شرح سود 13.25 فیصد پر برقرار ، مہنگائی گھٹے گی ، زرعی پیداوار ہدف کم ہو نے کاخدشہ

310

کراچی

شرح سود 13.25 فیصد پر برقرار ، مہنگائی میں جلد کمی ہو گی ، زرعی پیداوار کا ہدف کم ہو نے کاخدشہ ،شرح سود 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ ، مہنگائی میں جلد کمی ہو نے کا امکان گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہو ئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کو جولائی 2019ءکی سطح پر برقر ا رکھا گیا ہے پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کے تمام اقدامات کر لیے ہیں لیکن آخری فیصلہ ایف اے ٹی ایف کا ہی ہوگا، آئندہ 2 ماہ کی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں ایکسپورٹ کے شعبے اچھا پرفارم کررہے ہیں، ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے 200 ارب روپے کا اضافہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے اچھے اشاریے سامنے آرہے ہیں جب کہ مقامی مارکیٹ میں سیمنٹ کی فروخت بڑھ رہی ہے اور ملک میں معاشی سرگرمی بہتر ہورہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ رواں سال ملک میں زرعی پیداوار ہدف سے کم ہونے کا خدشہ ہے، اس کے علاوہ کافی سیکٹرز میں پروڈکشن اور سیلزبڑھ رہی ہیں، پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں قیمتیں کنٹرول میں ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ سپلائی کا عمل بہتر ہونے سے مہنگائی کی شرح کم ہونے کی توقع ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے ایکسپورٹ انڈسٹریز کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ برآمدی شعبے کے لیے نئے اعلان کررہے ہیں، فیکٹریاں اور صنعتیں لگیں گی تو روزگارکے مواقع پیدا ہوں گے، چھوٹے ایکسپورٹرز کے لیے بھی آئندہ پالیسی لے کر آئیں گے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی میں آئندہ دو ماہ کے لےے شرح سود کاتعین کردیا اوربنیادی شرح سود کو13.25فیصدپر برقرار رکھا گیا ہے جبکہ رواں سال مہنگائی کی شرح 12 فیصد رہنے کی بھی نویدسنا دی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقرنے منگل کو مرکزی بینک میں ایک پریس کانفرنس میں مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کی شرح 11سے 12 فیصد ہے اسلئے ہم نے پالیسی ریٹ کو مستحکم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،معاشی حالات اور افراط زر کی شرح کو دیکھتے ہوئے موجودہ شرح سود کو ٹھیک کہا جاسکتا ہے، مہنگائی آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوجائے گی، سپلائی بہتر ہونے سے مہنگائی کی شرح میں کمی آنے کی توقع ہے۔ رواں سال زرعی پیداوار ہدف سے کم ہونے کا خدشہ ہے لیکن اس کے مقابلے میں دیگر شعبوں میں پیداوار بڑھ رہی ہے، ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے اچھے اشاریے سامنے آرہے ہیں جب کہ سیمنٹ کی پروڈکشن بھی بڑھ رہی ہے۔ ،کھانے پینے کی اشیاءمیں کمی کی وجہ بھی مہنگائی کی اصل وجہ ہے،سپلائی سائیڈ معاملات خراب ہونے سے بھی مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے، جولائی سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اورلگتا ہے کہ کچھ ماہ میں دوسرے مرحلے کے سپلائی شاک کم ہوجائیں گے۔ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور دیگر عہدیداران بھی اجلاس میں موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ایک بات بہت زیادہ بحث میں آتی ہے کہ انٹرسٹ ریٹ بہت زیادہ ہے،ہمارا نظریہ ہے کہ مانیٹری پالیسی سخت ہونے سے اسکی شرح میں کمی آئے گی ، ہمارے ہاں فوڈ کا بجٹ زیادہ رہتا ہے،جولائی سے ابتک انفلیشن بڑھتا رہا ، صورتحال دیکھ رہے ہیں اب چیزیں مستحکم ہیں،کچھ عرصے بعد یہ مہنگائی کے نمبر ریورس ہونا شروع ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس میں کتنا وقت لگ سکتا ہے تاہم مہنگائی کی شرح 11سے 12فیصد رہنے کی توقع ہے،پاکستان کا دوسرے ممالک سے موازنہ کریں تو شرح سود اتنا زیادہ نہیں ہے۔گورنراسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ موجودہ اکنامک صورتحال میں زرعی پیداوار اس سال بھی متاثر ہوسکتی ہے لیکن دوسرے سیکٹر سیمنٹ، الیکڑک سیکٹر میں سیل اور پروڈکشن بڑھ رہی ہے ،ایکسپورٹ اور اسکے دیگر سیکٹر پرفارم کررہے ہیں،ایکسپورٹ سیکٹر کیلئے اسپیشل پیکیج دیے جارہے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے،مشینری امپورٹ اور کاروباری صلاحیت بڑھانے کیلئے حجم 200ارب تک بڑھادیا گیا ہے، انڈسٹریل سیکٹر پر پیداوار بڑھ رہی ہے اوراسکے اثرات بھی جلد نظر آنا شروع ہونگے ،ایکسپورٹ سیکٹر کو سپورٹ کرنے کے لئے کچھ اقدام کئے ہیں ،زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کے لئے ایکسپورٹ بڑھنا ضروری ہے ،ایکسپورٹ سیکٹر کی کریڈٹ لمٹ میں 200بلین روپے کا اضافہ کیا جارہا ہے،اس رقم سے وہ کارخانے لگیں گے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔انکا کہنا تھا کہ ایل ٹی ایف ایف اسکیم کی سہولت اب تمام ایکسپورٹرز کو ملے گی ،ایل ٹی ایف ایف کی لمٹ ڈھائی ارب سے بڑھا کہ 5 ارب کررہے ہیں، اگلے کچھ ہفتوں میں چھوٹے برآمد کنندگان کو بھی سہولت دی جائینگی ،چھوٹے ایکسپورٹرز کیلئے بھی اسکیم متعارف کروارہے ہیں،ایکسپورٹ لمٹ کو ڈھائی ارب سے بڑھاکر 5ارب کردیا گیا ہے،لانگ ٹرم فنانسنگ تمام شعبوں کی ایکسپورٹ کیلئے لاگو ہے،اگر کوئی نئی چیز ایکسپورٹ کرنی ہے تو اسکے لیے بھی اسکیم نافذ العمل ہوگی۔گورنراسٹیٹ بینک نے کہا کہ کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے اور مالیاتی خسارے کو بہتر کرنے کیلئے ریفارمز کررہے ہیں،ساکرااکاو¿نٹ کے ذریعے اب ٹریڑری بلز کی خریداری سرمایہ کار کررہے ہیں،بانڈز اور بلز کی ڈیمانڈ بڑھنے سے ہمارے ریزرو میں اضافہ ہوگا،حکومت اگر قرضہ دینا چاہتی ہے تو غیر ملکییوں کی جانب سے بلز کی خریداری کی جارہی ہے جو اچھی بات ہے، امپورٹرز ایڈوانس پیمنٹ اب 100فیصد ادائیگی کرسکتا ہے،10ہزار ڈالر کی ادائیگی ہر قسم کے امپورٹرز کیلئے ہے،کیپیٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کیلئے کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 7ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر اب 11ارب ڈالر پر موجود ہیں،مجموعی اضافہ 8ارب ڈالر کا ہو اہے،ایکسٹرنل کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ بھی کم ہوا ہے،جنوری میں ٹیکسز میں کچھ ردو بدل کیا گیا ہے،پہلے لانگ ٹرم کیلئے ٹیکس 25فیصد تھا اور شارٹ ٹرم کیلئے شرح 5فیصد تھی اب اس میں حکومتی سطح پر تبدیلی کی گئی ہے،اسٹیٹ بینک ہر قسم کے رسک کو بہت باریکی سے مانیٹر کررہا ہے،ٹریڑی بلز کی بھی مکمل طور پر اسٹیٹ بینک نگرانی کررہا ہے۔