وفاق المدارس العربیہ پاکستان تعارف وخدمات

266

قرآن وحدیث کی تعلیمات کے بغیر کسی اسلامی معاشرے کی بقا اور اس کے قیام کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اسلامی تعلیمات ہی پر کسی اسلامی معاشرے کی بنیاد اور داغ بیل ڈالی جا سکتی ہے۔ قرآن و حدیث اسلامی تعلیمات کا منبع ہیں اور دینی مدارس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں کہ اسلامی تعلیمات کے ماہرین، قرآن و حدیث پر گہری نگاہ رکھنے والے علما اور علوم اسلامیہ میں دسترس رکھنے والے رجال کار پیدا کیے جائیں، جو آیندہ مسلمان معاشرے کا اسلام سے ناتہ جوڑنے، مسلمانوں میں اسلام کی بنیادی وضروری تعلیم عام کرنے اور اسلامی تہذیب و تمدن کی ابدی صداقت کو اجاگر کرنے کا فریضہ انجام دیں۔
برصغیر میں دینی روایات اور اسلامی اقدار کے تحفظ و سر بلندی کے لیے علما حق نے جو مجاہدانہ و سرفروشانہ کردار ادا کیا ہے، وہ تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔ مشیت خداوندی نے بر صغیر کے اہل علم کے لیے یہ سعادت مقدر کی کہ انہوں نے مآثر اسلامیہ کی حفاظت کے لیے دیگر عالم اسلام کے طریق سے ہٹ کر دینی مدارس کے قیام و استحکام کا بے نظیر کارنامہ سر انجام دیا۔دینی مدارس کی یہ عظیم طاقت مختلف حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔
قیام پاکستان کے بعد اکا بر علما نے مسلمانانِ پاکستان کے اسلامی تشخص کو برقرار رکھنے مملکت ِ خداداد پاکستان میں دینی مدارس کے تحفظ و استحکام اور باہمی ربط کو مضبوط بنانے اورمدارس کو منظم کرنے کے لیے ایک تنظیم کی ضرورت محسوس کی۔ چناں چہ اس مقصد کے لیے اکابر علما کا اجلاس جامعہ خیرالمدارس ملتان میں 20 شعبان المعظم 1376ھ مطابق22 مارچ 1957ء کو حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کی صدارت میں منعقد ہوا اور ایک تنظیمی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ تنظیمی کمیٹی کے اجلاس منعقدہ 14-15ربیع الثانی 1379ھ مطابق 18-19اکتوبر 1959ء کو باقاعدہ طور پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نام سے ایک ہمہ گیر تنظیم کی بنیاد رکھی گئی، جس میں وفاق کے دستور کی منظوری کے ساتھ ساتھ 3 سال کے لیے عہدے داران کا انتخاب عمل میں آیا۔ ساتھ ہی مولانا شمس الحق افغانیؒ کو صدر، مولانا خیر محمد جالندھریؒ کو نائب صدر اول، مولانا محمد یوسف بنوریؒ کو نائب صدر دوم، مفتی محمودؒ کو ناظم اعلیٰ اور مفتی عبداللہؒ کو خازن مقرر کیا گیا۔
ملکی سطح پر تمام دینی مدارس کی ایسی فعال اور مربوط تنظیم کی مثال دیگر اسلامی ممالک میں نہیں ملتی۔ یہ امتیاز صرف پاکستان کے دینی مدارس کو حاصل ہے کہ وہ ایک مربوط تعلیمی نظام سے وابستہ ہیں، اور کتاب و سنت کی ترویج و اشاعت اور شعائر اسلام کے تحفظ و بقا کے لیے یک آواز ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں کئی حکومتوں نے دینی مدارس کو کچلنے اور ان کی آزادی کو پامال کرنے کی مختلف کوششیں کیں، مگر بحمدللہ وفاق المدارس نے ایسے ہر موقع پر مدارس کو حکومتی مداخلت اور سرکاری دست برد سے بچانے کے لیے اپنا فریضہ نہایت دیانت و جرأت سے انجام دیا۔
وفاق المدارس نے دینی مدارس کے تحفظ و بقا، اہل علم کے درمیان توافق و رابطہ، نظام تعلیم و امتحانات میں یک جہتی، جامع نصاب کی ترتیب شہادات کے اجرا اور جدید علوم و فنون اور عصری تقاضوں کے مطابق حسب ضرورت اب تک جو اقدامات کیے ہیں وہ بلاشبہ تاریخ ساز ہیں۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان اس وقت اپنے صدر مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر صاحب، نائب صدر مولانا انوار الحق صاحب، نائب صدر مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب اور ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری صاحب کی قیادت میں دینی خدمات سرانجام دے رہا ہے، اور ملک کا سب سے بڑا دینی تعلیمی بورڈ ہے۔ اس کے تحت 20ہزر 656 مدارس و جامعات کام کررہے ہیں۔ ان مدارس میں ایک لاکھ 36ہزار 184 اساتذہ کرام خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جب کہ 27 لاکھ 11ہزار 493 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
وفاق المدارس سے اب تک فارغ التحصیل ہونے والے علما کی تعداد ایک لاکھ 64ہزار 215، عالمات کی تعداد 2 لاکھ 4ہزار 991اور حفاظ کی تعداد 12 لاکھ 77ہزار 308ہے۔