…عمران خان، جن پہ تکیہ ہے

305

تحریک انصاف کی حکومت وفاق کے علاوہ پنجاب ، خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے صوبوںمیں سرکاری بینچوں پر براجمان ہے ۔ وفاق میں تحریک انصاف کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے زیادہ تگ و دو کی ضرورت نہیں ہے ، محض چند ووٹوں کے ادھر سے اُدھر ہونے سے تحریک انصاف کی حکومت بھی ادھر سے اُدھر ہوسکتی ہے ۔ اب تو تینوں صوبوں میں بھی تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ بلوچستان اور پنجاب میں تو وزرائے اعلیٰ کے خلاف قراردادیں بھی جمع کروادی گئی ہیں جبکہ خیبر پختون خوا کا حال بھی کچھ بہتر نہیں ہے ۔ تحریک انصاف میں ہر سطح کے ترجمان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر برافروختہ ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ۔ ان ترجمانوں نے تو ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی اپنی ساکھ پر بھی سوال اٹھادیے ہیں اور کہا ہے کہ یہ رپورٹ ن لیگ سے مال لے کر مرتب کی گئی ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے زیر اقتدار تینوں صوبوں میں بغاوت کرنے والوں کا الزام ہی کرپشن ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت میں خیبرپختون خوا کی حالت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ پشاور بی آر ٹی منصوبہ اب ضرب المثل بن چکا ہے ۔ عدالت عظمیٰ بھی خیبر پختون خوا میں بیڈ گورننس پر ریمارکس دیے بغیر نہیں رہ سکی ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ خیبر پختون خوا کا کیا علاج کروں ؟ کے پی کے والے کیسے حکومت کا نظام چلا رہے ہیں ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ خیبر پختون خوا کی حکومت کو پانچ پانچ لاکھ کے جرمانے ہورہے ہیں ۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف قرارداد میں ن لیگ نے کہا ہے کہ بزدار کی سرپرستی میں پنجاب کرپشن کا گڑھ بن گیاہے ۔ جس کام کے لیے پہلے ایک ہزار روپے رشوت طلب کی جاتی تھی ، اب اُس کے لیے دس ہزار روپے طلب کیے جارہے ہیں ۔ پنجاب میں ایک بھی میگا پروجیکٹ شروع نہیں کیا گیا ہے مگر کرپشن میں تین سو فیصد ضرور اضافہ ہوگیا ہے ۔ بلوچستان میں تو وزیر اعلٰی کے خلاف تحریک کے محرک کوئی اور نہیں خود صوبائی اسپیکر ہیں ۔ انہوں نے اپنی تحریک میں کہا ہے کہ بلوچستان میں اس سے قبل اتنی بدترین حکومت نہیں دیکھی ۔ جو کچھ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے ، اس کے پس منظر میں تینوں صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت پر کرپشن کے الزامات کو دیکھیں تو حیرانی نہیں ہوتی ۔ ملک کے سارے ہی ذرائع ابلاغ میں یہ کہانی عام ہے کہ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب قلت یا کوئی اور وجہ نہیں ہے بلکہ اس کی واحد وجہ سرکاری بنچوں میں بیٹھے ہوئے افراد کی کرپشن ہے ۔ اس ضمن میں کھلے عام نام بھی لیے جارہے ہیں ۔ اس کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نیازی نے کرپٹ افراد کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے بجائے عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ذرائع ابلاغ اور سماجی میڈیا کو دیکھنے ہی سے اجتناب برتیں ۔ نہ عوام کے علم میں سچائی آئے گی اور نہ تحریک انصاف کی حکومت پر کوئی آنچ آئے گی۔ حقیقت سے آنکھیں چرانے ہی کایہ نتیجہ نکلا ہے کہ دو سال مکمل ہونے سے قبل ہی عمران خان کی تینوں صوبائی حکومتوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ وفاقی حکومت پہلے ہی ڈانوا ڈول ہے ۔ لے دے کر اسٹیبلشمنٹ کا سہارا ہے جس کے بل پر عمران خان نیازی اپنی حکومت کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہیں ۔ مہنگائی نے عوام کے سارے کس بل نکال دیے ہیں ۔ جس تیزی کے ساتھ عمران خان نیازی کے دور حکومت میں مہنگائی بڑھی ہے ، اتنی تیزی سے تو دوران جنگ بھی ملکوں میں مہنگائی کا گراف اوپر نہیں جاتا ۔ اس پرمزید عمران خان نیازی کی کابینہ کے ارکان کی اٹھکھیلیاں ہیں کہ ختم ہونے میں نہیں آرہی ہیں ۔ ان وزراء اور مشیروں کے بیانات کو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہی کہا جاسکتا ہے ۔ اب تو وزیر اعظم عمران خان نیازی کو پیش کردہ رپورٹ میں بھی واضح الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں گندم بحران کی وجہ اس کی قلت نہیں بلکہ یہ بحران حکومت میں شامل افراد اور متعلقہ محکمہ کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کو پیش کردہ یہ رپورٹ بھی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی تصدیق ہے ۔ اس وقت مہنگائی کے نتیجے میں ہر شخص متاثر ہے ۔ سفید پوش افراد اب غربت کی لکیر سے نیچے پہنچ گئے ہیں ۔ یہ صورتحال اگر ایسے ہی جاری رہی تو وہ وقت دور نہیں جب اسمبلیوں میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومتوں کے خلاف ہونے والی بغاوت عوامی بغاوت میں تبدیل ہوجائے ۔ وزیر اعظم عمران خان نیازی کو دیوار پر لکھا ہو ا پڑھ لینا چاہیے ۔ اب بھی وہ اگر دو خاندانوں کی کرپشن کی کہانی کے سحر میں گرفتار رہے اور اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کا قلع قمع نہ کیا تو پھر یہ سیلاب بلا انہیں بھی بہا کر لے جائے گا ۔ اس میں اپوزیشن کا کوئی کمال نہیں ہوگا بلکہ یہ سب کیا دھر ااُن کی اپنی معاشی ٹیم اور وزراء کا ہے ۔ عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ پہلے کیا ہوا تھا ، وہ تو بس ایک بات جانتے ہیں کہ موجودہ دور میں مہنگائی نے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں ، صنعتیں بند ہورہی ہیں اور بے روزگاری نے ہر سُو ڈیرے ڈال دیے ہیں ۔ کرپشن کرنے والے پہلے سے زیادہ بیباک ہوگئے ہیں ۔ تنگ آمد بجنگ آمد ، بھوک سے بے حال ہجوم اگر عمران خان نیازی اور ان کی ٹیم کا گھیراؤ کرلے تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوگی ۔