سعودی عرب نے ٹرمپ امن منصوبے کو خوش آئند قرار دے دیا، ترکی کی مخالفت

204

ترکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئےکہا کہ ترکی کسی ایسے امن منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا جو فلسطینی عوام کو منظور نہ ہو جبکہ سعودی عرب نے امن منصوبے کو خوش آئند قرار دے دیا ہے۔

ترکی نے امریکی صدر کی جانب سے امن منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی سرزمین بیچنے کیلئے نہیں ہے، اس منصوبہ کا مقصد فلسطینی اراضی پر قبضہ کرنا اور دو ریاستی حل کو ختم کرنا ہے۔

ترکی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بیت المقدس ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، انقرہ اسرائیل کو اپنے قبضے اور ظلم و ستم کا جواز پیش نہیں کرنے دےگا۔ بیان میں کہا گیا ترکی اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گااورفلسطینی سرزمین کے اندر آزاد فلسطین کے لئے کام جاری رکھیں گے۔”

بیان میں کہا گیا کہ ترکی کسی ایسے امن منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا جو فلسطینی عوام کو منظور نہ ہو۔

دوسری جانب سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کے خاتمے کے لیے امن منصوبہ ’ ڈیل آف سینچری‘ پیش کرنے اور فریقین کے درمیان امریکی سرپرستی میں مذاکرات کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کی کاوشوں کو سراہا ہے۔

وزرات خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی فرمانروا نے ڈیل کے حوالے سے امریکی صدر کی کاوشوں کو سراہا ہے اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کی جانے والی تمام مثبت اور جامع کاوشوں کی حمایت کا یقین دلایا ہے۔