پاکستان میں بڑھتی ہوئی کرپشن

662

قاسم جمال

تحریک انصاف کی حکومت کرپشن کے خلاف نعرہ لگا کر اقتدار میں آئی۔ لیکن ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنے کے بجائے اس میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 2019 میں دنیا کے 180ممالک میں بدعنوانی کے حوالے سے سالانہ فہرست کا اجراء کیا ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کی درجہ بندی ایک پوائنٹ کی تنزلی ہوئی ہے اور پاکستان میں 2018 کے مقابلے میں 2019 میں کرپشن بڑھی ہے اور زیادہ کرپشن والے ممالک میں پاکستان کا درجہ 117 سے بڑھ کر 120 ہوگیا ہے اور عالمی اداروں نے کرپشن کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ چور چور کا نعرہ لگانے والوں کی صفوں میں ہی چور نکلے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ سے ملک میں آٹے اور چینی کا بحران ہے اور پاکستان کرپشن میں مزید ترقی کر گیا ہے۔ وزیر اعظم نے سوئٹزرلینڈکے شہر ڈیوس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ان کی زندگی کا مشکل ترین سال تھا۔ پاکستان کا بڑا چیلنج کرپشن ہے۔ ملک میں تبدیلی آنے میں وقت لگے گا۔ ہم جنت میں جانا چاہتے ہیں لیکن مرنا نہیں چاہتے۔ موجودہ حکومت شفاف ترین ہے لیکن سابقہ حکومتیں کرپشن کرتی تھی۔ اصلاحات آسان کام نہیں ہے۔ اپنی چمڑی موٹی کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بے پناہ تنقید کا سامنا ہے لہٰذا وزراء اخبارات پڑھیں اور نہ ہی ٹی وی پر کوئی ٹاک شو دیکھیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اس طرح بیانات سے ان کی عقل پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے۔ ملک اس وقت ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔ ملک میں مہنگائی اور غربت کا راج ہے۔ آٹے کے بعد اب چینی کا بحران بھی آچکا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ حکمرانوں کے لیے ایک طمانچے سے کم نہیں ہے۔ عالمی اداروں نے حکومتی دعوں کا پول کھول دیا ہے۔ سب کو چور کہنے والے اب کیا جواب دیںگے۔
ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے ایک سال میں 22فی صد مہنگائی بڑھی ہے اور ملک میں آٹے کے بحران نے عوام سے روٹی بھی چھین لی گئی ہے۔ حکومت نے چالیس ہزار ٹن گندم افغانستان بھیج کر ملک میں آٹے کا بحران پیدا کیا اور قوم کو ایک آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ ایک سال میں شوگر ملز مافیا نے 155ارب روپے اپنی جیبوں میں بھرے ہیں اور چینی کی قیمتوں میں پچاس فی صد اضافہ ہوا۔ ملک میں آٹے کے بحران ہوشربا مہنگائی اور اشیائے خور ونوش کی قلت حکومت کی نااہلی اور بیڈگورننس کا واضح ثبوت ہے۔ موجودہ حکومت کی ناقص پالیسی کے نتیجے میں اس سال 20لاکھ ٹن گندم کی پیداوار میںکمی واقع ہوئی ہے۔ گندم کی کمی کے باوجود حکمرانوں نے گندم افغانستان بھیج کر ملک میں افراتفری پھیلائی۔
ملک میں بے روزگاری اور غربت کا راج ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکمراں بے روزگاری کے خاتمے کے لیے کارخانے لگاتے لیکن حکمران ملک میں لنگر خانے قائم کر کے پوری قوم کو فقیر بنا کر ان کی خودی کو مار رہے ہیں۔ عوام مہنگائی سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ رواں سال سرکاری حج اسکیم کے تحت حج پیکیج میں ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جس کے تحت نارتھ ریجن کا حج پیکیج پانچ لاکھ پچاس ہزار اور ساوتھ ریجن کا حج پیکیج پانچ لاکھ پیتالیس ہزار کا ہوگا۔ ہندوستان جو ایک غیر مذہب اور ہندو ملک ہے لیکن حج کے لیے آدھی رقم وہاں کی سرکار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمانوں کی کھانے پینے کی اشیاء میں پچاس فی صد خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ پاکستان جو خالصتاً اسلام کے نام پر قائم ہوا لیکن یہاں اسلام کے بجائے اسلام آبادکی تڑپ دل میں ہوتی ہے۔ عمران خان نے ریاست مدینہ کا نام لے لے کر ریاست مدینہ کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔ ایک جانب وزیر اعظم دو لاکھ تنخواہ وصول کرنے اور اس تنخواہ سے اپنے گھر کا خرچہ پورا نہ ہونے کا گلہ کرتے ہیں اور دوسری جانب انہیں اتنا بھی شعور نہیں کہ پاکستان کے عوام غربت کی انتہائی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں وہ کس طرح پندرہ اور بیس ہزار کی تنخواہوں پر اپنا گھر بار چلا سکے گے۔ غریب آدمی کے گھر کا چولہا بجھا ہوا ہو تو ملک کیسے ترقی کر سکے گا۔ وزیر اعظم خواب اور امیدوں کے سہارے عوام کو دھوکا نہ دیں، ناکام معاشی پالیسوں اور سودی نظام ملک کے لیے زہر قاتل ثابت ہوا ہے۔ عوام مایوسی کا شکار ہو کر خودکشیوں کے جانب راغب ہو رہے ہیں۔ ناکام معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں صنعت وتجارت کا لاک ڈائون ہوچکا ہے۔ شوگر اور آٹا ملز مالکان اور آٹا چینی چور حکومت میں بیٹھے ہوں تو عوام کو سستا آٹا اور چینی کیسے مل سکتی ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے مدینے کی ریاست کا نعرہ لگا لگا کر تمام اختیارت اور کنٹرول لینڈ مافیا، شوگر مافیا، ڈرگ مافیا اور کرپٹ مافیا کے حوالے کر دیا ہے اور چوروں کو چوکیداری پر رکھ لیا گیا ہے۔ ایسے میں ایک عام آدمی پریشانی اور مشکل میں گھرا ہوا ہے اور مرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ عوام نیا پاکستان کے بجائے پرانے پاکستان کو یاد کر رہے ہیں اور وہ ہاتھ جوڑ کر دوہائی دے رہے ہیں کہ خدرا انہیں نیا پاکستان نہیں چاہیے انہیں پرانا پاکستان ہی واپس کردیا جائے۔ جماعت اسلامی نے بھی ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی بے روزگاری بجلی گیس آٹے چینی سمیت دیگر اشیائے صرف کی قیمتوں میں ہونے والے ہولناک اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دی اور ملک بھر میں بھرپور طریقے سے احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے اور عوام نے ان مظاہروں میں اپنے جذبات کا اظہار کیا اور مہنگائی غربت بے روزگاری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف بھرپور طریقے سے احتجاج بلند کیا گیا۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ ہوش کہ ناخن لیں۔ عوام کی برداشت اب ختم ہوتی جا رہی ہے اور اب وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر نے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ ڈرہے کہ اگر حالات یہی رہے تو پھر عوام کا ریلا حکمرانوں کے گھروں وزیر اعظم ہائوس اور ایوان صدر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ ایوب خان چینی کی قیمت پچیس پیسے اضافے پر لگنے والے نعروں پر مستعفی ہوکر گھر چلے گئے تھے لیکن ریاست مدینہ کے دعویدار حکمران عوام کی بپھری ہوئی نظروں کو پہچان لیں ورنہ یہ بھوکے اور نڈھال لوگوں کے ہاتھ اب تمہارے گریبانوں تک بھی پہنچ جائیںگے اور پھر آپ کسی نئے خواب اور خیال کے ذریعے انہیں دھوکا نہیں دے سکو گے۔ 70سال سے یہ مظلوم قوم دھوکے پر دھوکا کھا رہی ہے۔ کبھی روٹی کپڑا مکان کے نام پر کبھی اسلام کے نام پر اور کبھی فرقہ اور لسانیت کے نام پر سیاسی بازی گروں نے اپنی شعبدہ بازیوں کے ذریعے غریب عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان بے حس حکمرانوں سے اپنا حساب لیا جائے۔ مدینے کی ریاست کا نعرہ لگانے والوں نے دین سے محبت رکھنے والے ہر ذی شعور کو شرمندہ اور ذلیل ورسوا کر دیا ہے۔ ریاست مدینہ کے پہلے خلیفہ نے تو اپنی تنخواہ ایک مزدور کی جتنی تنخواہ طے کی تھی لیکن آج کے ریاست مدینہ کے دعویدار حکمراں کی تنخواہ دو لاکھ روپے ہے اور اس کے مزدورکی تنخواہ 17000 روپے یہ کھلا تضاد اب نہیں چل سکتا۔ وزیر اعظم صاحب آپ اپنی تنخواہ 17000کریں یا پھر مزدور کی تنخواہ بھی دو لاکھ طے کی جائے ورنہ اس طرح کی شعبدہ بازی اب اور زیادہ دیر نہیں چل سکیں گی۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے حکومت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے اور اور ان کے چہرے سے نقاب نوچ دی ہے۔ پاکستان کی شوگر انڈسٹری میں مجموعی طور پر 45فی صد حصہ حکومت میں موجود لوگوںکا ہے۔ جہانگیر ترین کا تقریباً 22فی صد اور جہانگیر ترین کے کزن شمیم خان کی بھی چار شوگر ملز ہیں اسے علاوہ خسرور پرویز کا 12فی صد ہمایوں اختر خان کا 10فی صد حصہ شامل ہے۔ حکومت میں بیٹھے ان بااثر افراد کی موجودگی میں چینی کا بحران سارے کھیل اور ان کے کرداروں کو بے نقاب کرتا ہے۔ عمران خان یا تو بہت بے وقوف قسم کے ضدی آدمی ہیں اور اپنی انا کے خول سے وہ باہر نکل نہیں پا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی مافیائوں نے انہیں بری طرح جکڑا ہوا ہے اور وہ سب ٹھیک ہے کا نعرہ لگا کر اور سنہرے خواب دیکھا کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔ قوم ریاست مدینہ کے امیر المومنین سے سوال کرنا چاہتی ہے کہ مدینے کی ریاست میں آٹا اور چینی کے نام پر قوم کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگانے والوں کا بھی کوئی حساب کتاب ہوگا۔