آزادی کی دھن

156

حفصہ فیصل
وہ دھیرے دھیرے اس سرنگ نما اندھیرے راستے پر پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا، ہو کا عالم تھا ،اسے اپنے دل کی دھڑکن بھی صاف محسوس ہو رہی تھی۔ پتھریلے راستے پر چلنا بہت دشوار ہورہا تھا۔ تھوڑا ہی آگے جنگل شروع ہونے والا تھا اور وہاں پر پتوں کی سرسراہٹ عجیب پریشانی کا باعث بنتی تھی ،لیکن اس پر تو کچھ کر دکھانے کی دھن سوار تھی اور یہ دھن آج کی نہیں، برسوں پرانی دھن تھی۔جب بابا جانی نے اس کی گھٹی میں شامل کر دیا تھا کہ کشمیر ہمارا ہے ہم اسے حاصل کر کے رہیں گے اورپھر اسی آزادی کی راہ میں اس کی سب سے قیمتی چیز کھو گئی ۔
دانی ،دانی، کہاں ہو تم!
ارے میرا بیٹا شہزادہ بیٹا !
بابا جانی نے دانش کو گود میں بھرتے ہوئے کہا۔
بابا جان آپ اتنے دنوں بعد کیوں آئے ؟ننھا دانش منہ پھلاتے ہوئے بولا۔
بیٹا ہم اپنے وطن کو آزاد کروانا چاہتے ہیں اس کے لئے ہمیں ایک دوسرے سے دور رہنے اور جدائی کی قربانی دینی پڑے گی۔
آج بھی میں اپنے بیٹے سے ملنے کے لئے بڑی مشکلوں سے سری نگر کا کیمپ پارکر کے آیا ہوں۔کمانڈر ساجد نے روٹھے بیٹے کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
“اچھا! یہ بتاؤ میرے بیٹے کی پڑھائی کیسی چل رہی ہے؟”
” بہت اچھی باباجان!
اور آپ کو پتہ ہے بابا جان! نشانے بازی میں ,میں پوری کلاس میں اول آیا ہوں۔ ایسے تاک تاک کر نشانے مارونگا دانش جوش سے بولا۔
اس کے اس جوش اور معصوم انداز کو دیکھتے ہوئے بابا جانی کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
” انشاءاللہ! انشاءاللہ! ایک دن میرا بیٹا کمانڈر بن کر میدان میں اترے گا اور دشمن دم دبا کر بھاگ جائے گے” پیچھے سے امی جان کی آواز آئی.
اور پھر تینوں فضا میں آزادی کا خوبصورت خواب کھلی آنکھوں سے تلاش کرنے لگے۔
آزادی کی اسی آرزو اور خواہش کے ساتھ دانش پروان چڑھ رہا تھا کہ ایک دن بابا کی میت دروازے پر آگئی ۔
حالانکہ بابا کو گھرآنا تھا وہ بے چینی سے صحن کے چکر کاٹ رہا تھا مگر آج عجیب سی بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ اور پھر دروازے پر جیپ کے رکنے کی آواز آئی وہ بھاگتا ہوا دروازے کی طرف دوڑا مگر آج بابا اپنے پیروں پر نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کے کندھوں پر آئے تھے۔ ان کے جسد خاکی پر وردی کے بجائے پاک وطن کا جھنڈا سجا ہوا تھا اور پھر اسی دن اس نے اپنے بابا کے جسد خاکی سے وعدہ کیا کہ وہ بھی اپنے بابا کی طرح اپنے وطن کی عزت پرآنچ نہیں آنے دے گا اسی دن سے یہ دھن اس پر سوار ہوگئی۔
وطن کی محبت اور بابا سے کیے وعدے کی پاسداری کے لیے اس نے دن رات ایک کردیا ۔اس کو سرحد کے قریب تعینات کیا گیا تھا
آج کمانڈر دانش دشمن کے ایک بیس کیمپ کی طرف خاموشی کے ساتھ بڑھ رہا تھا اسے ایک اہم مشن دیا گیا تھا ۔
دشمن کے ایک بڑے سرغنہ کیمپ کا پتا لگانے وہ ان پیچ دار اور خطرناک راستوں پر رواں تھا۔اس کی خبر ہمیشہ مستند ہوتی تھی ،اس لیے اسے یقین تھا کہ وہ کامیاب ہوگا۔ اس نے ایک حد پر پہنچ کر اپنے ساتھیوں کو روک دیا تھا ،اور انہیں ایک مخصوص اشارہ کا کہہ کر، اب وہ اکیلا ہی جانب منزل تھا۔
جنگل میں احتیاط سے چلتے ہوئے وہ آخر اس ٹھکانے پر پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ،جہاں دشمن اکے سپاہی موجود تھے۔
ایک باریک سی پرندے کی آواز کے ساتھ اس نے اپنے ساتھیوں کو پیغام بھیجا اور خود خاموشی کے ساتھ اطراف کا جائزہ لینے لگا۔
کمانڈر دانش نے انتہائی خاموشی کے ساتھ ان کے ٹھکانے پر نشانہ لگایا جس کے ساتھ ہی اس کے ساتھیوں نے زبردست حملہ کیا اندھیرے جنگل میں آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے دشمن کے کیمپ میں ہڑبونگ مچ گئی مگر پھر وہ فوراً اپنی پوزیشن سنبھال کر مقابلے پر ڈٹ گئے ۔
آمنے سامنے فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا دشمن بڑا گھاک تھا چونکہ دشمن اس علاقے سے اچھی طرح واقف تھا اس لئے وہ تاک تاک کر نشانےماررہا تھا۔
کمانڈردانش اپنےساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے سب سے آگے صفوں میں تھے۔ دشمن بری طرح پسپا ہو رہا تھا۔کمانڈر دانش اپنے ساتھیوں کے ساتھ قدم قدم آگے بڑھا رہے تھے ، لیکن اچانک دشمن نےفائرنگ کے بجائے گولہ داغ دیاجو کمانڈر دانش،اور کمانڈرمراد کے قریب گرا جس کی وہ تاب نہ لا سکے ،اور گرتے چلے گئے
لیکن کمانڈر دانش کے پرزور نعرہ تکبیر نے ساتھیوں کو ایک نئی روح بخشی اور انہوں نے تابڑ توڑ فائرنگ کرکے دشمنوں کو بے تحاشہ نقصان پہنچا یا۔
کمانڈردانش ادھ کھلی آنکھوں سے سارامنظر دیکھ رہے تھے اور پھر نہایت آسودگی کے ساتھ انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور زیر لب کہنے لگے .
‘میرے وطن! تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔۔۔”