کشمیر پر تمام جماعتیں یک آواز ہیں،حکومت اور ریاست جہاد کا راستہ اختیار کرے،حسین محنتی

111

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ آزادی کشمیر کے لیے حکومت اور ریاست کو جہاد کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ۔ آزاد کشمیر بھی جہاد سے ہی حاصل کیا گیا ہے ۔ مذاکرات یا ثالثی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا ، مسئلہ کشمیر پر پوری قوم اور تمام جماعتیں یک آواز ہیں ۔ اتحاد اور یکجہتی وقت کی ضرورت ہے ۔ 5فروری کو جماعت اسلامی کے تحت کراچی میں میٹروپول سے قائد آباد تک شارع فیصل پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے 20کلو میٹر طویل انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائے گی ۔ اہل کراچی اپنی فیملی کے ساتھ اس میں شریک ہوں ۔ مرد و خواتین ، نوجوان ، بزرگ ، بچے تمام مکتب فکر اور شعبہ زندگی سے وابستہ افراد ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارت کی مذمت کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں جماعت اسلامی کراچی کے تحت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کل جماعتی کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کانفرنس سے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سابق وفاقی وزیر پروفیسر این ڈی خان ، مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما نہال ہاشمی اور جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر برجیس احمد سمیت مختلف دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض نائب امیر مسلم پرویز نے انجام دیے ۔ کانفرنس میں متفقہ طور پر ایک قرار داد بھی منظور کی گئی ۔ محمد حسین محنتی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ کشمیر کی آزادی کی جدو جہد جو 72سال سے جاری ہے اسے صرف اور صرف کشمیریوں نے خود جاری رکھا ہے اور یہ جنگ انہوں نے مقامی طورپر شروع کی ہے اور ان کی جنگ ان کی آزادی اور پاکستان کی تکمیل کی جنگ ہے ۔ وہ آج بھی بھوکے پیاسے اور بے سروسامانی کے عالم میں بھارت کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔ کشمیر کے حوالے سے تمام پارٹیوں کو بھی ثبوت دینا چاہیے کہ وہ متحد ہیں ۔کشمیر کی آزادی پاکستان کے لیے بہت اہم ہے ۔ قائداعظم نے کشمیر کو شہ رگ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم اسے ضرور آزاد کرائیں گے ۔ کشمیریوں نے جدو جہد کرنے کا حق ادا کردیا ہے ۔183دن ہو گئے ہیں اور انہوں نے بھارت کے بالا دستی اور حالیہ اقدامات کو بھی قبول نہیں کیا ہے ۔ وہ اپنے شہدا کی میتوں کو پاکستان کے جھنڈے میں لے کر نکلتے ہیں اور صرف اور صرف پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں ۔ آج بھارت کے اندر بھی حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اور بھارت کے اندر حالات بھارت کے لیے مشکل تر ہو رہے ہیں ۔پروفیسر این ڈی خان نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے ملک کو مضبوط کریں اور قومی اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے اس مسئلے کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اُٹھائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہماری حکومتوں نے اس مسئلے کو درست طریقے سے نمایاں نہیں کیا ہے ۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب اس مسئلے کے لیے عالمی دورے پر نکلا ۔ کشمیر کے حوالے سے ایک قومی پالیسی تشکیل دی جائے ۔ جس میں کسی بھی حکومت کو تبدیلی کرنے کی اجازت نہیں ہو ۔ مسلم امہ کے بلاک کو مسئلہ کشمیر پر اپنا ہمنوا بنایا جائے ۔ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی بنیاد پر بھی اس مسئلے کو عالمی سطح پر اُٹھایا جا سکتا ہے بلکہ اسی بنیاد پر اُٹھانا چاہیے ۔ 183دن سے مقبوضہ کشمیر میں جو حالات ہیں اس پر عالمی برادری کو نو ٹس لینا چاہیے ۔ کشمیریوں کو فتح ضرور ملے گی اور اس میں خود کشمیریوں کا کردار بہت اہم ہو گا ۔کشمیر یوں کو آگے بڑھ کر کرفیو کو توڑنا چاہیے ۔ حکومت پاکستان کو سنجیدگی کے ساتھ کشمیریوں کی پشت پناہی کرنی چاہیے ۔ نہال ہاشمی نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کے لیے قوم کو پارٹیوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہیے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام پاکستانی قوم پر یقین اور اعتماد رکھتے ہیں کہ وہ ان کی مدد کرے گی ۔ 5فروری کا دن قاضی حسین احمد مرحوم کی اپیل پر منانا شروع کیا گیا تھا جو آج تک جاری ہے ۔ کشمیر کے لیے ایک مربوط روڈ میپ بنایا جائے جس میں قومی اور عالمی سطح پر اقدامات کیے جائیں ۔حکومت کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھی جانا چاہیے ۔ 5فروری کو آزاد کشمیر میں پاکستان کی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے اور تمام سفرا کو بھی مدعو کیا جائے ۔ ہمیں کسی ثالثی کی ضرورت نہیں کیونکہ اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ موجود ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ۔ مسئلہ کشمیر کے لیے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔قائم مقام امیر جماعت اسلامی کراچی برجیس احمد نے کہا کہ مسئلہ کشمیر 72برس ہونے کے باوجود تاحال حل طلب ہے ، بین الاقوامی قوتوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کوئی کردار ادا نہیں کیا ، حکومت پاکستان اس مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے ، تاکہ کشمیریوں کو ان کا حق مل سکے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاد کے تصور کو اجاگر کیا جائے ۔ آل پارٹیز کانفرنس سے صدر ڈیمو کریٹک پارٹی بشارت مرزا،جے یو پی کے سید عقیل انجم قادری ،صدر جے یو پی سندھ محمد حلیم خان غوری ، صحافی و دانشور نصرت مرزا ،نظام مصطفی پارٹی کے الحاج محمد رفیع ، صدر جے یو آئی سندھ حافظ احمد علی ، جماعت اسلامی کراچی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ ،سابق وفاقی وزیر ضیا عباس ، پاکستان عوامی تحریک کے عطا الرحمن ہاشمی ، جمعیت علما اسلام کے رہنما احسان اللہ ٹکروی ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔کانفرنس میں جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی ، جمعیت اتحاد العلما کے مولانا عبد الوحید ، محمد یامین منصوری ، جمعیت علما اسلام کے اجمل شاہ شیرازی ، مسلم لیگ ن کے خرم عباس بھٹی اور دیگر نے بھی شر کت کی ۔اے پی سی میں مشترکہ قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ آج کی یہ آل پارٹیز کانفرنس مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور دیگر تشدد پسند گروہوں کی جانب سے معصوم نہتے مسلمانوں پر مسلسل ظلم روا رکھنے کی شدید مذمت کرتی ہے اور اقوام عالم سے مطالبہ کرتی ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پربھارت پر معاشی اور دیگر پابندیاں لگائی جائیں ۔ مقبوضہ وادی میں مسلسل کرفیو کی وجہ سے عوام فاقوں پر مجبور ہو گئے ہیں،حکومت کرفیو ختم کرانے کے لیے بھارت پر دبائو ڈالے اور اس کے لیے اقوام متحدہ میں سفارتی کوششوں کو تیز کیا جائے ۔ آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ابتدائی مرحلے میں پاکستانی سفارتحانے کو بند کیا جائے ،دہلی میں موجود پاکستانی سفارتکار کو واپس بلایا جائے ،وزار ت خارجہ میں کشمیر ڈیسک قائم کی جائے ۔کشمیریوں کے حقوق حاصل کرنے کے حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ فوراً ترک کیا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کو عام کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے حوالے سے امریکا پر بھروسہ کرنے کے بجائے او آئی سی کا نمائندہ اجلاس طلب کرے۔183 روز کرفیو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر ی بھارت کے ساتھ نہیں بلکہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں اس کو استصواب رائے سمجھ کر یہ تسلیم کیا جائے کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر حکومت اقوام متحدہ سے وزیر اعظم نریندر مودی پر سفری پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کرے ۔جہاد کے تصور کو اُجاگر کیا جائے کہ عملی جدو جہد کے ذریعے ہی کشمیر کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے ۔آل پارٹیز کانفرنس کی اس قرار داد کو سینیٹ اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھجوایا جائے ۔