سندھ حکومت بلدیاتی اداروں کا مزید بوجھ برداشت نہیں کرے گی، سید مراد علی شاہ

329

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت بلدیاتی اداروں کو مزید  سپورٹ نہیں کرسکتی ان اداروں  کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے لوکل باڈیز کی جانب سے کے الیکٹرک کے بلز ادائیگی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ  بلدیاتی اداروں کو اپنے وسائل پیدا کرنے  ہوگے، سندھ حکومت نے انکے بجلی کے بلز کی مد میں 22 ارب روپے ادا کئے ہیں جوکہ انکو خود ادا کرنے تھے، اب مزید ان اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔

 اجلاس میں وزیر توانائی امتیاز شیخ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری بلدیات روشن شیخ، سیکریٹری توانائی مصدق خان، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں لوکل باڈیز کو ہر طرح سے ٹھیک کرنا ہوگا، لوکل باڈیز  کے اوور اسٹافنگ اور انڈراسٹافنگ  کے مسائل  حل کرنے ہیں۔ اجلاس میں سیکریٹری بلدیات نے  بتایا گیا کہ 1953 لوکل  کونسلز  ہیں  جن کو  سندھ حکومت  5 لاکھ روپے  ماہانہ دیتی  ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دی گئی کہ لوکل باڈیز  کے بجلی کا بل، تنخواہوں اور پینشن  کا بل بھی سندھ حکومت ادا کرتی ہے ۔

جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے سیکریٹری  بلدیات  کو ڈسٹرکٹ کونسل ،کے ایم سی  اور 6 ڈی ایم سیز  کے ساتھ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت  کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت  ہر ماہ  کا بل کس طرح دے سکتی ہے،ان اداروں  کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر توانائی، وزیر بلدیات، سیکریٹری بلدیات اور سیکریٹری خزانہ پر مشتمل کمیٹی  قائم کرتے ہوئے انھیں ہدایت کی کہ کمیٹی  کو تمام لوکل باڈیز  کے مسائل حل کرنا ہونگے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت لوکل باڈیز ، واٹر  بورڈ،  واسا  وغیرہ کے بلز اس لیے  ادا کرتی ہے  تاکہ شہریوں کو  مشکلات  نہ ہوں لیکن یہ بلز ان اداروں  کو خود ادا کرنے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سال2014-19 تک سندھ حکومت نے  لوکل باڈیز  کے 22 بلین روپے  کے بل ادا کیے  ہیں لہٰذہ اب وقت آگیا ہے کہ لوکل باڈیز  اپنے بھی ذرائع  پیدا کریں، اپنی ٹیکس کلیکشن  کے نظام  اور ٹرانسپورٹ  کو بہتر کرے۔