کراچی کی سڑکوں، کھیل کے میدانوں اور پارکس میں پتھارےاورتجاوزات تاحال قائم ہیں

182

کراچی(رپورٹ:منیر عقیل انصاری)بلدیاتی اداروں کے افسران سپریم کورٹ کے تجاوزات کے خاتمے کے احکامات پر عملدرآمد کے بجائے جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں، کے ایم سی کا محکمہ انسداد تجاوزات کے افسران کی پر ستی میں شہر بھر میں لاکھوں کی تعداد میں مرکزی اور زیلی سڑکوں، کھیل کے میدانوں اور پارکس میں پتھارے اور دیگر تجاوزات تاحال قائم ہیں،

جن سے محکمہ کے افسران تاحال کروڑوں روپے بھتہ وصول کررہے ہیں جبکہ کے ایم سی کی جانب سے پارکس میں قائم تجاوزات جن میں الہ دیم پارک میں قائم شاپنگ سینٹر اور نجی کلب،عزیز بھٹی پارک میں قائم مکان،ہل پارک میں قائم دودرجن سے زائد دکانوں شادی ہال،ریسٹورینٹ قائم ہیں جبکہ دیگر پارکس میں قائم تجاوزات کے خلاف تاحال کارروئی نہیں کی گئی ہے،

جبکہ اطلاعات ہیں مذکورہ جگاہوں سے کے ایم سی افسران بھاری بھتہ وصول کر رہے ہیں جس کی وجہ سے پارکس میں قائم تجاوزات کے خلاف سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد بھی کارروائی نہیں کی جارہی ہے،

دوسری طرف کے ایم سی کے زیر انتظام سڑکوں اور علاقوں میں بھی لاکھوں کی تعداد میں ناصرف پتھارے اور تجاوزات قائم ہیں بلکہ یونیورسٹی روڈ پر اسنیک بار مالکان نے زیلی سڑک پر قبضہ کر رکھا ہے اسنیک بار مالکان کے ایم سی افسران کے ساتھ مل کر اپنی میزیں اور کرسیاں زیلی سڑک پر سجا دیتے ہیں،

اسی طرح شاہراہ پاکستان،راشد منہاس روڈ،ناگن چورنگی، حیدری،بورڈ آفس،کریم آباد، عائشہ منزل،نارتھ ناظم آباد،دستگیر سمیت دیگر علاقوں کی سڑکوں پر اسنیک بار مالکان اور پتھاریدار قابض جس کے عیوض کے ایم سی کے افسران ماہانہ بھاری بھتہ وصول کر رہے ہیں،

جبکہ کے ڈی اے کے افسران بھی کے ایم سی افسران کی طرز پر سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرنے کے بجائے پسند اور ناپسند کی بنیاد پر آپریشن میں مصروف ہیں جبکہ اطلاعات ہیں کہ کے ڈی اے افسران بھی سپریم کورٹ کے احکامات کی آڑ میں تجاوزات مالکان سے منہ مانگا بھتہ وصول کرنے میں مصروف ہیں،

جبکہ کے ڈی اے کے زیر انتظام علاقوں بلخصوص گلستان جوہر،گلشن اقبال کے متعدد پارکس پر قبضہ کرکے مکانات اور تجاوزات قائم ہیں تاہم کے ڈی اے کی جانب سے تاحال پارکس خالی کرانے کے لئے کسی قسم کی موثر کارروائی نہیں کی گئی ہے،

ذرائع کے مطابق شہر بھر میں قائم تجاوزات سے بلدیاتی اداروں کے افسران کروڑوں روپے ماہانہ بھتہ وصول کررہے ہیں جس کی وجہ سے سپریم کورٹ، چیف سیکرٹری اور کمشنر کراچی کے تجاوزات کے خاتمے کے مسلسل احکامات کے باوجود تجاوزات کا خاتمہ نہیں کیا جارہا ہے۔