یوم یکجہتی کشمیر ،پس منظر اور تقاضےا

162

عبدالرشید ترابی

1990 ء میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ستائے ہوئے ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کی داستانوں کے ساتھ آزاد کشمیر وارد ہوئے تو ان کی بڑی امیدیں اور توقعات تھیں کہ دراصل پاکستان انہیں ان مظالم سے نجات دلانے کے لیے بھر پور کردار ادا کرے گا، لیکن بدقسمتی سے یہاں شدید سیاسی تناؤ تھا۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف باہم بر سر پیکار تھے۔ ان حالات میں قاضی حسین احمد مرحوم امیر جماعت اسلامی پاکستان آگے بڑھے آزاد کشمیر کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز کے دورے کیے اور5 جنوری حق خود ارادیت کے موقع پر قوم سے اپیل کی کہ 5فروری کو پوری قوم مجاہدین کشمیر کے ساتھ مکمل یکجہتی کرتے ہوئے انہیں یہ پیغام دے کہ وہ اس جدو جہد میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ پوری پاکستانی قوم ان کی پشت پر ہے۔ ان کی اس اپیل پر میاں محمد نواز شریف جو پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے اور آئی۔ جے۔ آئی کے ایک مرکزی رہنماء کی حیثیت سے حزب اختلاف کی نمائندگی کر رہے تھے نے فوری حمایت کی۔ اس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ نے بطور وزیر اعظم اور اپنی پارٹی وحکومت کی طرف سے بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔ یوں پہلی مرتبہ قومی سطح پر مجاہدین کشمیر کے ساتھ بھرپور یکجہتی کر تے ہوئے انہیں پیغام دیا کہ وہ اس جدو جہد میں تنہا نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم ان کی پشت پر ہے۔
آج یوم یکجہتی کشمیر ایسے عالم میں منایا جا رہا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت کے 5اگست 2019ء کے اقدامات کے نتیجے میں ریاست جموں و کشمیر کی سیاسی حیثیت کو تبدیل کر دیا گیا ہے، گزشتہ چھ ماہ سے مسلسل کرفیو اور پابندیاں ہیں، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے بھارت کی دور دراز جیلوں میں بدترین مظالم اور ہتھکنڈوں کا شکار کیا جا رہا ہے۔ قائدین حریت جیلوں میں بند ہیں اور وہ وکلا، عزیز و اقارب اور ڈاکٹرز کی رسائی سے محروم ہیں۔ نوے سالہ قائد حریت جناب سید علی گیلانی گزشتہ 10برس سے گھر میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں، تیمارداری کرنے والے عزیز واقارب گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی شدید بیمار ہیں، علاج معالجہ کی سہولت سے مرحوم ہیں، سینٹرل بار سری نگر کے صدر میاں عبدالقیوم آگرہ جیل میں شدید عارضہ قلب کا شکار ہیں، ڈاکٹر عبدالحمید فیاض امیر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پانچ ہزار سے زائد کارکنان اور ذمے داران کے ساتھ گرفتار ہیں، جماعت کے گرفتار رہنماؤں کو بھی بھارت کی دور دراز جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے جہاں وہ تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ان میں سے دو بزرگ رہنما نذیر احمد کرنائی ساکن بھدرواہ اور غلام محمد بٹ کپواڑی بھارتی جیلوں میں بروقت علاج معالجہ کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے شہید ہوگئے یا کر دیے گئے، عزیز واقارب کی بڑی تگ و دو کے بعد ان کی میتیں حاصل کی گئیں، کرفیو توڑتے ہوئے ہزاروں نوجوانوں نے ان کی نماز جنازہ میں شریک ہو کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ معاشی میدان میں سیاحت، تجارت اور فصلات بالخصوص سیب کی فصل تباہ ہو گئی ہے۔ ماہرین کے جائزوں کے مطابق ڈیڑھ ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، لیکن ان تمام بھارتی استعماری ہتھکنڈوں کے باوجودکشمیری سرنڈر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں بلکہ وہ کشمیری جو اب تک نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی سے وابستہ تھے اور بھارت نواز سمجھے جاتے تھے، جن میں فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی اور ان کے خاندانوں اور پارٹیوں کا ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے نتیجے میں حریت کانفرنس کی صفوں میں کھڑے ہونے پر مجبور کر دیے گئے ہیں۔ نریندر مودی کی اس بے تدبیری نے پوری کشمیری قوم کو ایک صف میں کھڑا کر دیا ہے جو کسی اور تدبیر سے ممکن نہ تھا۔ مودی کے ان اقدامات کو کشمیریوں اور غیر مسلم اقلیتوں نے بھی مسترد کر دیا گیا۔ صوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے وکلا کی ہر سطح کی بار ایسوسی ایشنز نے ہزاروں کی تعداد میں ایک کانفرنس کے ذریعے ان اقدامات کو مسترد کر تے ہوئے دفعہ 370 اور 35-A کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان دفعات کے خاتمے کے بعد مودی حکومت لاکھو ں غیر ریاستی ہندؤں کو جموں وکشمیر میں آباد کر نا چاہتی ہے، ان کا پڑاؤ یقینا جموں ہوگا کیونکہ اصل جموں کو خدشہ ہے کہ معاشی استیصال کا پہلا شکار وہ ہیں اس کے لیے وہ مزاحمت کر رہے ہیں۔ اسی طرح لداخ اور کارگل میں کرفیو توڑ کر ہزاروں لوگوں نے مظاہرہ کیا اور مودی کے ان اقدامات کو مسترد کر تے ہوئے ریاست کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ جرائم چھپانے کے لیے بھارت نے نہ صرف بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے اداروں کی رسائی پر پابندی عائد کر رکھی ہے بلکہ بھارتی سیاسی رہنماؤں اور اقلیتوں کو بھی وادی میں رسائی حاصل نہیں۔ پابندیوں کے باوجود زندہ ضمیر صحافیوں نے کسی طور محدود سطح کے دورے کر کے اپنی رپورٹس میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کر نے میں اہم کر دار ادا کیا۔ یشونت سنہا سابق بھارتی وزیر خارجہ جو بی جے پی کے مرکزی رہنما ہیں وہ شہری حقوق گروپ کی قیادت کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر اپنی کئی رپورٹس پیش کر چکے ہیں، حال ہی میں وہ وادی کا محدود سطح پر دورہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اپنے دورے کے تاثرات بیان کر تے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کے ان اقدامات نے کشمیریوں کو شدید مشکلات کا شکار کر دیا ہے۔ بالخصوص ہزاروں نوجوانوں کو فدائی بمبار بننے پر مجبور کر دیا گیا ہے، وہ بھارتی افواج سے انتقام کے لیے اسلحہ اور مواقع کی تلاش میں ہیں۔ اس غم و غصے کو ٹھنڈا کر نے کے لیے حال ہی میں چونتیس بھارتی مرکزی وزرا نے کشمیر کا دورہ کر تے ہوئے لوگوں کو مطمئن کر نے کی کوشش کی، لیکن وہ نامراد لوٹے۔ بہر حال خلاصہ یہ ہے کہ پورے مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر سراپا بغاوت ہے۔ اس موقع پر بہت سے مجاہدین بھارتی فوج سے جھڑپوں میں شہید ہوئے، جن کے جنازوں میں ہزاروں مردو زن نے شریک ہو کر پاکستانی پرچموں کی بہار کے ساتھ شہداء کو رخصت کرتے ہوئے اپنے عزم آزادی کا اظہار کیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان بھارتی اقدامات کو مسترد کیا گیا۔ بھارتی لابی کی تمام تر کوششوں کے باوجود دو مرتبہ سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھارتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کشمیر کو اقوام متحدہ کے ایجنڈے کا حصہ قرار دیا، برطانوی پارلیمان میں درجنوں کانفرنسیں ہوئیں، یورپی پارلیمنٹ میں سیکڑوں ارکان کی طرف سے قراردادیں زیر بحث ہیں، برطانیہ یورپ کے دیگر دارالحکومتوں، امریکا اور مسلم دنیا کے دارالحکومتوں میں مسلسل سرگرمیاں جاری ہیں۔
اس عرصے میں راقم کو کوالالمپور، استنبول، انقرہ، کویت اور تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی کی دعوت پر برطانیہ کی پارلیمنٹ میں اور 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے موقع پر اور اس کے بعد کئی کانفرنسوں میں شرکت کا موقع ملا جو تارکین وطن کے جوش و جذبے کا مظہر تھیں۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی اقوام متحد کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایک جامع خطاب کے ذریعے کشمیر کی صورت حال اور نریندمودی کے اقدامات کو بے نقاب کیا۔ حال ہی میں ڈیوس میں بھی انہوں نے وارننگ دی کہ دنیا کے امن کو تباہی سے بچانے کے لیے مسئلہ کشمیر حل کیا جائے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں اگرچہ پارلیمنٹ میں متفقہ قراردادیں پیش ہوئی لیکن عوامی سطح پر بھر پور احتجاجی پروگرام صرف جماعت اسلامی نے ہی منعقد کیے۔5 اگست کے بعد امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے پاکستان اور آزاد کشمیر بشمول گلگت بلتستان کے تمام اہم مقامات پر خطابات کیے، اسلام آباد میں ایک بڑے مارچ کا انعقاد یکجہتی کی علامت تھا۔