برطانیہ اور یورپی یونین کی راہیں جدا

237
برطانیہ: یورپی یونین سے علاحدگی کے خلاف اور حمایت میں مختلف شہروں اور مقامات پر ریلیاں و مظاہرے کیے جا رہے ہیں‘ اسکاٹ لینڈ کی آزادی کا مطالبہ بھی بینر پر لکھا نظر آرہا ہے

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانیہ 47 برس شامل رہنے کے بعد اپنے علاقائی اتحاد یورپی یونین سے الگ ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق جمعہ اور ہفتے کی درمیانیشب 12 بجے کے بعد برطانوی شہری یورپی یونین کے باشندے نہیں رہے۔ یکم فروری سے آیندہ 11 ماہ کے دوران یورپی یونین اور برطانیہ کو مستقبل کے تعلقات کی نوعیت اور معاملات طے کرنا ہوں گے۔ اس دوران برطانیہ یورپی یونین کے قوانین پر عمل کرنے کا پابند رہے گا۔ تاہم برطانیہ اب یورپی یونین میں قانون سازی کے عمل سے باہر ہوگا۔ اس کے علاوہ یورپی پارلیمان یا کسی دوسرے ادارے میں بھی برطانیہ کا کوئی رکن نہیں ہوگا۔ 11ماہ کی عبوری مدت تک برطانیہ سنگل مارکیٹ اور کسٹم یونین میں رہے گا، اور ساتھ ہی یورپی یونین کے بجٹ میں اپنا حصہ دیتا رہے گا۔ اس دوران برطانیہ دیگر ممالک کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے طے نہیں کر سکے گا۔ برطانوی شہری یورپی یونین کے ممالک میں آزادانہ سفر کر سکیں گے۔ وہ جہاں بھی ہیں اپنی ملازمت اور تعلیم جاری رکھ سکیں گے، جب کہ برطانیہ میں یورپی یونین کے شہریوں کو بھی یہ تمام حقوق حاصل رہیں گے۔ یورپی یونین اور برطانوی حکومت کو یکم جنوری 2021ء تک مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے حتمی معاہدہ طے کرنا ہوگا، جس کے لیے اس سال 23مارچ سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ دوسری جانب برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے موقع پر برسلز میں اہم عمارتیں برقی قمقوں سے روشن کی گئیں، جب کہ بریگزٹ کے مخالفین اور حامیوں نے برطانیہ میں دارالحکومت لندن سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کیے۔ اس دوران یورپی یونین کی تائید اور مخالفت میں نعرے لگائے گئے۔ برطانیہ میں یورپی یونین کے حامیوں نے پارلیمان کے باہر مظاہرہ کیا اور یورپی یونین سے برطانیہ کے تعلق کو ملک کی معیشت اور استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔ امکان ہے کہ برطانوی وزیراعظم اس بات پربھی زور دیں کہ اب آگے کی جانب دیکھا جائے۔ نیاسورج طلوع ہوگا جو حقیقی تبدیلی ثابت ہوگا۔ برطانوی ارکان یورپی پارلیمان نے رائے شماری کا آخری عمل مکمل کرلیا ہے۔ اس طر ح 1973ء سے شروع کیے گئے سفر کا 2020ء کے آغاز میں اختتام شروع ہوگیا ہے۔