نوجوانوں میں شادی بیاہ کے بدلتے رحجانات

981

حرا زرين،کراچی

ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کو مشکل کام بنادیا گیا ہے۔ لڑکے والے چاند سی بہو ڈھونڈنے کے لئے گھر گھر لڑکیاں دیکھتے پھرتے ہیں تو لڑکی والے 25 سال کے لڑکے سے ایسے جمے ہوئے کاروبار یا عہدے کی ڈیمانڈ کرتے ہیں جو عمومی طور پر 45 ، 50 سال کی عمر سے پہلے ممکن ہی نہ ہو۔ غریب گھروں کے کتنی ہی لڑکیاں جہیز نہ ہونے کے باعث بیٹھی رہ جاتی ہیں۔ لڑکے کیریئر بنانے کے چکر میں گھن چکر ہوئے رہتے ہیں۔ شادی کے مواقع پر ہونے والے فضول اخراجات اور رسم و رواج کی وجہ سے بھی متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد آدھی عمر شادی کے لئے پیسہ جمع کرنے یا شادی پر لیا گیا قرضہ اتارنے میں ہی گزار دیتے ہیں۔
شادی بیاہ کو اس قدر مشکل بنا دینے میں سب سے زیادہ نقصان نوجوانوں کا ہی ہے-ديکھنے میں آيا ہے کہ موجودہ نسل ان تمام فضول رسومات اور اخراجات سے خلاصی پانا چاہتی ہے۔ بڑی تعداد میں نوجوانوں کا خیال ہے کہ جہیز اور مالی استحکام کی ڈیمانڈ یا واجبی شکل و صورت کے رشتوں کو مسترد نوجوان نہیں کرتے بلکہ یہ بڑے ہى کرتے ہیں۔ اسی حوالے سے نوجوانوں کی رائے معلوم کی گئی کہ آیا واقعی وہ واجبی شکل و صورت یا مالی طور پر غیر مستحکم فرد کو اپنا جیون ساتھی بنانے کو تیار ہیں؟ کیا وہ واقعتاً جہیز کی مخالفت کرتے ہیں؟ اور کیا شادی بیاہ پر ہونے والے اصول رسوم و رواج کے خلاف اسٹینڈ لینا چاہتے ہیں ؟ مختلف نوجوانوں کی جانب سے دلچسپ آراء سامنے آئیں جو کہ منفرد بھی ہیں اور نوجوانوں کی بدلتی سوچ کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔
کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان اسد راشد کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں شادی کو اسٹیٹس اور عزت کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیاں شادی کرنے کو ہی زندگی کا مقصد سمجھنے لگے ہیں۔ میرے خیال میں تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد شادی کردینا مناسب ہوتا ہے تاکہ لڑکا اور لڑکی خود اپنے طریقے سے اپنی زندگی بنا سکیں ۔ سادگی سے شادی کرنا دونوں گھرانوں اور معاشرے کے لئے سودمند ہے۔ پہلے کیریئر بنانے کا انتظار کرنا اور بعد میں شادی کرنا فضول خرچی کا سبب بنتا ہے۔
یو وی اے ایس لاہور سے ایم فل کی طالبہ رابعہ منظور سے جب سوال کیا گیا کہ وہ واجبی شکل و صورت یا مالی طور پر غیر مستحکم لڑکے سے شادی کرلیں گے تو ان کا کہنا تھا کہ ایک لڑکی ہونے کی حیثیت سے میں شادی کیلئے لڑکے کی شکل صورت سے زیادہ اس کی ذمہ دار ہونے کو ترجیح دوں گی۔ شادی کے لیے لڑکے کا مالی طور پر مستحکم ہونا لازمی ہے البتہ ایسی مثالیں بھی نظر آتی ہیں کہ شادی کے بعد لڑکے کا کاروبار خسارے میں چلا گیا لہذا رزق عورت کا ہی نصیب ہے۔ میں بذات خود ذمہ دار لڑکے سے شادی کو ترجیح دوں گی چاہے وہ مالی طور پر غیر مستحکم ہی کیوں نہ ہو۔ رابعہ کے مطابق اگر لڑکی دینی شعور رکھتی ہو تو شادی کی بے جا رسومات کا نہ ہونا خود لڑکی کے لیے ہی بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس طرح ہر موقعے پر ہونے والی نمود و نمائش اور فوٹو گرافی سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
لاہور کے رہائشی احمد شاہین کا خیال ہے کہ اگر لائف پارٹنر اپنی پسند کا ہے پھر شکل و صورت معنیٰ نہیں رکھتے لیکن اگر شادی گھر والوں کی پسند سے ہورہی ہے تو انسان چاہتا ہے کہ اس کا جیون ساتھی کم سے کم قبول صورت ضرور ہو۔ جہیز اپنی مروجہ شکل میں حقیقتاً ایک ناسور ہے اور اس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے جہیز کا نام بد نام ہونے کے بعد اب یہ رسم تحفے کے شکل میں ادا کی جارہی ہے۔ احمد شاہين کے مطابق سادگی سے شادی کا نعرہ اچھا مگر پریکٹیکل نہیں ہے۔ لڑکے اور لڑکی کے بھی کچھ ارمان ہوتے ہیں اس لیے غیرضروری اخراجات سے بچتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق شادی پر خرچ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ شادی پر منائی جانے والے رسمیں ہماری خاندانی روایات اور کلچر کا حصہ بن چکی ہیں۔ ان پر بے جا تنقید اور سب حرام قرار دینا درست عمل نہیں البتہ ہر وہ رسم جس کو انجام دینے میں غیر ضروری خرچ شامل ہو، اسے کنٹرول کرنا چاہیے۔
سیالکوٹ سے انگلش لٹریچر کی طالبہ میمونہ احمد نے بھی گفتگو میں حصہ ليتے ہوئے کہا کہ وہ مالی طور پر غیر مستحکم لڑکے سے ہرگز بھی شادی نہیں کریں گی۔ شادی کیلئے لڑکے کا مالی طور پر مستحکم ہونا بہت ضروری ہے البتہ شکل صورت سے زیادہ اخلاق معنی رکھتا ہے۔ شادی مکمل رسومات کے ساتھ ہی ہونی چاہیے کیونکہ یہ ہر انسان کی زندگی کا ایک یادگار موقع ہوتا ہے۔
اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم عبداللہ خالد کا کہنا ہے کہ ‏‎لائف پاٹنر دیکھنے کے لئے صورت کے بجائے سیرت پہ توجہ دینی چاہیے ۔‏‎جہیز ایک لعنت ہے جو کہ اسلام کے کسی بھی پہلو سے جائز نہیں۔ میں بذات خود اس کی مخالفت کرتا ہوں اور اپنی شادی پر بھی جہیز نہیں لوں گا۔ شادی کے موقع پر ہونے والی رسومات کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ‏‎شادی زندگی کا ایک بہت اہم موقع ہوتا ہے اس لئے میرے نزدیک چند رسومات جن کا مقصد صرف اور صرف ماحول کو خوشگوار بنانا ہو، ایسی رسمیں ہونی چاہئیں۔
ائیر یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل شارح سلیم بٹ نے سوالات کا جواب اپنی شادی کا تذکرہ کرتے ہوئے دیا کہ ‏‎اپنی شکل بھی کوئی اتنی ایکسٹرا حسین نہیں ہے اس لئے فرمائشوں میں کہیں حور پری یا گوری وغیرہ کی ڈیمانڈ نہیں رکھی تھی۔ صرف یہ ڈیمانڈ تھی کہ یونیورسٹی سے پڑھی ہوئی ہو۔ میری بیوی یا سسرال والوں نے مجھ سے تنخواہ یا جاب کی تفصیلات بھی معلوم نہیں کی تھیں ۔میں نے ‏‎خود سادگی سے شادی کی، مسجد میں نکاح ہوا-انہوں نے مستقبل میں بچوں کی شادیاں بھی ایسے ہی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور مزيد کہا کہ معاشرے میں رائج یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ جہیز لڑکی کو سسرال میں مقام دلاتا ہے۔ جن لوگوں نے انگلی اٹھانی ہو وہ جہیز میں بھی سستی لکڑی اور دوسرے نقص نکالتے ہیں۔ ‏‎
راضیہ چوہدری جن کا تعلق بہاولپور سے ہےاور بتایا کہ انکی بہن کی منگنی کے وقت بہنوئی کی جاب عارضی تھی۔ استخارہ ٹھیک آیا۔ بہنوئی نماز کے پابند ہیں۔ ابو کو یہ بات پسند آ گئی اور رشتہ ہو گیا ۔منگنی کے دو ماہ بعد بہنوئی کی دبئی میں اچھی جاب ہو گئی۔ ان کا ايمان اور پختہ ہوگيا کہ رزق عورت کے نصیب کا ہوتا ہے بس اللّه کے احکام اور اس پر بھروسہ ہوناچاہیے-
اسلام آباد سے بدر تنویر نے شادی بیاہ کے حوالے سے اپنے خیالات کا جامع انداز میں اظہار کرتے ہوئے کہا اسلام میں شادی نام کی کوئی اصطلاح نہیں۔ قرآن و حدیث میں ہر جگہ نکاح آیا ہے۔ ‏‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎نکاح انتہائی سادہ ہے۔ ایجاب و قبول ، مہر اور ولیمہ۔ ولیمہ صرف قریبی عزیز و اقارب کی دعوت کا نام ہے جسکی مثال کچھ یوں ہے کہ عبدالرحمان بن عوف ایک مرتبہ کچھ دنوں بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر آئے تو رسول اللہ کے پوچھنے پر بتایا نکاح ہوا تھا جس کی وجہ سے کچھ دن نظر نہیں آیا یعنی ایک صحابیِ ‏‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎رسول جو مسجد نبوی سے تھوڑا دور رہتے تھے انہوں نے نکاح کیا اور رسول اللہ کو نہیں بلایا جس کا مطلب یہ کہ تمام خاندان اور جاننے والوں کو ولیمہ میں زحمت دینا اسلامی روایت نہیں۔ ڈاکٹر اسرار کہتے تھے نکاح اتنا آسان ہے کہ رسول اللہ اکثر صحابیوں کے نکاح طے کرتے اور کہتے غسل کرکے اچھے ‏‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎کپڑے پہن کر آؤ اور مہر کیلئے کچھ بھی حسب استطاعت لیتے آؤ! حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پاکستانی یوتھ کا سب سے بڑا مسئلہ نکاح میں رسم و رواج کے نام پر حائل رکاوٹیں ہیں۔ اسى موقع پر انہوں نے اپنے عزیز دوست کا تذکرہ کیا جو خود بھی طالبعلم ہیں اور بتایا کہ دو سال قبل ان کی نسبت والدین کی رضامندی کے ذریعے کلاس فیلو سے طے ہوئی۔ اب وہ دونوں جلد از جلد نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ سب کچھ کمپرومائز کرنے کو تیار ہیں حتیٰ کہ وہ دونوں اس بات پر بھی راضی کہ ولیمہ بعد میں ہوجائے اور فرنیچر تک نیا نہ ‏‎لیا جائے اور رخصتی ہوجائے جبکہ والدین ڈٹے ہوئے ہیں کہ ڈگری پوری کرو، تب تک سونا، جہیز بن جائے اور فنکشنز کا خرچہ اکھٹا ہوجائے۔
گجرات یونیورسٹی سے ایم فل اسکالر بشریٰ سرور نے بھی اپنى رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شادی کیلئے لڑکے کا مالی مستحکم ہونا ضروری بھی ہے لیکن اگر کسی جگہ لڑکا بہت اچھا ہے باقی ہر چیز مناسب ہے تو صرف اس کمی کی وجہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اچھی شکل و صورت کوئی خاص خوبی نہیں ہے۔ واجبی شکل و صورت کو بھی خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے۔اپنے خاندان کی مثال دى کہ ان کے خاندان میں سادگی سے شادی کرنے کو ترجيح دى جاتى ہے۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے طالبعلم اسامہ رحمنٰ شیخ کا کہنا ہے کہ شکل و صورت کا اختیار بنانے والے اور سیرت کا اختیار بندے کے پاس ہے ۔ اگر اللہ نے انسان کو دنیا میں بھیجا ہے تو ضرور کوئی نہ کوئی تو اسکا جوڑا بھی بھیجا ہوگا بس کوشش اور وقت کی بات ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادی سے زیادہ جہیز اہم ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نوجوان طبقہ بے راہ روی کی بھول بھلیوں میں کھوتا چلا جا رہا ہے۔
ترکی میں مقیم پاکستانی طالبعلم ملک انس اعوان نے بھى دلچسپ گفتگو کى کہ لوگ معاشرتی دباؤ کے نیچے دب کر سادگی کو معیوب سمجھتے ہیں۔ ‏وہ مطمئن بھی دکھائى دیئے کہ ان کے دوست احباب نے شادى پر سادگى سے کام لیتے ہوئے نہ جہیز ليا بلکہ نکاح بھی سادگی سے ہوئے اور وہ اپنے گھروں میں خوش ہیں۔ ‏انہوں نے دکھاوے کو الميہ قرار ديا اور بتايا کہ ان کے ایک دوست کا اسی بنیاد پہ رشتہ نہیں ہو سکا کہ وہ سادگی سے کرنا چاہتے تھے۔ ان کا مزيد کہنا تھا کہ محض 25 سال کی عمر میں مالی طور پہ مستحکم لڑکے تو ملنے سے رہے،ہاں چالیس پچاس سال کے مرد ضرور ملیں گے۔پاؤں پہ کھڑے ہوتے ہوتے ویسے ہی عمر گزر جاتی ہے۔
امتہ اللہ کا خیال ہے کہ شادی کے لئے مرد کا مالی طور پر مستحکم ہونا پلس پوائنٹ ہے جبکہ شادی سادگی سے ہونا ہی بہتر رہتا ہے جہیز دینے اور جہیز لینے سے گریز کرنا چاہیےالبتہ امۃاللہ واجبی شکل و صورت پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ۔
ڈاکٹر اسد مقبول کا جہیز کے حوالے سے کہنا تھا کہ میں خود جہیز کا مخالف ہوں، یہ لڑکی والوں کے لئے اضافی بوجھ ہوتا ہے لیکن اگر وہ اپنی خوشی اور بنا کسی پریشانی کے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔ لاہور کے رہائشی محمد شعیب شاہ نے بتایا کہ میری ‏‎بہنوں کا نکاح اور رخصتی منصورہ مسجد سے ہوئی ہے ۔ میرا نکاح بھی منصورہ مسجد میں ہوا۔ خاندان میں سب نے اس طريقہ کو پسند کیا اور اس روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ دوسری اہم بات حق مہر ہے اس حوالے سے ہمارے خاندان نے کافی اصلاح کرلى ہے،اب جائز مہر کى سمجھ بوجھ سے کام ليا جاتا ہے ۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے عبداللہ سلیم کے خیالات بھی کچھ مختلف نہيں۔ انکا کہنا ہے کہ ‏‎میرے بہن، بھائی کا نکاح سادگی سے ہوا اور میں بھی اسی طرح کراؤں گا۔ لوگوں اور رشتہ داروں کے طعنوں کی پروا نہیں کروں گا۔
فیصل آباد کے رہائشی محمد افضل کا کہنا ہے کہ بعض اوقات مرد جہیز نہ لے کر مثال قائم کرتے ہیں لیکن ہمارا معاشرہ ایسا ہے کہ پھر دلہن کی بہنوں کے رشتے مشکل ہو جاتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں ” ایناں نے پہلی نوں کی دتا”(انہوں نے پہلی بیٹی کو کيا دیا؟؟)
جامعۂ کراچی کی طالبہ سیدہ حرا کے مطابق شکل و صورت اتنی حیثیت نہیں رکھتی لیکن لڑکے کا مالی طور پر مستحکم ہونا بہت اہم ہے۔ مایوں اور مہندی جیسی رسومات کے بغیر بھی شادی احسن انداز میں ہو سکتی ہے۔
جامعہ کراچی کے طالبعلم عبداللہ جدون نے شادی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‏‎نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے: ان کے مال کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کی خوبصورتی کی بنا پر، اور ان کی دین داری کے سبب، تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ۔”-انہوں نے نہایت اہم نکتے کے جانب توجہ مبذول کروائی کہ ‏‎لڑکے کا مالی طور پر مستحکم ہونا یا کوئی نوکری کرنا یہ دو الگ باتیں ہیں۔میرے خیال سے اگر کوئی بھی لڑکا نوکری کرتا ہو تو لڑکی اس سے شادی کر لیتی ہے ورنہ ہر کوئی اس لڑکے سے اجتناب کرتا ہے۔ رہی بات لڑکے کا مالی طور پر مستحکم ‏‎ہونا تو یہ شادی کے بعد بھی ہو سکتا ہے اگر لڑکی و لڑکا اپنے ذاتی اخراجات کو اپنے آمدنی کے مطابق محدود کریں۔ جہیز نہ لینا یا رسوم و رواج کے خلاف کھڑے ہونا ‏‎ہر فرد کی اپنی سوچ ہے کہ وہ کس طرح ہینڈل کرتا ہے۔ اگر فرد یہ سوچے گا کہ مجھے معاشرہ کیا کہے گا تو وہ فرد کبھی ترقی نہیں کرسکے گا۔
ملتان کے رہائشی عمر راجپوت نے بتایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میں نے اپنے والدین کو راضی کر لیا ہے اور وہ بھی اب جہیز کے خلاف ہیں۔ نوجوانوں کا فرض ہے کہ معاشرے کی برائیوں کے خلاف کھڑے ہوں۔ جو غلط ہے وہ غلط ہے۔‎اگر والدین بھی کوئی غلط یا اسلام کے خلاف کام کریں تو کم از کم انہیں ایک بار تو کہا جائے کہ یہ کام غلط ہے اور اسلام میں اسکی کوئی جگہ نہیں ہے۔
کراچی کی رہائشی فاطمہ نے کہا کہ شادی اس فرد کی مرضی کے مطابق ہونی چاہیے جس کی شادی ہو رہی ہو خاندان والوں کے اختلاف سے فرق نہیں پڑنا چاہیے ۔ بری کے لیے بھی ہمارے معاشرے میں جو رواج ہے کہ متعدد جوڑے جو کہ مخصوص تعداد کے بنائے جاتے ہیں یہ بھی غير ضروری اور بےجا ہے، جتنی استطاعت ہو اتنا ہی کرنا چاہیے ۔ میرے نزدیک شادی کیلئے لڑکے کا مالی طور پر بہت زیادہ مستحکم ہونا لازمی نہیں البتہ اتنا ضرور کماتا ہو کہ اپنا اور بیوی کا خرچہ اٹھا سکے۔
فیصل اباد کے محمد انس کا کہنا ہے کہ ہمارے معاشرے میں سادگی سے شادی کو غربت کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اسے ناپسند کیا جاتا ہے بہرحال سادگی کو اپناتے ہوئے حتی الامکان مختصر رسومات کے ساتھ نکاح ہونا چاہیے۔
ام علی کا خیال ہے کہ موجودہ نسل کو ان مسائل سے نبرد آزما ہونے کے بعد شادی بیاہ کے رائج طریقہ کار کے خلاف اسٹینڈ لینے کا حوصلہ ملا ہے اور وہ اب باشعور ہیں لہذا ہماری آئندہ نسلوں کو ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود 18 سے 25 سال کی عمر میں معمولی نوکری ہونے پر بھی
نوجوانوں سے اس موضوع پر گفتگو کرکے اس بات کا بخوبی ادراک ہو رہا ہے کہ اب نوجوان شادی کو آسان بنانا چاہتے ہیں تاکہ شادی پر دکھاوے کے خرچ کیلئے زندگی بھر پیسے جوڑنے،قرضہ اٹھانے کے بجائے ہر وقت اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرسکے اور معاشرتی دباؤ يا لوگوں کی باتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایک خوش آئند پہلو يہ سامنے آيا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سب ہی جہیز کے مخالف ہیں اور اس بات کا عزم بھی رکھتے ہیں کہ وہ خود “جہیز خوری” نہیں کریں گے۔ نوجوانوں کی بدلتی سوچ کے شاید فوری اثرات تو معاشرتى سطح پر اتنى جلد نظر نہ آئیں لیکن یہ امید ضرور کی جا سکتی ہے جب یہ نوجوان خود والدین بنیں گے تو اپنے بچوں کی شادیاں ضرور معاشرتی دباؤ اور غیر ضروری رسوم و رواج سے نکل کر کریں گے۔
اپنے بچوں کی شادی کریں گی