مودی سرکار این آر سی ایکٹ کے نفاذ میں تردد کا شکار

125
بنگلور: مودی سرکار کے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج میں مسلمان خاتون تقریر کررہی ہے

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی لوک سبھا کو تحریری طور پر مطلع کیا گیا ہے کہ حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا، جس کے تحت ملک بھر میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن ’’این آر سی‘‘ کا اطلاق کیا جائے۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے کا کہنا تھا کہ حکومت نے تاحال این آر سی سے متعلق کسی قسم کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ارکان پارلیمان چندن سنگھ اور ناگیشور راؤ نے این آر سی پر سوالات اٹھائے تھے۔ ارکان نے حکومتی وزرا سے سوالات کیے تھے کہ کیا حکومت پورے ملک میں این آر سی کا اطلاق کرنے جا رہی ہے ؟ اور اگر حکومت ایسی کوئی منصوبہ بندی کر رہی ہے تو اس کی تاریخیں کیا ہوں گی؟ وزیر مملکت برائے داخلہ نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ حکومت نے ابھی ایسا کوئی فیصلہ نہیں کہ ملکی سطح پر بھارت کے شہریوں کے لیے این آر سی کے اطلاق کی تیاری کی جائے۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت کا یہ جواب ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب بھارت کے مختلف شہروں میں متنازع شہریت کے قانون سٹیزن ایمنڈمنٹ ایکٹ (سی اے اے )، نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ دوسری جانب جماعت کانگریس کے اہم رہنما اور رکن پارلیمان ڈاکٹر ششی تھرور نے کہا ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ آئین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ اس لیے ہم نے اس کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ اس قانون کے خلاف عام عوام احتجاج کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ بھی سراپا احتجاج ہیں، جن کا سیاسی جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ششی تھرور نے کہا کہ لوگ اپنے غصے اور جذبات کا اظہار کر رہے ہیں اور ہمیں ایسے لوگوں کی اخلاقی حمایت حاصل ہے۔