نقطہ نظر

150

آئی ایم ایف کے جھٹکے
پاکستانی عوام کو مہنگائی کے تین چار جھٹکے لگ چکے ہیں۔ کچھ جھٹکے ذہنی مریضوں کے علاج و معالجے کا طریقہ ہے۔ کچھ جھٹکے ذہنی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ہوتے ہیں، مگر غریب عوام کو آئی ایم ایف کے جھٹکے ذہنی توازن کے بگاڑ کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ کبھی بجلی، کبھی پٹرول، کبھی کھانے کے آئل، دال کی قیمت بڑھادی جاتی ہے۔ بجٹ بڑا آشوب چشم بن کر آتا ہے۔ ہر ایک کی آنکھ نم ہے
اور دل رو رہا ہے، پٹرول پھر چائنا بم بن گیا ہے۔ صنعتیں، کاروباری مراکز اور کارخانے کیسے کام کریں گے، بجلی اور پٹرول تمام ملکوں کی صنعتوں حرفت اور عوام کی زندگیوں کو رواں دواں رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ شادی ہال پر ٹیکس تو پہلے ہی لگ چکے تھے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت ہوا پر بھی ٹیکس لگادے گی، زندگی کا دائرہ تنگ کردیا ہے، خود کشیوں کی شرح بڑھنے کا خطرہ ہے۔
صبا احمد