سندھی قوم پرست حکومت کی متعصبانہ اغلاط!

656

برطانوی انگریزوں کے زیر کنٹرول ہندوستان میں رہ کر اپنے لیے ایک آزاد ریاست بنانے والوں کی یہ بدقسمتی تھی کہ جس خطہ زمین پر ان مسلمانوں کو ان کی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان بنانے کا موقع ملا وہاں صدیوں سے پنجابی، سندھی، بلوچی اور پشتو بولنے والے وہ لوگ آباد تھے جن کی اکثریت قیام پاکستان سے عدم دلچسپی رکھتی تھی ان میں بعض سندھی، بلوچ اور پشتون سردار پاکستان کے قیام کے مخالف بھی تھے۔ شاید یہی وجہ تھی یا پھر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش تھی کہ پاکستان کا دارالحکومت کراچی قرار پایا گوکہ کراچی پاکستان کا دروازہ بنا پاکستان کی بنیاد بنا۔ پھر ہندوستان سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہونے والوں نے تن من دھن سے اسے قبول کرکے اور اسے ایک بہترین اسلامی ریاست بنانے کے لیے اس پر دل کھول کر روپیہ پیسہ لگایا۔ اس طرح ایک عظیم ریاست اس خطہ اراضی پر وجود میں آئی۔ جغرافیائی مجبوریوں کی وجہ سے یہ ملک مغربی اور مشرقی پاکستان کے نام سے 1947 تا 1970 تک دو حصوں میں رہا، بعدازاں ایک سازش کے تحت مشرقی پاکستان کو الگ ہونا پڑا اب وہ بنگلادیش بن چکا ہے۔ مگر مغربی پاکستان کو مستحکم بنانے والوں کے ساتھ اب بھی قیام پاکستان کے مخالفین کی اولادیں آج بھی اپنے دلوں میں بغض رکھتی ہیں۔ قیام پاکستان کے ساتھ یہ طے ہوگیا تھا کہ یہاں کی قومی زبان اردو ہوگی مگر ون یونٹ کے بعد لسانی بنیاد پر چار صوبوں کی تشکیل اور تقسیم نے اردو کو قومی زبان کے طور پر تسلیم کرنے کے باوجود ملک کی ’’قومی زبان‘‘ کے طور مستحکم نہیں ہونے دیا یہی نہیں بلکہ اردو بولنے والوں کو پاکستانی ہی تسلیم کرنے سے گریز کرنے لگے۔ جس کے نتیجے میں وطن عزیز میں پنجابی، سندھی، بلوچ اور پشتون تو نظر آتے ہیں مگر پاکستانی بحیثیت قوم واضح نہیں۔ انتہائی متعصب سندھی قوم پرست تو پاکستانیوں کو نئے سندھی یا سندھی کہلوانے پر زور دیتے رہے حالانکہ اردو بولنے والے مہاجرایک عرصے تک انہیں صرف پاکستان اور اپنے ہم وطن سمجھ کر گلے لگاتے رہے۔
مہاجر اور ان کی اولادیں کراچی میں آباد ہوئیں تو انہوں نے اپنی صلاحیتوں، محنت اور تعلیم کے بل پر ’’کلاچی‘‘ کو کراچی بنادیا۔ کراچی بناکر اسے وسعت دی اور ضرورت کے مطابق ترقی دی۔ مگر آج سندھی قوم پرستوں نے پاکستان بنانے والوں اور ان کی اولادوں کو پناہ گزین کہنے کے بعد اب آزمائشی طور پر انہیں ’’بھاگ کر یہاں آنے والے‘‘ ظاہر کرنے کے لیے ساتویں جماعت کی ٹیکسٹ بک میں سبق تک ڈال دیا تھا۔ اس آزمائشی کتاب کو ابھی سلیبس کا حصہ تو نہیں بنایا جاسکا مگر پھر بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ آزمائشی کتاب چھپوائی کیوں گئی؟ کسے آزمایا جارہا تھا؟ اس کتاب کو ترتیب دینے والوں میں ڈاکٹر کرن ہاشمی، ڈاکٹر عرفان احمد شیخ، رانا حسین، شبرام سہیل، انوسیہ نذیر، کاشف احمد شامل ہیں۔ اس ٹیسٹ اشاعت پر سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے سیکرٹری نے معذرت تو کی اور وضاحت کی کہ ’’جو کتاب نصاب بورڈ سے تصدیق ہوکر آئی تھی اسے ہی چھاپا گیا تھا‘‘۔ لیکن کسی ذمے دار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، اگر یہ غلطی نصاب بورڈ کی ہے تو ان کے ذمے داروں کے خلاف کون اور کب کارروائی کرے گا ؟ اس متعصبانہ غلطی پر پورے بورڈ کے خلاف نہیں بلکہ محکمہ تعلیمات کے بڑے بڑے کرتا دھرتاوں کے خلاف بھی ’’امن و امان خراب کرنے کی سازش کے مقدمات درج کیے جانے چاہیے۔
سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے صرف یہی غلطی نہیں کی بلکہ اردو کی پہلی کتاب میں ض سے ضعیف لکھ کر بین الاقوامی شہرت یافتہ سماجی کارکن مولانا عبدالستار ایدھی مرحوم کی تصویر بطور ’’ضعیف‘‘ ظاہر کردی۔ مرتے دم تک انسانیت کی بلا تفریق خدمت کرکے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کرنے والے ایدھی صاحب کو ایک عام ضعیف کے طور پر پیش کرنا ان کی توہین و تذلیل کرنے کے مترادف ہے۔ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے پاکستان بنانے والوں اور اس کے لیے قربانیاں دینے والے مشرقی پاکستان کے لوگوں کو ساتویں جماعت کی معاشرتی علوم کی آزمائشی اشاعتی کتاب میں ’’مفرور‘‘ اور مولانا ایدھی کو ایک عام ضعیف قرار دے کر اپنے آپ کو پڑھا لکھا ’’جاہل‘‘ ہونے کا اظہار نہیں تو اور کیا، کیا؟۔ یہی نہیں بلکہ سندھی ٹیکسٹ بک بورڈ کے ذمے داروں نے اس بات کا اظہار کیا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو ’’تاریخ‘‘ کیا ہوتی ہے، اسے بنانے والے کیا کہلاتے ہیں اور ضعیف کسے کہا جاتا ہے ان سب کا اظہار اسی طرح کی منفی الفاظ کے ذریعے کرسکتے ہیں۔ عام خیال ہے کہ ایسے الفاظ ’’سندھی اَن پڑھ ماڑو‘‘ تو استعمال کرسکتا ہے مگر کوئی سمجھدار اور پڑھا لکھا انسان نہیں کرسکتا۔
مشرقی پاکستان سے ہجرت کرکے آنے والوں نے دو مرتبہ ہجرت کی۔ انہیں پناہ گزین یا بھاگ کر آنے والے کہنا غلطی نہیں بلکہ گناہ ہے اس کی سزا انہیں دی جانی چاہیے۔ اطمینان کی بات ہے کہ یہ معاملہ ملک کے ایوان بالا میں اٹھا دیا گیا ہے۔ مگر سندھ حکومت اس معاملے کو مسلسل نظر انداز کرکے اپنی ’’دنیا‘‘ میں مد ہوش ہے۔ کیونکہ یہ پورا معاملہ کسی بھی قسم کے ’’کمیشن‘‘ مبرا ہے۔