ٹرمپ کاامن منصوبہ، یہودیت کے لبادے میں

156

مرکز اطلاعات فلسطین
امریکی سازش کی مختصر تفصیل
O مشرقی بیت المقدس میں 4 مربع کلو میٹر کا علاقہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔
O فوری طور پر اسرائیلی خودمختاری کو وادی اُردن سمیت مغربی کنارے کے 30 فیصد پر مسلط کیا جائے گا۔
O غزہ کی پٹی میں حماس کے ہتھیاروں کو ختم اور غزہ کو بغاوت کا زون قرار دیا گیا۔
O فلسطینیوں کو اسرائیل کو ’’یہودی ریاست‘‘ کے طور پر تسلیم کرنے کا پابند بنایا گیا۔
O تمام یہودی بستیاں جوں کی توں برقرار رہیں گی، انہیں خالی نہیں کیا جائے گا۔
O مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کا متحدہ دارالحکومت ہوگا۔
O القدس کی تاریخی دیوار سے باہر جو کچھ بھی ہے وہ فلسطینی سرزمین ہے۔
O پناہ گزینوں کو اسرائیلی سرحدوں سے باہر رکھا جائے گا۔
O فلسطینی پناہ گزینوں کو بعد میں فلسطینی ریاست میں واپس کیا جا سکتا ہے۔
O مہاجرین کو معاوضہ دینے کے لیے فنڈ قائم کرنے کی تجویز۔
O فلسطینیوں کو ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف کام کرنے اور ’’اشتعال انگیزی‘‘ روکنے پر مجبور کیا جائے گا۔
O فلسطینی ریاست میں مغربی کنارے کو غزہ کی پٹی سے مربوط کرنے کے لیے سڑکیں اور سرنگیں تعمیر کی جائیں گی۔
O 4 سال تک فلسطینی عبوری انداز میں کام کریں گے، اس دوران فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان فلسطینی ریاست کے حوالے سے مذاکرات ہوں گے۔
O خلیجی ممالک کی مالی مدد سے 50 ارب ڈالر کی مالیت سے فلسطینی ریاست میں منصوبے قائم کیے جائیں گے۔
O مشرقی یروشلم کے مقدس علاقوں میں جمود برقرار رکھنا۔
O صحرائے نقب کا علاقہ فلسطینیوں کو دینے اور اسے فلسطینی ریاست شامل کرنے کی تجویز۔
اسرائیل کے مفادات
O یہودی آباد کاروں پر فوجی انتظامیہ کو ہٹا دیا جائے گا۔
O فوری طور پر غرب اُردن کے 30 فی صد علاقے پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کی جائے گی۔
صہیونیت نوازی
O تمام یہودی کالونیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کیا جا رہا ہے۔
O اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ میں ہر اقدام کو امریکا ویٹو کرائے گا۔
O پورے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعادہ۔
O فلسطینی مہاجرین کے حق واپسی کا سقوط۔
فلسطینی ریاست کے لیے شرائط
O حماس غیر مسلح ہوگی۔
O غزہ کا علاقہ ہرطرح کے اسلحہ سے پاک ہوگا۔
O فلسطینی حق واپسی سے دست بردار ہوجائیں گے۔
O اسرائیل کویہودی ریاست تسلیم کیا جائے گا۔
O اسرائیل کی نئی سرحدوں کو تسلیم کیا جائے گا۔
O فلسطینی متحدہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے۔
O فلسطینی شہدا اور اسیران کے اہل خانہ کی مالی مدد بند کی جائے گی۔
O فلسطینی تعلیمی اداروں نے اسرائیل کے خلاف نفرت پرمبنی مواد پڑھانے پر پابندی عاید کی جائے گی۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ان کا یہ منصوبہ 80 صحافت پر مشتمل ہے اور اسے ایک مفصل منصوبے میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ متفقہ امور فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے ذریعے طے پائے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی انتہا پسند وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی 28 جنوری کو وائٹ ہائوس میں کی گئی پریس کانفرنس کو صہیونی مذہبی سوچ سے الگ نہیں کیا جاسکتا، جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نام نہاد امن منصوبے کے نام پر نئی سازش کا اعلان کیا۔ دونوں لیڈروں کی سوچ، نظریات اور مذہبی پس منظر میں غیر معمولی ہم آہنگی پہلے ہی پائی جاتی ہے جب کہ امریکی صدر کے ’’صدی کی ڈیل‘‘ منصوبے نے مشرق وسطیٰ میں یہودی مذہبی انتہا پسندی کی روح کو ایک بارپھر نمایاں کرکے سب کے پیش کردیا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے صدی کی ڈیل کے منصوبے کو فلسطینیوں اور اسرائیل کےدرمیان جاری کشمکش کے حل کے سیاسی فارمولے کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کی مگر دونوں کے بیانات، الفاظ، انداز گفتگو اور بیانیے میں یہودی مذہبی تعلیمات اور ٹرمپ کی مسیحی سوچ کا عکس صاف دکھائی دے رہی تھی۔ متحدہ بیت المقدس، یہودی ریاست، حرم مسجد اقصیٰ کے لیے ‘جبل ہیکل، حضرت یعقوب علیہ السلام، الخلیل شہر کو حضرت ابراہیم سے مربوط کرنا یہ سب وہ الفاظ اور اصطلاحات ہیں جو اس بات کی دلالت کرتی ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کےنام نہاد امن منصوبے کے پیچھے یہودی مذہبی روح کار فرما ہے۔
داخلی سطح پر نیتن یاہو بدعنوانی، چوری، خیانت اور لوٹ مار جیسے سنگین الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ دو مرتبہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نیتن یاہو کو الیکشن جیتنے کے باوجود حکومت سازی میں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف ٹرمپ صہیونی مذہبی پس منظر رکھتا ہے۔ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے ہاں جتنے صہیونیوں کو جگہ دی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
مذہبی بیانیہ
نیتن یاہو نے ایک بار پھر فلسطینی ۔ اسرائیلی کشمکش کو اس کی اصل کی طرف موڑ دیا ہے۔ یہودیت اور انتہا پسندانہ صہیونیت کی روح، تورات اور انجیل کے حوالے، ٹرمپ اور نیتن یاہو کے نام نہاد منصوبے کے مذہبی پس منظر کو واضح کرتے ہیں۔
اس حولے سے فلسطینی تجزیہ نگار ڈاکٹر جمال عمرو کا کہنا ہے کہ صہیونی پروگرام نے ‘اسرائیل کی بہ طور ریاست بنیاد رکھی۔ اگرچہ اس کے لیے سیکولر ازم کا سہارا لیا گیا اور اس کے ابتدائی لیڈروں نے اگرچہ جمہوریت، مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹا تاہم در پردہ صہیونی لیڈر ایک ایسے اسرائیل کے لیے کوشاں رہے جس کی رگ رگ میں مذہب کا خون دوڑتا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب سے اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، اس وقت ہی سے یہودیوں میں ایک نعرہ زبان زد عام تھا۔  وہ نعرہ یہ تھا کہ ‘ اے یروشلم اگر میں تمہیں بھلا دُوں تو میں اپنے تن بدن سے محروم ہوجائوں۔ مگر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خطاب میں بھی یہ واضح ہوگیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو سیاسی انداز میں نہیں بلکہ ایک فریق کی مذہبی سوچ سے دیکھنے اور اسے حل کرنے کے لیے ہلکان ہیں۔
تجزیہ نگار ڈاکٹر ناجی البطہ کے مطابق نیتن یاہو نے کھل کر یہودی مذہبی پہلو پربات کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں موجود انجیلی یہودی فرقے کو فلسطین میں آباد ہونا چاہیے کیونکہ انجیل میں یہویوں کو فلسطین میں آباد ہونے پر زور دیا گیا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے مسیحی ۔ صہیونی ہمدردیوں اور جذبات کو استعمال کیا۔ حالانکہ دونوں اپنے اپنے ملکوں میں کرپشن، بد انتظامی اور دیگر مسائل کا شکار ہیں۔
یہودی مذہبی اصطلاحات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی تقاریر میں صدی کی ڈیل کے اعلان کے وقت جو اصطلاحات استعمال کی گئیں ان پر مذہبی چھاپ نمایاں ہے۔ انہوں نے القدس کے لیے ‘یروشلم، مسجد اقصیٰ کے لیے،جبل ہیکل، مغربی دریائے اُردن، الخلیل شہر اور اس کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تعلق، فلسطینی پناہ گزینوں کی حق واپسی کی نفی اور یہودی ریاست کے تصور کو آگے بڑھانے جیسی اصطلاحات استعمال کی ہیں جو اس منصوبے کی مذہبی روح کو دوبارہ زندہ کرنے کی علامت ہیں۔
ڈاکٹر عمرو کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اپنے بیانات میں دریائے اُردن کے مغربی کنارے میں یہودیوں کے حق کا دفاع کیا اور وادی ُاردن کو غصب کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ کے بجائے ‘معبد کی اصطلاح استعمال کی اور کہا کہ مسلمانوں کو اس میں عبادت کی اجازت ہوگی۔