چین سے پھیلتا کورونا وائرس (آخری حصہ)

609

ووہان چین کے وسطی صوبے ہوبی کا دارالحکومت ہے اور آبادی کے لحاظ سے چین کا گیارہواں سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی ایک کروڑ دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ 1927 تک چین کا دارالحکومت رہا ہے اور چین جاپان جنگ کے دوران بھی چین کا عارضی دارالحکومت رہا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن کے سب سے بڑے نیٹ ورک کی وجہ سے اسے چین کا شکاگو بھی کہتے ہیں۔ یہیں پر Zhengdian Scientific Park of Wuhan Institute of Virology میں Wuhan National Biosafety Laboratory لیول 3 اور لیول 4 واقع ہیں۔ لیبارٹری میں لیول کی درجہ بندی کسی بھی وائرس کو محفوظ رکھنے کے انتظامات کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ووہان کی لیول 4 لیبارٹری ہی سے کورونا وائرس کی وبا پھیلی یا پھیلائی گئی۔
چینی شہر تیانجن سے تعلق رکھنے والی Dr. Xiangguo Qiu جو ماہر وائرس بھی تھی، 1996 میں کینیڈا مزید تعلیم کے لیے آئی۔ ڈاکٹر چی کا شوہر Keding Cheng اس وقت کینیڈا کے شہر ونی پیگ کی لیبارٹری میں بطور بائیولوجسٹ کام کرتا ہے۔ یہ دونوں میاں بیوی ایبولا اور سارس وائرس پر تحقیقی کام کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ جولائی میں CNBC نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ونی پیگ کی لیبارٹری سے ایک چینی خاتون سائنسداں، اس کے شوہر اور ان کے چند پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس خبر کے ایک ماہ کے بعد CNBC نے مزید خبر دی کہ مذکورہ سائنسداں جوڑے نے ایبولا اور Henipah کے وائرس ائر کینیڈا کی پرواز کے ذریعے 31 مارچ کو چین بھیجے تھے۔ خبر کے مطابق وائرس کی شپمنٹ کے لیے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی شپمنٹ کے ذریعے کورونا وائرس بھی وہان کی لیبارٹری بھجوایا گیا۔ CNBC کی ایک اور فالو اسٹوری میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر چی نے 2017-18 کے دوران چین کے پانچ دورے کیے جس میں چین کی لیول 4 کی نئی لیبارٹری کے ٹیکنیشنوں اور سائنسدانوں کو تربیت فراہم کی گئی۔ یہ سائنسداں جوڑا اب بھی زیر حراست ہے۔
کورونا کا پیٹنٹ وائرس ونی پیگ کی لیبارٹری کے علاوہ انگلینڈ کی لیبارٹری سے اور بھی کئی ممالک کی لیبارٹریوں کو فراہم کیا گیا ہے جس میں آسٹریلیا بھی شامل ہے۔ آسٹریلیا نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھنے میں بالکل ایسے ہی لگتا ہے جیسے پہلے کمپیوٹر کا وائرس تیار کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کا اینٹی وائرس پروگرام۔ پہلے کمپیوٹر کے وائرس کو لانچ کیا جاتا ہے اور اس پر خوب شور شرابا کیا جاتا ہے۔ اس کے چند ہفتوں کے بعد ہی اس کا اینٹی وائرس پروگرام مارکیٹ میں آجاتا ہے اور یوں سافٹ ویئرکمپنی خوب مال سمیٹتی ہے۔
سارس، ایبولا، زیکا وائرس کی لانچنگ دیکھیں، بالکل ایسے ہی شور شرابا کیا گیا تھا اور اب ان ہلاکت آفریں وائرسوں کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ کورونا وائرس کو چین سے لانچ کرنے کی اور بھی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ چین میں اطلاعات پر مکمل پابندی ہے اور یہ ایک آہنی پردے میں ڈھانپا ہوا ملک ہے۔ اس وقت چین کی چھ کروڑ سے زاید آبادی کورونا وائرس کے نام پر مکمل لاک ڈاؤن کا شکار ہے۔ اب اس وائرس کو مسلم اکثریتی علاقے سنکیانگ میں پہنچادیا گیا ہے جہاں پر دس لاکھ سے زاید مسلم آبادی پہلے ہی حراستی مراکز میں مقید ہے۔ کورونا وائرس کے ذریعے سنکیانگ کی مسلم آبادی کی بڑی تعداد کا خاتمہ بھی ممکن ہے اورغیر معینہ مدت کے لیے ان کا لاک ڈاؤن بھی۔
کورونا وائرس کے پیٹنٹ کروانے والے ادارے اور ان کی مالی معاونت کرنے والے اداروں کے بارے میں ہم جان چکے ہیں۔ مالی معاونت فراہم کرنے والا مرکزی کردار بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن ہے۔ یہ وہی ادارہ ہے جس نے ایڈز کا وائرس افریقا میں پھیلایا، ایبولا اور زیکا وائرس پھیلائے اور پولیو ویکسین کا ٹھیکا اٹھا رکھا ہے۔
کیا بات صرف اتنی ہی ہے کہ ادویہ ساز کمپنیاں مال سمیٹنے کے لیے پہلے وائرس پھیلارہی ہیں اور پھر ان کی ویکسین مارکیٹ میں لے کر آجاتی ہیں۔ اگر نیو ورلڈ آرڈر کے بلیو پرنٹ کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ اس ذریعہ سے مال سمیٹنا تو ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سب جدید ہتھیاروں کی ٹیسٹنگ اور ریہرسیل ہے۔ جدید ہتھیاروں میں حیاتیاتی ہتھیار، روبوٹک ہتھیاروں کے علاوہ موسمی ہتھیار بھی شامل ہیں۔ گزشتہ ستمبر کے اواخر میں کراچی میں ہونے والی بارشوں کو ایک مرتبہ پھر سے دیکھیں۔ ان بارشوں کی پیشگوئی کسی بھی موسمی ویب سائٹ پر نہیں ہوتی تھی۔ دن بھر دھوپ رہتی تھی، ایک مخصوص وقت میں شام کو چند منٹوں کے لیے بادل برستے تھے اور شہر کو جل تھل کردیتے تھے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ہونے والی غیر متوقع بارشوں کو دیکھیں جس نے وہاں پر سیلابی کیفیت رکھی حتیٰ کہ سیلاب کی وجہ سے دبئی ائرپورٹ تک کو بند کرنا پڑا۔ آسٹریلیا میں لگنے والی آگ سے متعلق بھی کہا جارہا ہے کہ یہ انسانی غلطی کی وجہ سے نہیں لگی بلکہ مصنوعی سیاروں کے ذریعے یہ سب لیزر شعاعوں کا کارنامہ ہے۔
حیاتیاتی اور موسمی ہتھیار استعمال کرنے والے چاہتے ہیں اور ان کے استعمال کو جانچنے کی اتنی جلدی کیا ہے۔ اس پر گفتگو آئندہ آرٹیکل میں ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔