عالمی تبدیلیاں

330

کیا دنیا کا بڑا فوجی اتحاد ناٹو بکھر رہا ہے؟ یہ فوجی معاہدہ ۷۱ سال قبل ہوا تھا لیکن اب سات عشروں کے بعد داخلی بحران کا شکا ہے، امریکا اور یورپی ممالک میں باہمی اعتماد میں کمی کا رحجان دیکھا جارہا ہے، اس معاہدے میں شامل متعدد ملک امریکی شرائط تسلیم کرنے سے گریز کر رہے ہیں یہ معاہدہ روس کے نگرانی یا اس کی سرپرستی میں بننے والے اتحاد سیٹو کے مقابل تھا لیکن اب دنیا میں تبدیل ہوتے ہوئے حالات کے پیش نظر سیٹو کی طرح ناٹو بھی اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے قریب ہے، یہ صورت حال ایسی نہیںہے کہ اسے تجزیہ کیے بغیر ہی نظر انداز کردیاجائے، ہمیں پارلیمنٹ میں اس صورت حال پر بحث کرنی چاہیے آغاز میں تو ناٹو کے رکن ملکوں کی تعداد بارہ تھی لیکن بعد میں اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تاہم اب عروج کے بعد زوال کی جانب مائل ہے۔
ناٹو کے سالانہ دفاعی اخراجات تقریباً 10کھرب ڈالر ($1Trillion) پہنچ چکے ہیں۔ ناٹو کے مقابلے میں وارسا پیکٹ (Warsaw Pact) معاہدہ لایا گیا تھا یہ سرد جنگ کا دور تھا روس اور امریکا کے تعلقات سخت تنائو کا شکار تھے اسی دوران متعدد ممالک میں مقامی جنگیں ہوئیں شدید خونریزی اور خانہ جنگی ہوئی کوریا اور ویتنام اس کی مثال ہیں اس کے بعد افغانستان میں روسی افواج داخل ہوئیں اور ایک نیا محاذ کھل گیا تب پاکستان نے فیصلہ کیا تھا کہ روس کو دریائے آمو کے پار ہی روکا جائے پاکستان کے فیصلے کی وجہ سے وہ افغانستان کے کوہساروں اور بیابانوں سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا اس وقت پاکستان ناٹو کا حصہ نہیں تھا اور بالآخر 1988ء میں روس نے جنیوا میں ایسے معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت اسے افغانستان سے نکلنا پڑا جس سے روس کی ساکھ ختم ہوگئی اور اس کے بطن سے بہت سی اسلامی ریاستیں وجود میں آئیں اور روس ماسکو تک محدود ہوگیا اس کی جگہ 15ریاستیں معرضِ وجود میں آئیں جن میں سے چھ نئی ریاستوں میں مسلمانوں کی واضع اکثریت پائی جاتی ہے۔ آج کے حقائق یہ ہیں کہ روس اپنی عسکری قوت کھو چکا ہے، روس کمزور ہوتا دیکھ کر امریکا دنیا میں واحد سپر پاور کے طور پرسامنے آیا اور اس نے سب سے پہلے عراق پر حملہ کیا اور مغرب نے بوسنیا میں اپنی فوج داخل کی، یہیں سے امریکا اور مسلم دنیا کے مابین ایک نئی کشمکش شروع ہوئی اور یہ صورتِ حال 11ستمبر 2001ء تک جاپہنچی جس نے ابہام مزید بڑھا دیا امریکی صدر جارج بش جونئیر نے صلیبی جنگ کے نام پر اپنی حمایت میں پوری دنیا کو اکٹھا کرلیا اور ایک وسیع البنیاد بین الاقوامی اتحاد قائم کرلیا جس میں 77ممالک شامل تھے جنہوں نے اور افغانستان پر حملہ کیا افغانستان کے بعد، عراق، یمن، شام اور صومالیہ بھی متاثر ہوئے، جس کے ردعمل میں عرب بہار نے جنم لیا لیکن مطلوب نتائج نہیں مل سکے اور مسلم ممالک عدم استحکام کا شکار ہوگئے جس سے تیونس، لیبیا، مصر اور شام سیاسی لحاظ سے عدم استحکام کا شکار ہوئے اگلا حملہ ترکی پر کیا گیا جب اردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی اس پس منظر میں ہمیں اب مستقبل کا جائزہ لینے اور ماضی کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ نائن الیون گزرے اٹھارہ برس ہوچکے ہیں اب خرابی بسیار کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ فیصلہ کیاکہ دنیا بھر میں مختلف محاذوں پر سرگرم امریکی افواج کو واپس بلایا جائے۔
لندن میں ناٹو کا اجلاس دسمبر 2019ء کو ہوا جس میں یہ اتحاد انتشار کا شکار ہوتا ہوا نظر آیا ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ تمام ناٹو رکن ملک اپنی سالانہ مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کا دو فی صد ناٹو کے دفاعی مقاصد کے لیے مختص کریں مگر یہ ملک راضی نہیں ہیں اگر یہ رقم نہ ملی تو امریکا دھمکی دے چکا ہے وہ اس اتحاد میں رہنے یانہ رہنے کا فیصلہ کرے گا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکا اس ملک سے رقم بٹورنے کے لیے کچھ خرابیوں کی بنیاد رکھے، اسی طرح اتحاد میں شامل ملک فرانس کے ترکی پر اعتراضات ہیں اسے شام میں کارروائی پر اعتراض ہے، جرمنی بھی اس کا ہامی ہے ترکی کی فوجی طاقت میں اضافہ بھی امریکا کو کھٹک رہا ہے امریکا نے ماحول بنا رکھا ہے اس وجہ سے ناٹو اسلامی ممالک اور اسلام پسند تنظیموں کے مابین بھی کشمکش موجود ہے اور سب سے بڑھ کر یہ چین کو بھی مقابلے پر آنے والی بڑی معاشی قوت کے طور پر دیکھا جارہا ہے یہ ہے وہ نکتہ جہاں، ایٹمی ملک پاکستان کو اپنی سمت کا تعین کرنا ہے، یہ سمت پارلیمنٹ کے ذریعے ہی متعین ہوسکتی ہے کیا ہماری پارلیمانی سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں یہ عالمی بدلتی ہوئی تصویر اور صورت حال زیر بحث لانے کو تیار ہیں۔