قدم بہ قدم

146

عائشہ صدف (امریکا)

” آپ کو اندازہ بھی نہیں کتنا مشکل ہوتا ہے اس ماحول میں survive کرنا ۔ امریکن ایک بہت ہی racist , sexist قوم ہے دل چاہتا ہے ایسی جگہ چلی جاؤں جہاں “میں” racism کا نشانہ نہ بنوں۔ “
اس نے اپنی بات مکمل کر کے جعلی قہقہ لگایا تا کہ اپنی آنکھوں میں موجود تیرتے آنسوؤں کا مجھ سے چھپا سکے۔ میں دکھے دل کے ساتھ اس کے اندر گزرنے والے مدوجزر کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اپنے اور بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر اپنا دیس چھوڑ کر آئے تھے لیکن اندازہ نہ تھا کہ اپنے بچوں خصوصا لڑکیوں کو کو کس امتحان میں ڈال دیا ہے۔ ہواؤں کے چلنے اور بادلوں کے گرجنے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ کسی بھی لمحہ بارش شروع ہو جائے گی۔
ہائی اسکول کے ابتدائی سالوں میں اس کے موڈ کے گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشہ دیکھ کر اندازہ تو مجھے بھی ہوتا رہتا تھا کہ کہیں کچھ گڑبڑ ہے۔ وہ ٹین ایج اور ہائی اسکول دونوں turmoil سےایک ساتھ گزر رہی تھی۔ کبھی ہنستی تو ہنسی چلی جاتی کہ میں اس کو حیرت سے دیکھتی رہ جاتی۔ اور کبھی ایسا محسوس ہوتا کہ ذرا سی بات پر روپڑے گی سمجھ نہیں آتا کہ اس سے کب اور کیا بات کروں۔ اپنی نو جوانی سے موازنہ کرتی تو محسوس ہوتا کہ جوانی تو ایسی ہی ہوا کرتی ہے،اتنی ہی حساسیت ہوتی ہے، ایسے ہی نازک جذبات ہوتے ہیں ۔ خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولتے جھولتے نہ جانے کب معصوم معصوم سے دکھ گھیر لیا کرتے تھے۔ ساری خوشیاں ایک لمحہ میں معدوم ہو جاتی تھیں۔ کیسی عمر ہوتی ہے؟ کیسے مسائل ہوتے ہیں مجھے تو اندازہ ہے پھر کیوں مجھے اس کے دکھ سمیٹنے نہیں آتے۔ کیوں اتنی ٹوٹی ہو ئی لگ رہی تھی۔ شائد میں ہی اپنی مصروفیات میں اتنا گھر گئی ہوں کہ اس کے لئے وقت نکالنا ممکن نہیں ہو پاتا۔ شوہر کو وقت نہ دو تو وہ رشتہ کمزور پڑنے لگتا ہے اس کی کیسےآبیاری کی جائے ؟ اس کو کیسے قائم رکھا جائے؟ دوسری طرف بچے ہیں اور پھر سسرال اور میکہ تو ساتھ ساتھ ہی چل رہے ہیں ۔ مجھے آج بہت اچھی طرح سمجھ آرہا تھا کہ کیسے انسان کو مشقت میں پیدا کیا گیا ہے۔
اس کی باتیں سن کر میرا دل خون کے آنسو رو رہا تھا میری بیٹی میرے پاس ہوتے ہوئے بھی مجھ سے اتنی دور ہے ۔ میری کوکھ میں پلنے والی، میرے سینے سے چمٹنے والی، میرے ہاتھوں میں کھیلنے والی کب اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے لگی ؟ کب یہ جنریشن گیپ پیدا ہوا کہاں پر میں نے غلطی کی؟ میں تو اپنے تئیں سمجھتی رہی کہ میں اس کے قدم بہ قدم چل رہی ہوں اس کی انگلی پکڑ کر چلنا سکھا رہی ہوں انجانے میں کب وہ میری انگلی چھڑا کر اتنی آگے بڑھ گئی۔ زمانے کے گرم و سرد خود ہی جھیلتی رہی۔
”آپ کو پتا ہے میں نے ڈھائی سال اکیلے لائبریری میں وقت گزارا ہے اب لگتا ہے کہ اس طرح تو مسائل حل نہیں ہوتے لوگوں سے ملیں گے نہیں تو وہ کیسے جانیں گے کہ حجاب پہن کر ہمalien نہیں بن گئے ہیں ان کے جیسے انسان ہی ہیں ۔شروع میں پہلے سال کوشش کرتی رہی کہ غیر حجابی اور غیر مسلم سے دوستی کرنی چاہئے پھر اندازہ ہوا کہ حجابیوں کے ساتھ ہی دوستی کرنا سب سے آسان ہے اسی طرح peer pressure کو کم کیا جا سکتا ہے“
میری ننھی شہزادی کو مختصر وقت نے کتنا تجربہ عطا کردیا ہے۔ کیا کیا جھیلا ہے اکیلے اس نے ؟ جھیلا تو بہت کچھ میں نے بھی تھا مگر وقت نے سب پر گرد کی موٹی تہہ چڑھا دی۔ میں تو اپنی طالبعلمی کا زمانہ بھول ہی گئی تھی۔ اتنی ذمہ داریاں آکے پڑیں کہ ماضی قصہ پارینہ ہی بن گیا۔ ہوا کے جھونکے اس کے بالوں کو اڑائے دے رہے تھے اور وہ بھی جھولے پر زور زور سے جھونٹے لئے جا رہی تھی شائد اپنی frustration کو نکال رہی تھی میں اس کو یک ٹک دیکھ رہی تھی شائد اس کو بھی میری محویت کا اندازہ ہوگیا تھا کہنے لگی
” مجھ کو جج مت کیجئے گا لیکن میں نے بھی اس ماحول سے relevant ہونے کے لئے خراب لڑکے لڑکیوں کی طرح cursing شروع کردی تھی کیا کرتی لگتا تھامیں ان کی طرح بن جاؤں گی تو شائد پھر سب میرے دوست بن جائیں گے “
میں اس کی باتیں سن کر اور ان آزمائشوں سے گزرنے کے نتیجہ میں اس کے اندر آنے والی مثبت تبدیلیوں کو اپنے الفاظ کے آئینہ میں دکھانا چاہ رہی تھی۔ کہاں سے بات شروع کروں اللہ تعالی نے ہی میرے زبان پر الفاظ جاری کروا دئیے”میری جان تمہیں یاد ہے جب یہ منگولیا کا پودا ہم نے گملے سے نکال زمین میں دس سال پہلے ساتھ لگایا تھا۔
کتنا نازک سا تھا محسوس ہوتا تھا شائد یہ مر جائے گا سردیوں میں یاد ہے ہم نے اس کو فریز ہونے سے بچانے کے لئے کتنا خیال کیا تھا شروع میں تو پانی کا بھی کتنا خیال رکھنا پڑتا تھا اس کی سپورٹ کے لئے ایک لکڑی بھی لگائی تھی۔ایک آدھ دفعہ تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ پنپ نہیں سکے گا۔ پھر آہستہ آہستہ یہ اپنے ماحول کا عادی ہوتا گیا اور مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا اس کی جڑیں زمین میں گہری ہوتی گئیں اور شاخیں مزید پھیلتی گئیں اور خوبصورت خوشبودار پھول اس کے حسن میں اضافہ کا باعث بنتے گئے بس میری بہت عقلمند بیٹی! تم نے بھی وقت کے ساتھ بہت کچھ سیکھا تھوڑا سا غلط بہت کچھ صحیح اور اس تھوڑے سے غلط نے بھی تمہاری شخصیت کی نمو میں بڑا اچھا اثر ڈالا ہے کیونکہ تم نے اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اپنے کردار کو مضبوط کیا ہے۔” میری بات مکمل ہونے تک میرا اپنا لہجہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا مگر میں اندر ہی اندر اپنی بیٹی پر فخر محسوس کر رہی تھی اور پھر میں نے اپنا بازو اس کے شانے پر پھیلا دیا ہم دونوں کے بال تیز ہو ااڑائے دے رہی تھی میں اس کے قدم سے قدم ملائے کھڑی تھی کہ اگر وہ بارش میں بھیگے تو میں بھی بھیگوں تا کہ اس سب کو محسوس کر سکوں جو وہ محسوس کرے گی ۔