مائیکرو سیاست کا ایک نیا ماڈل

312

عباس عالم
کہتے ہیں۔۔۔ سیاسی پارٹیوں کا عوام سے تعلق اور رابطہ اس وقت دنیا بھر میں کمزور پڑتا چلا جارہا ہے۔ اس لیے سیاسی پارٹیوں سے ابھرنے والی قیادت میں بھی اب پہلے جیسی جان اور دم خم نظر نہیں آرہا۔ اچھا اب ایک جانب تو بڑی سیاسی پارٹیوں اور عوام کا تعلق کمزور ہوتا چلا جارہا ہے تو دوسری جانب چھوٹے چھوٹے عوامی گروپس احتجاجی قوتوں کی شکل میں سامنے آرہے ہیں۔ یہ گروپس سوشل میڈیا کو انتہائی مہارت سے استعمال کر رہے ہیں اور کسی مقامی مسئلے یا کسی ادارے کے خلاف آواز اٹھانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔۔۔ اس لیے بعض بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سیاسی پارٹیوں کو اب خود کوئی مہم چلانے کے بجائے چھوٹے چھوٹے عوامی گروپوں کے ساتھ موثر پارٹنر شپس قائم کرنے کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ اس لیے کہ ان چھوٹے عوامی گروپوں کے پاس ایک خاص متعین ایجنڈا ہوتا ہے، لوگ ہوتے ہیں، کوئی اہم ایشو ہوتا ہے۔۔۔ لیکن اسے منظم طور پر لے کے چلنا ان کو نہیں آتا۔ اس مسئلے کو کس طرح حل کرنا ہے، دباؤ کیسے بڑھانا ہے اور بالآخر ڈیلیور کیسے کرنا ہے۔۔ یہ سب معاملات ان گروپوں کے بس کی بات نہیں ہوتے۔ اس لیے یہ گروپ جلدی ہمت اور فوکس کھو بیٹھتے ہیں اور ساری انرجی ضائع ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر عین اس موقع پر کوئی سنجیدہ سیاسی پارٹی ان کا ہاتھ تھام لے تو پھر اس سیاسی پارٹی کو ایک جانب معاشرے میں فعال ترین کردار ادا کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو دوسری جانب اس کو خود سے دور سماجی طبقات سے ایسا انٹریکشن بھی میسر آجاتا ہے جو طویل مدت میں سیاسی پارٹی کو توانائی اور ہمہ گیر مقبولیت عطا کرسکتا ہے۔ اس سارے انٹریکشن میں سوشل میڈیا ظاہر ہے کہ ایک انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔۔ وہ ان چھوٹے چھوٹے گروپ اور سیاسی پارٹی کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کر دیتا ہے جس کی بدولت سیاسی عمل سے ناواقف لوگ بھی بہت آسانی سے سیاسی عمل اور پروسس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ عوامی گروپوں کا ایجنڈا، سوشل میڈیا کی طاقت، اور سیاسی پارٹی کا انفرا اسٹرکچر۔ یہی وہ تین نکاتی فریم ورک ہے جو آنے والے وقت میں دنیا کو نئے سیاسی ورکنگ ماڈل مہیا کر سکتا ہے۔۔ یہ ساری تھیوری ہم نے پولٹیکل مارکیٹنگ کی کتابوں میں پڑھی تو تھی لیکن بحریہ ٹاؤن کے حالیہ مسئلے نے اس تھیوری کو مجسم طور پر ہمارے سامنے کھڑا کردیا ہے۔
اس سارے معاملے میں احتجاجی گروپ جس طرح منظم ہوئے۔ جس طرح انہوں نے اپنا ایجنڈا طے کیا۔ جس طرح اطلاعات کے بہاؤ کا نیٹ ورک بنایا۔۔۔ لیکن پھر جس طرح بے بسی کا اظہار کیا کہ کوئی ان کا ہاتھ تھامنے والا نہیں۔ پھر جماعت اسلامی نے جس طرح سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے اور ان کے درمیان روابط استوار کیے، ان گروپوں کی بکھری ہوئی طاقت کو اپنا پلیٹ فارم مہیا کیا اور جس طرح ان بکھرے ہوئے گروپوں کے غم وغصے کو ایک منظم عوامی شکل دی۔۔ اس سے ہمیں اس پوری تھیوری کو عملی شکل میں دیکھنے کا ایک بہت شاندار موقع مل گیا۔ آپ شاید سوچ رہے ہوںگے کہ اس سارے معاملے میں نیا کیا ہے؟؟ تو بات یہ ہے کہ یہ سیاست کا ایک ممکنہ نیا اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ماڈل ہے۔ مثلاً دیکھیے۔۔ اس معاملے میں نہ تو مین اسٹریم میڈیا نے کوئی کردار ادا کیا نہ بڑی سیاسی جماعتوں نے مسئلے کو اٹھایا۔ نہ کسی اور ادارے نے اپنا فرض پورا کیا لیکن پھر بھی صرف سوشل میڈیا کے ذریعے مسئلہ اس قدر اجاگر کرلیا گیا کہ ملک ریاض جیسے ٹائیکون کو پے در پے ایسے ویڈیو بیانات جاری کرنے پڑے جن میں گھبراہٹ اور بیچارگی ان کے چہرے سے عیاں تھی۔ یہ وہی ملک ریاض صاحب تھے جو دو سال سے منظر عام سے غائب تھے اور ان کے اپنے کلائنٹس اور صارفین کا مسلسل احتجاج قطعی طور پر صدا بصحرا ثابت ہوا تھا لیکن ان گروپوں کی ایک سنجیدہ پولٹیکل پارٹی کے ساتھ پارٹنر شپ قائم ہوتے ہی بحریہ اور ملک ریاض کی شان بے نیازی ریت بن کر بکھر گئی۔ اب ملک صاحب روزانہ کبھی خود تو کبھی اپنی انتظامیہ کے ذریعے کوئی نیا پیغام جاری کر رہے ہیں اور یہ برف کی سل جیسا مسئلہ تیزی سے پگھلنا شروع ہو گیا ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو پاکستان کے موجودہ منظر نامے میں یہ ایک بہت اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس وقت پاکستان کا بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ تقریباً پورے کا پورا نظام۔۔۔ سارے سیاسی تجارتی اور کمرشل ادارے مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں اور سیاست عوامی ایشوز سے مکمل طور پر کٹ کے صرف نعرے بازی بن چکی ہے ہے۔ لوگ مختلف اشوز پر چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ ایک طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشرہ ایسے چھوٹے چھوٹے قبائل میں بٹ چکا ہے جن کے پاس افرادی قوت ہے، سوشل میڈیا ہے، وسائل ہیں لیکن سیاسی پارٹی جیسی مذاکراتی صلاحیت اور انفرا اسٹرکچر ان کے پاس نہیں ہے۔ ایسے میں اگر کوئی سیاسی پارٹی ان گروپوں کے ساتھ پارٹنرشپ کرسکے تو کچھ سال میں وہ اس بات کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے کہ صرف وہی حقیقی سنجیدہ سیاسی پارٹی ہے جس کو عوامی مسائل کو سمجھنا، صحیح اسٹرٹیجی تیار کرنا اور اپنا پلیٹ فارم مہیا کر کے مسائل کا حل تلاش کرنا آتا ہے۔
انڈیا میں اس وقت دہلی کے وزیراعلیٰ بھی سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے تقریباً ایسے ہی تجربات کر رہے ہیں اور اب ان کی مقبولیت پورے انڈیا میں آسمان کو چھو رہی ہے۔۔۔ پاکستان میں بھی ہمیں بحریہ ٹاؤن کے اس پورے معاملے کو ایک کیس اسٹڈی کے طور پر لینا چاہیے۔۔ یعنی اگر اس مسئلے کو حل کرلیا جائے یا حل کی طرف مثبت پیش رفت کر لی جائے تو یہ ہمارے ہاں مائیکرو سیاست کا ایک نیا ماڈل ہو گا جو پاکستان کے بہت کام آ سکتا ہے۔ کیونکہ دیکھیے نظام بدلنا تو اچھا مشن ہے۔۔۔ لیکن نظام بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ جب آپ کو نظام بدلنے کا موقع ملے تو اس وقت کوئی نظام باقی تو ہو۔۔۔ ورنہ نظام ہی باقی نہ رہا تو بدلیں گے کیا؟؟