مقبوضہ کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لیے جرمنی میں بڑا مظاہرہ

182

مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے خلاف اور وہاں محصور مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے جرمنی کے ساحلی شہر ہیمبرگ پر انسانی سمندر امڈ آیا۔ مظاہرے کے منتظمین نے یکم فروری کو ’یوم احتجاج‘ کی کال دے رکھی تھی، اس موقع پر بھارتی قونصلیٹ تک مارچ کیا گیا جب کہ ہیمبرگ کی مرکزی شاہراہوں پر مقبوضہ کشمیر سے یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔
مقبوضہ وادی میں طویل عرصے سے غیر اعلانیہ کرفیو کے خلاف اور وہاں محصور مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں پاکستانی کشمیری، سکھ برادری، تحریک خالصتان، عرب و افریقی، جرمن شہری، انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنان کے علاوہ دیگر کئی حلقوں کے سیکڑوں افراد نے مظاہرے میں شرکت کی، اس موقع پر شرکا نے وادی پر بھارت کے قبضے اور فوجی جارحیت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر تحریک کشمیر ہیمبرگ کے رہنما محمد ریاض نے کہا کہ بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر حقائق کو چھپانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ظلم و ستم کو دنیا کے سامنے لانے پر پاکستان کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں، اس کے باوجود کشمیری عوام اپنے مسلمان بھائیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ عالمی برادری نے اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی تو دونوں جوہری ممالک کے مابین تصادم کا خطرہ ہے، جس کی لپیٹ میں پوری دنیا آ سکتی ہے۔
مظاہرے میں پاکستانی کمیونٹی اور ن لیگ کے نوجوان رہنما رانا عامر محمود نے کہا کہ دنیا میں قیام امن اور کسی بھی جوہری جنگ کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ، یورپی یونین، عرب لیگ سمیت تمام عالمی برادری اپنا موثر کردار ادا کرے۔ اس موقع پر پاکستانی کیمونٹی کی بڑی تعداد موجود تھی، جن میں سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر بوڑھے، بچوں، جوانوں، خواتین اور طلبہ کی بڑی تعداد شامل تھی۔ مقررین نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے لاکھوں انسانوں کو جیل نما وادی میں قید رکھنے والا بھارت دنیا میں نام نہاد جمہوریت کا علم بردار بننے کی کوشش کررہا ہے جب کہ مودی سرکار نے خود کشمیریوں کے حقوق غصب کرکے انسانی حقوق کے قوانین کو مٹی میں ملا دیا ہے، وہاں ہر روز نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مظلوم کشمیریوں اور وادی کے شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
پاکستانی کیمونٹی کے رہنما اور امن مارچ کے مقررین رانا محمود عامر، شیخ حافظ عظیم، فرید شاہ، ریاض شاہد اور عمران منہاس نے کہا کہ دنیا میں کشمیری سب سے زیادہ مظلوم قوم بن چکی ہے، جو وادی جنت نظیر کے ہوتے ہوئے بھی زندہ جیل میں قید ہے اور ہر روز اپنے پیاروں کو دفناتے ہوئے صرف اس امید پر زندہ ہے کہ کل اسے آزادی نصیب ہوگی۔اس موقع پر احتجاجی مارچ کے شرکا نے بھارتی مظالم پر مبنی پوسٹر اور بینر اٹھائے ہوئے تھے۔ مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور مظلوم کشمیریوں کے حق میں نعرے لگائے۔ مارچ کے اختتام پر کشمیری شہدا کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ اس موقع پر ہیمبرگ پولیس نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے ہوئے تھے، جس کی وجہ سے مارچ کا پرامن طور پر اختتام ہوا