امریکا کا خاموش انخلا

240

سمیع اللہ ملک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات کئی بار برملاکہی ہے کہ امریکا کو دُور افتادہ خطوں میں لاحاصل جنگوں میں ملوث نہیں ہونا چاہیے، ساتھ ہی امریکی حکام افغانستان سے فوجیوں کوخاموشی سے نکال بھی رہے ہیں ۔ایک امریکی عہدیدارنے بتایا ہے کہ امریکا نے ایک سال کے دوران افغانستان سے 2 ہزارفوجیوں کوخاموشی نکالا۔ یہ خاموش انخلاکابل حکومت کے علم میں ہے اوراس حوالے سے باضابطہ دستاویزی کارروائی بھی کی گئی ہے۔ یہ اقدام اس اعتبارسے حیران کن ہے کہ طالبان سے کسی باضابطہ معاہدے کی منزل کوقریب کرنے کے لیے عسکری انخلا عمل میں لایاگیا ہے۔ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کے اعلیٰ کمانڈرجنرل آسٹن ایس ملرنے ایک پریس کانفرنس میں بتایاکہ ایک سال کے دوران 2 ہزارامریکی فوجیوں کووطن واپس بھیجا گیاہے جس کے نتیجے میں افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد اب 12 ہزاررہ گئی ہے۔ امریکانے طالبان سے مذاکرات کے دوران اس بات پررضا مندی ظاہرکی تھی کہ امریکی فوجیوں کی تعداد 8 ہزارتک لائی جائے گی۔ اُدھر افغان اورامریکی حکام نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے۔
امریکی وزیردفاع مارک ایسپر نے افغانستان کے حالیہ دورے میں یہ بات کہی تھی کہ اگر وہاں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد8 ہزارتک لائی جائے تب بھی انسدادِ دہشت گردی کے آپریشنزکی کارکردگی پرکچھ زیادہ منفی اثرمرتب نہیں ہوگا۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ امریکادنیابھرمیں عسکری مہمات سے کنارہ کش ہوجائے۔اس حوالے سے ان کی بے تابی کوسمجھناکچھ زیادہ مشکل نہیں۔امریکا میں صدارتی انتخاب قریب آ رہے ہیں، ایسے میں اگرکہیں لڑائی زورپکڑگئی اورامریکی فوجیوں کی ہلاکتیں واقع ہوئیں توٹرمپ کادوبارہ منتخب ہوناانتہائی دشوار ہوگا۔ ٹرمپ کی بے تابی دیکھتے ہوئے امریکی حکام نے افغانستان سے زیادہ سے زیادہ امریکی فوجیوں کوواپس بلانے کی تیاریاں شروع کیں۔طالبان سے مذاکرات کے دوران امریکی حکام نے چاہاکہ کسی ایسے معاہدے پردستخط ہو جائیں جس کے تحت افغان سرزمین پرایک خاص تعدادمیں امریکی فوجی تعینات رکھنا ممکن ہوسکے جب کہ طالبان تمام فوجیوں کاانخلا کا مطالبہ کررہے ہیں۔
بھارت اورافغان حکام کوخدشہ ہے کہ طالبان سے کسی باضابطہ معاہدے کے طے پانے سے قبل ہی افغانستان سے امریکی فوجیوں کے خاموش انخلاکاایک واضح مطلب یہ ہے کہ امریکا مذاکرات کی میزپراپنی پوزیشن کمزورکررہاہے۔اگر افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعدادغیرمعمولی حدتک کم ہوگئی توطالبان پردباوڈالنا،ان سے کوئی بڑی بات منوانا انتہائی دشوار ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ امریکا کے لیے افغان فورسزکوانسدادِ دہشتگردی کے حوالے سے خصوصی تربیت دینابھی ممکن نہیں رہے گا۔امریکی اورافغان حکام نے بتایا ہے کہ افغان سیکورٹی فورسزکوپورے ملک کی سلامتی کے حوالے سے ذمے داری سنبھالنے کے قابل بناناامریکی فوج کا ایک بنیادی مقصدرہاہے۔خاموش انخلاکامطلب یہ بھی لیا جائے گاکہ امریکا اب اس بنیادی مقصد کے حوالے سے کچھ زیادہ سنجیدہ نہیں۔
فاکس نیوزسے ایک انٹرویومیں ٹرمپ کی زبان لڑکھڑاگئی اورانہوں نے یہ کہاکہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد 12ہزارنہیں بلکہ9ہزارہے۔ اس سے طالبان نے یہ مفہوم اخذکیاکہ اب امریکاکسی باضابطہ معاہدے کاانتظارکرنے کے بجائے افغانستان سے چپ چاپ نکلنے کوترجیح دے رہا ہے۔ قطرمیں مذاکرات کے کئی ادوارہوئے۔امریکی مذاکرات کاروں کی کوشش رہی کہ طالبان کسی نہ کسی طوراس بات پررضامند ہوجائیں کہ افغانستان میں امریکی فوجی ایک خاص حد تک ضرور تعینات رہیں گے ۔وہ طالبان کویہ یقین بھی دلاناچاہتے تھے کہ وہ افغانستان کی بہبود کے حوالے سے سنجیدہ ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ امریکی مذاکرات کاروں نے طالبان سے مذاکرات کی بنیادپرمعاہدے کاایک مسودہ تیارکیاتھا،جس میں اس بات کی ضمانت فراہم کی گئی تھی کہ پانچ ماہ کے اندرکم وبیش ساڑھے پانچ ہزارامریکی فوجی افغانستان چھوڑدیں گے۔اس کے جواب میں طالبان سے صرف اس بات کی ضمانت مانگی جارہی تھی کہ وہ تشددترک کردیں گے۔
طالبان سے امریکی حکام کے مذاکرات ستمبرمیں اس وقت اچانک ختم ہوگئے تھے جب ٹرمپ نے پلگ کھینچ لیا۔ معاہدے کامسودہ تیار ہو چکاتھا۔تب سے اب تک امریکی حکام یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے کہ طالبان سے رابطے مکمل طورپرختم نہیں ہوئے اور کسی نہ کسی شکل میں بات چیت جاری ہے۔اکتوبرکے وسط میں افغانستان کے لیے امریکاکے خصوصی نمایندے زلمے خلیل زادنے اسلام آبادمیں طالبان کے نمایندوں سے ملاقات کی۔ افغان حکومت کی ایک شکایت یہ تھی کہ امریکاکوفوجیوں کی تعدادگھٹانے کی بات طالبان کے بجائے اُس سے کرنی چاہیے تھی۔ گزشتہ برس جنوری میں اشرف غنی نے افغانستان میں اخراجات کم کرنے کی ٹرمپ کی شدید خواہش کے پیش نظرکہاتھاکہ اگر امریکی حکام فوجیوں کی تعدادکم کرنے کے حوالے سے طالبان سے کوئی اچھی ڈیل نہ کرپائیں توافغان حکومت براہِ راست بات چیت کے لیے تیارہے۔
جنرل آسٹن ملرنے بہت پہلے افغانستان میں تعینات رکھے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد8600مقررکی تھی۔یہ فوجی افغان فورسزکی بھرپورمعاونت کی پوزیشن میں بھی ہوں گے۔
جنرل ملراسپیشل آپریشنزآفیسر ہیں۔ ان کی شہرت ملٹری یونٹس کوکم حجم کے ساتھ متوازن رکھنے اورمشن ہرحال میں کامیابی سے مکمل کرنے کے حوالے سے ہے۔جنرل ملرنے ایک سال کے دوران افغان مشن کی قیادت کی ہے۔ اس دوران امریکی فوجیوں نے افغان فوج کے لیے کئی منصوبے بنائے، تاکہ جنگ کابوجھ افغان فوج اٹھائے اورافغانستان میں امریکی فوج کی قیادت اپنے وسائل بہ طریق احسن بروئے کارلانے پرمتوجہ رہے اورضرورت پڑنے پرافغان فوج کوفضائی قوت سے معاونت حاصل رہے گی۔
2010اور2011میں جب افغان جنگ نقطہ عروج پرتھی تب افغان سرزمین پرتعینات امریکی فوجیوں کی تعدادایک لاکھ سے زائد تھی۔امریکی فوجیوں کی معاونت کے لیے نیٹو اتحادیوں کے ہزاروں فوجی بھی تعینات تھے۔ان سب نے مل کرایک بڑاعالمی فوجی اتحادتشکیل دیا۔اب امریکی فوجیوں کی تعدادمیں مزیدکمی کامطلب یہ ہے کہ افغان فورسزکی تربیت کابوجھ وہاں تعینات ساڑھے 8 ہزارنیٹوفوجیوں اوردیگراتحادیوں کواٹھاناپڑے گا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکاکی طرح نیٹواتحادیوں نے بھی اپنے فوجیوں کے انخلاکاپروگرام بنایاہے یانہیں۔نیو یارک ٹائمز سے ایک حالیہ انٹرویومیں نیٹوسیکرٹری جنرل ژینس اسٹالٹن برگ نے فوجیوں کی تعدادگھٹانے کے حوالے سے توکچھ نہیں کہاتھا،مگر اتناضرورکہاتھاکہ نیٹوافغانستان میں اپنے مشن کے حوالے سے پرعزم ہے۔ان کاکہناتھاکہ ہم نے کئی باراپنی فورسزکی ایڈجسٹمنٹ کی ہے اور آیندہ بھی اپنی فورسزکی تشکیل اورطریقِ کارپرمتوجہ رہیں گے۔
افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعدادگھٹانے کامعاملہ ایسے وقت پر سامنے آیاہے جب امریکانے ترک فوج کی پیش قدمی کے بعد شام سے بھی اپنے فوجی واپس بلائے ہیں۔ شام اور افغانستان میں رونماہونے والی تبدیلیاں کئی پہلووں سے باہم مربوط ہیں۔ دسمبر2019ء میں ٹرمپ نے پہلی باراعلان کیاکہ شام سے امریکی فوجی واپس بلالیے جائیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیاکہ افغانستان سے7ہزارامریکی فوجی واپس بلائے جائیں۔
شام کی بدلتی ہوئی صورتِ حال پرطالبان نے بھی نظررکھی ہوئی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے ترکی کوکردجنگجووں کے خلاف جانے کی اجازت دی جبکہ یہ جنگجو طویل مدت سے امریکی فوج سے مل کرلڑتے رہے تھے۔ طالبان کے سینئرمذاکرات کارخیراللہ خیرخواہ نے ایک انٹرویومیں کہاہے کہ امریکادنیابھرمیں اپنے مفادات کی نگرانی کرتا رہتا ہے اورجہاں ایسا ممکن نہ ہو وہاں سے وہ نکل جاتاہے۔ شام میں کردجنگجووں کوچھوڑدینااِس کی ایک واضح مثال ہے۔ اب یہ واضح ہے کہ کابل انتظامیہ کابھی یہی مقدرہوگا۔