آئی جی کو 3 سال سے قبل تبدیل نہیں کیا جاسکتا، سندھ پولیس سے اختیارات چھیننے کی جنگ کا سلسلہ بڑا پرانا ہے

354

راچی (اسٹاف رپورٹر)برطانوی راج کے دوران پولیس کا نظام کمزور اور سندھ کے وڈیرے زیادہ طاقتور تھے،پولیس آرڈر 2002 میں آئی جیز کی مدت ملازمت کا تعین موجود ہے آئی جی کو 3 سال سے قبل تبدیل نہیں کیا جاسکتا، سندھ پولیس سے اختیارات چھیننے کی جنگ کا سلسلہ بڑا پرانا ہے،، امیر اور غریب کیلئے پولیس کے کردار میں ہمیشہ سے تفریق رہی ہے، ماضی اور حال، سندھ پولیس میں کرپشن اور فنڈز کی کمی بڑے مسائل ہیں ان خیالات کا اظہار سندہ پولیس سابق سینئر افسران نے کیا ، جوکراچی آرٹس کونسل کے ادب فیسٹیول میں سندھ پولیس کی تاریخ کے موضوع پر ایک سیشن سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر سابق افسران سعود احمد مرزا اور آفتاب نبی نے سندھ پولیس کے قیام اور کردار پر روشنی ڈالی جبکہ نظامت کے فرائض عمر شاہد حامد نے انجام دیئے۔سابق آئی جی سندھ آفتاب نبی نے کہاکہ برطانوی راج کے دوران سندھ پولیس میں فوج سے افسران تعینات کئے جاتے تھے، مظاہروں اور فسادات پر قابو پانے کیلئے ڈیڈلی اسکواڈ کا استعمال کیا جاتا تھا، 1930 کی دہائی میں ہونے والے فسادات پر قابو پانے کیلئے پولیس کی براہ راست فائرنگ سے 29 افراد ہلاک ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ برطانوی راج کے دوران پولیس کا نظام کمزور اور سندھ کے وڈیرے زیادہ طاقتور تھے، فیصلے ان کی اوطاقوں میں ہوتے تھے، بہت کم لوگ عدالتوں کا رخ کرتے تھے۔آفتاب نبی نے کہا کہ پولیس میں اس دور میں بھی کرپشن اور نااہلی عروج پر تھی، فنڈز کی کمی کا بھی سامنا تھا، پولیس کی نگرانی میں سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے جاتے تھے، 1939 سے 1945 تک سندھ پولیس فورس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات بھی کیں گئیں۔سعود مرزا نے بتایا کہ برطانوی راج کے دوران بنائی گئی سندھ پولیس فورس چوتھی فورس تھی جبکہ اسے رائل آئرش کانسٹیبلری کی طرز پر اس ریجن میں پہلی ماڈرن پولیس فورس کہا جاتا تھا۔اختیارات اور طاقت کے ٹکراں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانوی افسر نیپئر کا نظریہ تھا کہ پولیس کو اس کے اپنے افسران کے تحت چلایا جائے، جس کیلئے صوبے کو کراچی، حیدرآباد اور شکار پور ڈویژن میں تقسیم کیا گیا، جو سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے تحت کام کرتے تھے، شکارپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی جانب سے 3 فوجی اہلکاروں کی گرفتاری پر ایک تنازع کھڑا ہوا، فوج کے اعلی افسران نے معاملہ پہلے کمشنر آف سندھ کے سامنے اٹھایا جو بڑھتے بڑھتے وائسرائے تک پہنچ گیا۔وفاق اور صوبے کے درمیان آئی جی کی تعیناتی کے تنازع کے سوال پر سیشن کے ناظم عمر شاہد حامد نے کہا کہ سندھ پولیس سے اختیارات چھیننے کی جنگ کا سلسلہ بڑا پرانا ہے۔سعود مرزا کا تنازع کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایاکہ پولیس آرڈر 2002 میں آئی جیز کی مدت ملازمت کا تعین موجود ہے، اس کے تحت کسی بھی آئی جی کو 3 سال سے قبل تبدیل نہیں کیا،جاسکتا، اگر تبدیل کیا جائے تو اس کیلئے بھی کافی تفصیلی طریقہ کار دیا گیا ہے۔آفتاب نبی نے بھی تنازع کو عمومی تاریخ کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متحدہ ہندوستان سے اختیارات کا تنازع چلتا آرہا ہے، قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں بھی کئی ترامیم کی گئیں تاہم ان پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آیا، اگر پولیس سسٹم میں ترامیم کی جاتیں تو یہ لوگوں کیلئے کافی سود مند ثابت ہوتا۔ایک سوال پرانی اور موجودہ پولیس میں کیا چیزیں مشترک ہیں؟، پر جواب دیتے ہوئے آفتاب نبی نے سندھ پولیس میں ملٹرائزیشن، کرپشن اور خواص و عوام کیلئے الگ کردار کو پرانی اور نئی سندھ پولیس کی یکسانیت قرار دیا۔سعود مرزا نے کہاکہ برٹش دور کی پولیس کے افسران اپنے علاقوں میں بہت زیادہ لوگوں سے تعلق رکھتے تھے، ان سے ملاقاتیں اور علاقوں کا دورہ کرتے رہتے تھے تاہم آج پولیس میں یہ سب دیکھنے میں نہیں آتا، شاید اس کی وجہ سے لوگوں کا پولیس سے تعلق کم ہوگیا ہے۔