چین میں پاکستانی طلبا کی تعداد559ہے،ارسلان امین

688

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری)چین کے شہر ووہان سے آنے والے پاکستانی طالبعلم نے بتایا کہ چین میں کروناوائرس سے لوگ خوفزدہ ہیں،جان لیوا وائرس کے باعث پاکستانی طلبا میں شدید خوف وہراس پایا جاتا ہے،

ٹیسٹ کلیئر ہونے پر مجھے واپسی کی اجازت ملی ہے۔ چین کی ایک یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہوں، یونیورسٹی سے وائرس کی کلینرس ملنے کے بعد اپنی تعلیم کومکمل کرنے دوبارہ چین جاونگا،

جسارت سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے لیاری کا رہائشی پاکستانی طالبعلم ارسلان امین نے کہا کہ میں 28جنوری کو چین سے کراچی پہنچ گیا تھا،چین میں کروناوائرس سے لوگ خوفزدہ ہیں، پاکستانی طلبا جو ووہاں موجود ہیں ان کی تعداد559ہے، سب سے زیادہ طلبا کی تعدادخیبر پختواہ سے تعلق رکھنے والوں کی ہے،

چین میں بڑی تعداد میں فیملیز بھی ہیں، ان کے بچوں کی عمریں چھے مہینے سے لے کردس سال تک ہے، وہ کافی پریشان ہیں چھوٹے بچوں کو لے کرایک کمرے تک محدود ہوچکے ہیں کوئی بھی شخص باہر نہیں جاسکتا ہے،

ارسلان امین نے کہا کہ ہم بھی اگریونیورسٹی سے باہر جارہے ہیں تو ڈاکٹر نیچے بیٹھے ہیں ہمیں ڈاکٹروں کو رپورٹ کرنی ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں جب طلباواپس آتے ہیں تو یونیورسٹی میں داخلے سے پہلے چیک اپ ہورہا ہے،

ارسلان امین کا کہنا تھا چینی حکومت پاکستانیوں کا اچھی طرح خیال رکھ رہی ہے، میں نے طبی معائنہ کرایا اور ٹیسٹ کلیئر ہونے پر مجھے واپسی کی اجازت ملی ہے۔