طاقت چین کی سرحد پر لے آیا ہے اس لیے پاکستان آگے بڑھے اور بھارت سے اپنا کشمیر چھین لے۔ یہ ایک بہترین موقع تھا۔ ہم پانچ دس ہزار فوجیوں کے ذریعے بھی بھارت سے کشمیر چھین سکتے تھے مگر جنرل ایوب کے ’’تایا ابو‘‘ امریکا کو اس بات کی خبر ہوگئی اور امریکا نے جنرل ایوب سے کہا کہ آپ بھارت سے کشمیر ہرگز نہیں چھینیں گے۔ آپ ذرا صبر کریں۔ چین بھارت کی جنگ کو ختم ہونے دیں ہم مسئلہ کشمیر حل کرانے میں آپ کی مدد کریں گے۔ جنرل ایوب نے اپنی تعلیم و تربیت کے عین مطابق امریکا کے آگے سر جھکا دیا۔ چین بھارت جنگ ختم ہوئی تو امریکا نے مسئلہ کشمیر کے حل کا ذکر تک نہ کیا۔
یہ بات تاریخی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ جنرل جہانگیر کرامت اپنے عہدے سے الگ ہوئے تو انہوں نے فوراً ہی ایک امریکی ’’تھنک ٹینک‘‘ میں شمولیت اختیار کرلی۔ جنرل جہانگیر کرامت فوج کے سربراہ رہے تھے اور کون نہیں جانتا کہ امریکا کے تھنک ٹینک میں صرف وہی شخص کام کرتا ہے جو کسی نہ کسی حد تک امریکا کا ایجنٹ ہوتا ہے یا امریکی مفادات کے مطابق کام کرتا رہا ہے۔
جنرل آصف نواز جنجوعہ فوج کے سربراہ بنے تو جنرل حمید گل آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ مگر ان میں ’’عیب‘‘ یہ تھا کہ وہ امریکا کی ’’Good Books‘‘ میں نہیں تھے یا نہیں رہے تھے۔ چناں چہ جنرل آصف نواز نے انہیں آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا کر ایک ایسے منصب پر فائز کردیا جو ان کے مرتبے کے مطابق نہیں تھا۔ چناں چہ جنرل حمید گل نے فوج سے علیحدگی اختیار کرلی۔ ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب، اپنی تہذیب، اپنی تاریخ اور اپنے ملک و قوم اور ملت و امت کا وفادار ہوتا ہے مگر ہمارے جرنیلوں نے گزشتہ 65 سال میں ٹنوں کے حساب سے امریکا پرستی پیدا کرکے دکھائی ہے۔ آخر یہ سلسلہ کب ختم ہوگا؟۔