آزاد کشمیر حکومت کو پورے کشمیر کی حکومت قرار دیا جائے

303

سینیٹر سراج الحق
امیر جماعت اسلامی پاکستان
5اگست 2019ء کے بھارتی اقدام جس میں انتہا پسند مودی نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کردیا اور کشمیر کو بھارتی ریاست ڈکلیئر کر کے 80لاکھ کشمیری مسلمانوں کو گویا ہمیشہ کے لیے اپنا غلام بنانے کی کوشش کی۔ پانچ فروری 2020 کو کشمیر میں بدترین کرفیو کو ایک سو پچاسی دن ہوگئے ہیں۔ ان تقریباً سات ماہ میں ایک کوئی دن بھی کشمیریوں نے چین کے ساتھ نہیں گزارا۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھی اس پر عملاً کچھ نہیں کرسکی۔ سلامتی کونسل کے دو اجلاسوں کے ایجنڈے میں تو مسئلہ کشمیر کو شامل کیا گیا مگر کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی کوشش سامنے نہیں آئی۔ ہمارے وزیر اعظم نے کشمیر کے سفیر بننے کا بڑا بلند آہنگ دعویٰ کیا تھا مگر ایک تقریر کے بعد لگتا ہے ان کی سفارت کاری بھی دم توڑ گئی ہے۔ ٹیپو سلطان کے رستے کا انتخاب کرنے کے نعرے لگانے والے وزیر اعظم نے پہلے بازو پر کالی پٹی باندھی اور اس کے بعد ایک آدھ جمعہ دفتر سے آدھا گھنٹہ باہر نکل کر احتجا ج کیا اور اس کے بعد ایسی چپ سادھی آج تک اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر انہیں ڈھونڈ رہی ہے۔ کشمیر ابھی نہیں تو کبھی نہیں والی پوزیشن پر پہنچ گیا ہے، پاکستان کی بقا سا لمیت اور تحفظ کے لیے کشمیر کی آزادی ضروری ہے۔ قوم آزادیٔ کشمیر کے لیے آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک لڑنے کا عزم رکھتی ہے۔ قوم حکمرانوں سے مطالبہ کررہی ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کو پورے کشمیر کی حکومت ڈکلیئر کیا جائے۔ حریت راہنمائوں کو آزاد کشمیر کے شناختی کارڈ جاری کیے جائیں۔کنڑول لائن پر لگی باڑ کو گرایا اور دوست ممالک اور عالمی برادری سے کشمیرکی آزاد ریاست کی حیثیت بحال کرنے کی اپیل کی جائے۔
5فروری ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر انتہائی جوش و جذبہ اور تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری پاکستانی قوم مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے لیے جلسے جلوس، ریلیوں اور سیمینارز میں کشمیریوں کا ہر سطح پر ساتھ دینے کے عہد کا اعادہ کرتی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی رسمی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں اعلیٰ حکومتی شخصیات کی طرف سے بھارتی ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے بلند و بانگ دعوے سنائی دیتے ہیں، بلاشبہ یہ تقریبات اور روایت انتہائی مبارک اور قابل تحسین ہیں لیکن بحیثیت قوم ہمیں جائزہ لینا اور اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا کہ کیا ہم ان توقعات اور امیدوں پر پورا اترتے ہیں جو کشمیری شہداء کی مائوں بہنوں اور بیٹیوں نے ہم سے لگا رکھی ہیں۔ کشمیری شہدا قبر میں بھی اپنے جسموں پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم لپیٹ کر اترتے ہیں مگر ہمارے حکمران کشمیری شہدا کے خون سے بے وفائی کررہے ہیں۔ پاکستانی قیادت اور قوم کی آنکھیں کھولنے کے لیے مودی کا یہ بیان کافی ہے کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے اور یہ بیان اس نے توتے کی طرح کئی بار دہرایا ہے۔ مودی کشمیر میں ہمارا خون بہارہا ہے اور پاکستان کے حصہ کا پانی بند کرکے پاکستان کو بنجر صحراء بنانے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔ کشمیر کے لوگ مزاحمت نہ کرتے تو بھارت اب تک کئی بیراج اور ڈیم بنا چکا ہوتا، موجودہ پنجاب اور سندھ ریگستان کا منظر پیش کررہا ہوتا، کشمیریوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پاکستان کو سیراب کرنے والے دریائوں کی حفاظت کی اور پاکستان کو بنجر ہونے سے بچایا۔ پنجاب اور سندھ کی لہلہاتی فصلوں میں پانی کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا خون بھی شامل ہے۔ کشمیری بھارت کا راستہ نہ روکتے تو پاکستان کے اندر ہزاروں کلبھوشن تخریب کاری کررہے ہوتے۔ پاکستان کے جغرافیائی تحفظ کے لیے کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ کشمیری 72سال سے بھارتی قابض فوج کے ساتھ برسرپیکار ہیں، ہزاروں نوجوان بھارت کے عقوبت خانوں میں اذیت ناک اور انسانیت سوز سزائیں بھگت رہے ہیں، کشمیریوں کی عزتیں محفوظ نہیں رہیں، مساجد اور مدارس اور کھیتوں اور کھلیانوں کو نذرآتش کیا جارہا ہے، جعلی مقابلوں میں نوجوانوں کو قتل کردیا جاتا ہے اور زخمیوں کو اسپتال پہنچانے کے بجائے تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا جاتا ہے، برہان مظفر وانی کی شہادت اور 5اگست کے بھارتی اقدام کے بعد سے بھارتی فوج کے ظالمانہ ہتھکنڈوں میں بے انتہاء اضافہ ہوچکا ہے لیکن کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو یہ ظلم و جبر اور حیوانیت ٹھنڈا نہیں کرسکی۔ تحریک آزادی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اور اساتذہ شامل ہوگئے ہیں، گزشتہ سال کے دوران پانچ پی ایچ ڈیز جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا لیکن اس پر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی اور بھارت کو اس جبر و استبداد سے روکنے کی کوئی کوشش نہ کرنا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سے پوری وادی میں کرفیو ہے جسے پانچ اگست کے بعد مزید سخت کردیا گیا ہے اور ہر گلی کے موڑ، چوک اور چوراہے پر بھارتی فوجی کھڑے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کے لیے ایک آتش فشاں بن چکا ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔ بھارتی فوج نے ہزاروں لوگوں کو زخمی اور پیلٹ گنوں سے اندھا کر دیا ہے۔ کیا کسی کا ضمیر اتنی گہری نیند بھی سوتا ہے؟ اب تک حکومت کو بھارت سے ہر طرح کے سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کر دینے چاہئیں تھے۔ بھارت نے آج تک پاکستان کے نظریہ اور جغرافیہ کو تسلیم نہیں کیا۔ کشمیر کا جہاد کوئی علاقائی لڑائی یا محض زمین کے ایک ٹکڑے کا تنازع نہیں بلکہ یہ تکمیل پاکستان کی جنگ ہے جو کشمیری لڑ رہے ہیں، حکومت پاکستان کواب منافقانہ رویہ چھوڑ دینا اور اپنا فرض پورا کرنا چاہیے، حکمران سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ میں محض ایک تقریر سے مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا۔ حکومت کشمیریوں کی وکالت کر ے یا بھارت سے دوستی نبھائے۔ بھارت ہمارا خون بہارہا ہے آبی دہشت گردی کررہا ہے اور دوسری طرف پاکستانی حکومت بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے جسے بھارت بار بار جھٹک دیتا ہے۔
بھارت نے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور کشمیریوں کی نسل کشی کے لیے 73سال سے جارحیت کررہا ہے مگر عالمی برادری نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ قابض فورسز کی طرف سے ممنوع پیلٹ گن کے استعمال پر بھی عالمی برادری کا ضمیر نہیں جاگا۔ اس ہتھیار نے کشمیری نوجوانوں، بچوں اور خواتین کو بینائی سے محروم اور ہزاروں کو زخمی کر دیا۔ بھارت کا مسلسل کرفیوکے ذریعے کشمیری عوام کو مستقل عذاب میں مبتلارکھنا، اخبارات، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پرپابندی عائد کرکے دنیا کو کشمیر کی صورت حال سے بے خبر رکھ کر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنا ایسے گھنائونے جرائم ہیں جن کی بنیاد پر بھارت کو

انسانی حقوق کمیشن اور عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کرنا انتہائی ضروری تھا۔ لیکن حکومت پاکستان نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اور ضروری اقدامات کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ پاکستان ایٹمی قوت اور پاکستانی قوم ایک جرأت مند قوم ہے مگر حکمرانوں کی بے حسی اور بھارت نواز پالیسیوں کی وجہ سے کشمیریوں کو شدید تحفظات ہیں جن کا اظہار وہ کئی بار کرچکے ہیں۔