اسلام آباد چیمبر کی منعقد کردہ آل پاکستان چیمبرز صدور کانفرنس کا علامیہ

344

اسلام آباد

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے20اور 21جنوری 2020کو ایک آل پاکستان چیمبرز صدور کانفرنس منعقد کی جس میں چاروں صوبوں سے چیمبروں کے 47صدور نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اختتام پر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد احمد وحید اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں انجم نثار نے ایک علامیہ جاری کیا جس میں صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے بہتر فروغ اور معیشت کی بحالی کیلئے چیمبروں کے صدور نے متفقہ طور پر حکومت کو مندرجہ ذیل مطالبات پیش کئے ۔
ٹیکس اقدامات:13.25فیصد پالیسی انٹرسیٹ ریٹ کو کم کر کے سنگل ڈیجٹ تک لایا لائے۔ موجودہ غیر منصفانہ اور پیچیدہ ٹیکس نظام کو منصفانہ، سادہ اور آسان بنایا جائے، 17فیصد سیلز ٹیکس کو 10فیصد سے نیچے لایا جائے، تمام پیداواری شعبوں کیلئے مشینری، خام مال اور پارٹس کی درآمد پرٹیکسوں اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں کمی کی جائے، پورے ملک میں صنعت و تجارت کیلئے ٹیکسوں و ڈیوٹیز کی یکساں شرح نافذ کی جائے، خام مال، انٹرمیڈیٹ مصنوعات اور مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کم کی جائے، گرین فیلڈ پراجیکٹس کیلئے پلانٹ و مشینری کی درآمد پر فراہم کردہ سیلز ٹیکس سے استثنیٰ باقی صنعتوں کو بھی فراہم کیا جائے ، تمام بیمار صنعتی یونٹوں کو بحالی کیلئے اسپیشل ٹیکس مراعات فراہم کی جائیں، صوبوں سے دہرے ٹیکس کو ختم کیا جائے اور پورے ملک میں سنگل فائلنگ کا طریقہ کار رائج کیا جائے۔
ٹیرف اقدامات: کاروبار کی لاگت کم کرنے کیلئے بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مناسب کمی کی جائے اور ٹیرف میں اضافہ کرنے کی بجائے حکومت گردشی قرضوں کو کم کرنے اور بجلی کمپنیوں کی ترسیل و تقسیم کے نقصانات کو کم کرنے پر توجہ دے، نئی سرمایہ کاری اور صنعتوں کی حوصلہ افزائی کیلئے کیلئے پالیسی ریٹ اور ٹیرف ریٹ کو کم از کم آئندہ پانچ سال کیلئے ایک سطح پر برقرار رکھا جائے، تیل سے مہنگی بجلی پیدا کرنے کی بجائے پانی اورقابل تجدید ذرائع سے سستی بجلی پیدا کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔
ریفنڈ اقدامات : سیلز ٹیکس سمیت ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنانے کیلئے آٹومیٹک ریفنڈ کا نظام متعارف کرایا جائے اور ریفنڈز کے بقایاجات سے متعلق تازہ ترین معلومات ایف بی آر کی ویب سائٹ پر ہر وقت مہیا کی جائیں ۔
صنعتکاری کیلئے اقدامات: صنعتکاری کے بہتر فروغ کیلئے سی پیک کے تحت بننے والے اسپیشل اکنامک زونز کے علاوہ حکومت چاروں صوبوں میں صنعتی اور اکنامک زونز قائم کرنے کیلئے جگہ مختص کرے ، صوبائی حکومتیں شہروں میں اور ان کے ارد گرد صنعتی و کمرشل سرگرمیوں کیلئے جگہوں کی فراہمی یقینی بنائیں جہاں سرمایہ کارگرین فیلڈ سمیت دیگر پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ ایس ایم ای شعبے کو کم شرح سود پر آسان قرضے فراہم کئے جائیں اور ان کاروباری اداروں کو ایکسپورٹ فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے، تمام صوبوں میں انڈسٹریل کلسٹر بحال کرنے کیلئے طویل المدت عرصے کیلئے ٹیکس کی چھوٹ دی جائے، صنعتی شعبہ جو مصنوعات ملک میں تیار کر رہا ہے ان کی درآمد کی حوصلہ شکنی کی جائے، سی پیک منصبوں میں چین اور پاکستان کی جوائنٹ وینچرز کو فروغ دیا جائے اور ان منصوبوں میں مقامی لیبر اور خام مال کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
تجارت و کامرس کیلئے اقدامات: وفاق اور چاروں صوبوںمیں مارکیٹوں و کمرشل سنٹرز کی بہتر ترقی پر توجہ دی جائے اور ان میں تمام مطلوبہ سہولیات فراہم کی جائیں، ای کامرس کے بارے میں بزنس کمیونٹی کو بہتر آگاہی فراہم کی جائے، چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے سمیت تمام آزاد تجارتی معاہدوں سے بزنس کمیونٹی کو اچھی طرح روشناس کیا جائے، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان بیرونی ممالک میں بی ٹو بی میٹنگ منعقد کرنے میں بزنس کمیونٹی کی مددکرے، درآمد شدہ مصنوعات کے متبادل ملک میں تیار کرنے کیلئے صنعتی شعبے کے ساتھ تعاون کیا جائے۔
ُپالیسی اصلاحات: تجارتی پالیسی ، ایس ایم ای پالیسی اور صنعتی پالیسی سمیت معیشت سے متعلقہ دیگر پالیسیوں کو بزنس کمیونٹی کی مشاورت سے بروقت حتمی شکل دی جائے تا کہ نجی شعبہ مستقبل کیلئے بہتر منصوبہ بندی کر سکے، تمام ٹیکس اتھارٹیوں کوضم کر کے ایک نیشنل ٹیکس اتھارٹی قائم کی جائے، ٹیکس اتھارٹیوں میں نجی شعبے سے بھی نمائندے لئے جائیں جو ٹیکس معاملات میں نجی شعبے کے مفادات کا تحفظ کر سکیں ، روپے کی قدر کو مستحکم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں، ایف بی آر سہ ماہی بنیادوں پر تمام چیمبروں کے صدور کے ساتھ مشاورت کر کے ٹیکس مسائل کو حل کرنے پر توجہ دے، پاکستان سٹیل مل، پی آئی اے اور بجلی و گیس کمپنیوں سمیت کاروبار سے متعلق تمام اداروں میں فوری اصلاحات لائی جائیں تا کہ کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے۔