یب نے سندھ ایجوکیشن فانڈیشنیب کے ماتحت چلنے والے اسکولوں میں گھوسٹ ملازمیں کی تلاش شروع کردین

470

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیب نے سندھ ایجوکیشن فانڈیشن کے ماتحت چلنے والے اسکولوں میں گھوسٹ ملازمیں کی تلاش شروع کردی فاونڈیش کی سابق سربراہ قائم علی کی صاحبزادی ناہید درانی نے کچھ عرصہ قبل 52گھوسٹ اسکولوں کی نشاندہی کی تھی تفصیلات کے مطابق سندھ ایجوکیشن فانڈیشن کے تحت سندھ بھر میں 2314 چلائے جائے رہے، قومی احتساب بیورو نے فاونڈیش میں بدعنوانی کی اطلاعات پر گھوسٹ اسکولوں اور ان میں تعینات گھوسٹ تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تلاش شروع کردی جس کے پہلے مرحلے میں لاڑکانہ،حیدر آباد،کراچی،سکھر،دادو،تھرپارکر،سانگھڑ اور میر پور خاص میں نجی شعبے اور مختلف این جی اوز کے ماتحت کام کرنے والے اسکولوں کی تحقیقات کو یقینی بنایا جائے گا بعد ازاں دیگر شہروں میں مرحلہ وار کاروائیوں کو آ گے بڑھایا جا ئے گا اس ضمن میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے آ ئندہ چند روز میں ادارے سے متعلق تفصیلات موجودہ مینیجنگ ڈائریکٹر سے طلب کی جا ئیں گی ذرائع نے دعوی کیا کہ سندھ کے مختلف شہروں میں جعلی اساتذہ اور اسکولوں کے انکشاف پر سندھ ایجوکیشن فانڈیشن کیخلاف تحقیقاتی عمل تیز کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ سابق مینیجنگ ڈائریکٹر اور قائم علی شاہ کی صاحبزادی ناہید درانی کے ماضی میں ادارے سے متعلق لگائے گئے الزامات کو بھی سنجیدہ لیا جارہا ہے جس میں ان کی جانب سے ادارے میں ہونے والی بد عنوانیوں کا انکشاف کیا گیا تھا اور 52گھوسٹ اسکولوں کی فہرست اینٹی کرپشن کو ارسال کی گئی تھی جن کے نام پر 5کروڑ کی فنڈنگ حاصل کی گئی تھی جس کے بعد اینٹی کرپشن کی جانب سے باقاعدہ طور پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا بعد ازاں 12افراد کی جانب سے34لاکھ روپے اینٹی کرپشن کے حوالے کیے جانے کے بعد اینٹی کرپش نے تمام تر تحقیقات کو سرد خانے کی نذر کر دیاتھا تاہم نیب نے اس معاملے پرازسرنو تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے