بھارت کا یوم جمہوریت نہیں، یوم جارحیت

178

قدسیہ مدثر
گزشتہ دنوں سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ایک وڈیو وائرل ہوئی جو کشمیری بچی فاطمہ پر گزرے اذیت ناک لمحات کی علامتی منظر کشی تھی۔ اس کلپ کے پس منظر میں کشمیریوں سے متعلق سوچ کر دل دہل گیا کہ پتا نہیں کئی ماہ کے شدید کرفیو میں کتنی فاطمائیں ایسے عذابوں سے گزر رہی ہوں گی۔ کلپ میں ایک معصوم کشمیری بچی فاطمہ کو بھائی کی سالگرہ مناتے، اسکول جاتے اور گڑیا کے ساتھ کھیلتے دکھایا گیا ہے۔ اسکے والد بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم تھے، جن کی ایک ہفتے بعد آمد نے فاطمہ کی خوشی کو چار چاند لگا دیے۔پھر بریکنگ نیوز چلتی ہے کہ بھارتی فورسز نے وادی پر دھاوا بولتے ہوئے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ بیمار بچی خوف زدہ ہو کر ماں سے لپٹ جاتی ہے، پھر چند بھارتی فوجی دروازہ توڑتے ہوئے داخل ہوتے ہیں اور عزیز ازجان بھائی کو لے جاتے ہیں۔ پھر کچھ دیر بعد اس کی ماں کو لے جاتے ہیں اور بھائی کی لاش چھوڑ جاتے ہیں۔ فاطمہ بھائی کی لاش کو سامنے رکھے محو حیرت ہے اور خیالوں میں بھائی سے آزادی کا مطلب پوچھتی ہے جو اسے کہتا تھا کہ جب تم بڑی ہو جاؤ گی، تب بتاؤں گا۔پھر فاطمہ نے گھر ہی میں اپنے بھائی کی قبر کھود کر آزادی کا مطلب اچھی طرح سمجھ لیا۔ ساتھ ہی اس کی وہ یہ کہتی رہی کہ ’’ہم لے کے رہیں گے آزادی ، ہے حق ہمارا آزادی۔ یہ کہانی مقبوضہ کشمیر کے ہر گھر کی ہے، جہاں مودی سرکار کے حکم پر بھارتی فوج مظلوم کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ گرانے کے ریکارڈ بنانے میں مصروف ہے۔ وہاں کے معصوم بچے ایسے سانحات سے روز گزرتے ہیں۔
26 جنوری بھارت میں یوم جمہوریہ کے طور پر منایا جاتا ہے جب کہ دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں۔ اس موع پر وہ عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں کہ بھارت کو یہ حق نہیں کہ وہ یوم جمہوریہ منائے کیوں کہ جواہر لعل نہرو نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا جو وعدہ کیا تھا اسے آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ اگر دیکھا جائے تو بھارت جو نام نہاد جمہوریت کا دعویدار ہے، وہاں کی حکومت نے خود اپنے ہی گھر میں انارکی پھیلا کر شہریت کا قانون پاس کرایا، جس سے ہندو انتہا پسندوں کی نمایندہ حکومت کی اقلیتوں کے ساتھ نفرت اور دشمنی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ انہیں اپنے ہی ملک میں غیر قرار دے کر ان سے شہریت کا حق چھیننے کی تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں، یہ اقدام جمہوریت کے منہ پر زوردار طمانچے سے کم نہیں۔
بھارت کی نام نہاد جمہوریت نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو پامال کرتے ہوئے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کو لاکھوں کی تعداد میں فوج کی مدد سے کالونی بنا رکھا ہے،جہاں بھوک، پیاس، بنیادی انسانی ضروریات سے محرومی، علاج کی سہولتوں کا میسر نہ ہونا،اپنوں سے دوری، آزاد فضا میں سانس نہ لینا اور اپنے ہی گھروں میں قیدی جیسی زندگی گزارنا ایک المیہ بن چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں گرتی لاشوں، لٹتی عزتوں، بہتے خون اور گونجتی معصوم چیخوں سے آنکھیں چرا کر عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفظ میں مگن ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کو 6 ماہ گزرچکے ہیں اور اس دوران پوری وادی میں انسانیت سسک رہی ہے۔ گزشتہ روز بھی دنیا بھر کے کشمیریوں نے بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر یوم سیاہ منا کر یہ بتایا کہ جمہوریت زدہ قومیں کیسی ہوتی ہیں۔
بھارت سے متعلق یہ کہنا کہ وہاں کا آئین سیکولر ہے اور یہاں تمام اقلیتوں کو آزادی حاصل ہے، دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا کچھ نہیں۔ اگر ایسا ہے تو وہاں رہنے والی اقلیتیں اپنے بنیادی حقوق سمیت دیگر معاملات خصوصاً شہریت بل کے خلاف سڑکوں پر ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں انتہا پسند ہندو تنظیم کے زیر اثر مودی سرکار تمام اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے حقوق سلب کرکے جمہوریت کو کھلے عام گالی دے رہی ہے۔
بھارتی حکومت کے اقدامات سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہٹلر کے راستے پر چلتے ہوئے ملک کو ہندوتوا کی پالیسی کے تحت تبدیل کرنا چاہتے ہیں یا پھر نسل کشی کرکے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو مغلوب کرنے میں کوشاں ہے۔ اس کی مثالیں مختلف ریاستوں اور شہروں میں آئے روز نظر آتی ہیں، مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات اور سرعام قتل کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ نام نہاد جمہوریت کا دعوے دار بھارت خود اپنے ہی اندر انتشار پیدا کرکے نفرت اور تقسیم کو بڑھاوا دے رہا ہے، جس کے اثرات کئی ریاستوں میں علاحدگی کی تحریکوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر کہا ہے کہ وہ کس جواز کے تحت یہ دن منا رہا ہے، جب کہ اس نے پوری وادی پر قبضہ کرکے وہاں رہنے والے مظلوم کشمیریوں سے آزادی اور جمہوری حقوق چھین رکھے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے قبرستانوں میں گزشتہ 10 برس کے دوران 80 ہزار قبروں کا اضافہ ہو چکا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی فوج کس رفتار سے کشمیر میں قتل و غارت گری میں مصروف ہے جب کہ مودی سرکار غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی فوج کے جرائم پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنی مسلم کش پالیسیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
بھارت خوب جانتا ہے کہ مقبوضہ وادی میں مزید لاکھوں کی تعداد میں فوجی بھی مسلط کردیے جائیں، تب بھی کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ حریت قیادت کا دو ٹوک موقف ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوج کے مکمل انخلا اور حق خود ارادیت کے حصول تک جدوجہد آزادی جاری رہے گی۔
نام نہاد یوم جمہوریہ پر بھارتی حکومت کے خلاف مظاہرے
بھارت میں گزشتہ روز یوم جمہوریہ کی سالانہ فوجی پریڈ کے مہمان خصوصی برازیل کے صدر جیئر بولسونارو تھے، اس موقع پر ممبئی میں بولسونارو کے خلاف احتجاج کیا گیا جب کہ دوسری جانب شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ بھی اسی روز جاری رہا، جب دنیا بھر میں کشمیری برادری بھارت کے خلاف یوم سیاہ منانے میں مصروف تھی۔
اتوار کے روز ا’’آئین کے تحفظ‘‘ کے عنوان سے حیدر آباد، پونے، کولکتہ، ممبئی اور دیگر شہروں میں احتجاج ہوتا رہا جب کہ بھارتی فوج اپنے حکمران اور مہمان کو جمہوریت کے نام پر سلامی دینے میں مصروف تھی۔ اس موقع پر جنوبی کیرالا میں 620 کلومیٹر طویل انسانی زنجیر بنا کر علامتی مظاہرہ کیا گیا۔