بھارتی یوم جمہوریہ پر مقبوضہ وادی سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ‘ قابض فوج کے ہاتھوں مزید3کشمیری شہید

310
اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کے تحت بھارتی یوم جمہوریہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا جارہاہے

اسلام آباد/مظفرآباد/سری نگر/لندن/آسام(خبر ایجنسیاں) حریت رہنمائوں کی اپیل پراتوار کو نام نہاد بھارتی یومِ جمہوریہ کو کنٹرول لائن کے دونوں طرف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یومِ سیاہ کے طور پرمنا یا، دنیا بھر میں بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔دوسری جانب مقبوضہ کشمیرکے ضلع پلوامہ میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں مزید 3کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔قابض بھارتی فوجیوں نے ضلع کے ترال علاقے میں ہری پیریگام پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران نوجوانوں کو شہید کیا۔یوم سیاہ منانے کا مقصد دنیا کی توجہ کشمیر پر بھارت کے مسلسل قبضے اور کشمیریوں کوگزشتہ 73سال سے حق خودارادیت سے محروم رکھے جانے کی طرف مبذول کرانا تھا۔ اس موقع پرمقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال رہی ۔بھارتی یومِ جمہوریہ پر قابض افواج نے مقبوضہ کشمیرکو فوجی چھائونی میں تبدیل کر دیا تھا، کشمیریوں کے احتجاج کے پیش نظر جگہ جگہ بھارتی فوجی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔سری نگر سمیت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ منانے کے پیش نظرسیکورٹی کے سخت کیے گئے تھے کرکٹ اسٹیڈیم سونہ واری جہاں نام نہاد یوم جمہوریہ کی تقریب ہوئی جس کو چاورں طرف سے سیل کردیاگیا تھا ۔ کئی علاقوں میں سرچ آپریشنز جاری ہیں اس دوران جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ترال قصبے میں سیکورٹی فورسز نے 3مجاہدین کو شہید کرنے کادعویٰ کیا جن میں جیش محمد کاقاری یاسر بھی شامل ہیں۔اْدھر مقبوضہ کشمیر میں اتوار کو مسلسل 175 ویں روز بھی سخت فوجی محاصرہ جاری رہا جبکہ عوام کی نقل وحرکت پرنظررکھنے کے لیے بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ،سخت سیکورٹی کے باوجود لوگوں نے یوم سیاہ منایا اور کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے ،یوم سیاہ کے موقع پر آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ ادھر حکومت پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پرمسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے گزشتہ روز آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں ریلیوں، سیمینارز اورنمائشوں کے ذریعے ایک جامع مہم شروع ہوگئی، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں بھی ایک مہم شروع کی جائے گی جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بے نقاب کرنا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام گزشتہ روز اسلام آباد میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے کشمیریوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاج کا مقصدبھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانا تھا۔ مظاہرین نے بھارت مخالف بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے۔بھارت کیخلاف زبردست نعرے بازی کی گئی ۔اس موقع پر حریت رہنمائوں عبداللہ گیلانی، فیض نقشبندی ، سلیم ہارون، شیخ متین،محمود ساغر و دیگر نے مظاہرین سے خطاب کیا۔ علاوہ ازیں دنیا بھرمیں کشمیریوں نے یوم سیاہ منایا اور مظاہرے کیے ،اس سال کشمیریوں نے ایک ایسے موقع پر یوم سیاہ منایا جب بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے کشمیر کی خصوصی اور بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل کردیا اور اپنی فوج کی بھاری نفری کی تعیناتی اور کرفیو اور مواصلاتی بندش کو طول دیتے ہوئے کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کرلیے۔ مقبوضہ کشمیر میں محاصرے کو 175دن ہو گئے، سرد موسم میں کشمیری مشکلات کا شکار ہیں، خوراک اور ادویات کی کمی نے لوگوں کا جینا مشکل کر دیا۔وادی میں مکمل مواصلاتی بلیک آئوٹ سے دنیا سب سے بڑے المیے سے بے خبر ہے۔ ادھر برطانیہ میں بھارت کے متنازع شہریت بل اور مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون کے خلاف لندن میں برطانوی وزیراعظم کی رہائش کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ اِدھر بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر آسام میں دھماکوں سے گونج اٹھا،یوم جمہوریہ پر مختلف شہروں میں متنازع شہریت کے قانون کے خلاف احتجاج جاری رہا، کیرالہ میں لاکھوں افراد نے 620 کلومیٹر طویل انسانی زنجیر بنائی جبکہ آسام کے مختلف علاقے 5 دھماکوں سے گونج اٹھے۔بھارتی میڈیا کے مطابق آسام کے مختلف علاقوں ضلع ڈبروگڑھ ، ضلع چاردیو اور تنسوکیا میں 15 منٹ کے وقفوں سے 5 دھماکے کیے گئے جس کے باعث خوف ہراس پھیل گیا تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ رپورٹ کے مطابق دھماکوں کی ذمے داری علیحدگی پسند تنظیم یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (الفا) نے قبول کرلی ہے۔الفا کی جانب سے بھارتی میڈیا کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے منانے کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔بھارتی حکومت سمجھتی ہے کہ ہم کمزور ہوچکے ہیں لیکن ہم اب بھی ماضی کی طرح کارروائیاں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اپنے پیغام میں الفا کی جانب سےآسام کے شہریوں سے یوم جمہوریہ کی تقاریب کا بائیکاٹ کرنے اور عام ہڑتال کی اپیل بھی کی گئی۔